سری لنکاشدید اقتصادی بحران کی گرفت میں، صدر کی رہائش گاہ کے باہرزبردست احتجاج

0

کولمبو (یو این آئی) : سری لنکا میں جاری معاشی بحران کے درمیان بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان لوگ جمعرات کو دیر رات دارالحکومت کولمبو میں سڑکوں پر اتر آئے اور حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے ان کا غصہ پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گیا ۔ پولیس اورمظاہرین کے درمیان ہوئی جھڑپ کے بعد 45افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ مظاہرین نے پولیس کی بس اورجیپ سمیت 2موٹرسائیکلوں اورایک ٹرک کو نذر آتش کر دیا۔ اس کے بعد پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور آخر کاردارالحکومت میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ دارالحکومت میں صدر گوٹابایا راج پکشے کی نجی رہائش گاہ کے باہر ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے۔ پولیس کو یہاں جمع ہونے والے مشتعل لوگوں کے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے استعمال کے ساتھ تیز پانی کا بوچھار کرنی پڑا۔اس دوران مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز لے کر ’گوٹا گھر واپس جاؤ‘ جیسے کئی حکومت مخالف نعرے لگائے اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، کیونکہ وہ ملک کی معیشت کو ٹھیک سے نہیں سنبھال پا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سری لنکا میں گزشتہ چند ہفتوں سے معاشی بحران میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ خوردنی اشیاء، ایندھن اور رسوئی گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ آسمان چھوتی مہنگائی کے باعث عوام کا غصہ پھوٹ پڑا۔ سری لنکا کے پاس زرمبادلہ کی کمی ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ پرانے قرضے ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ سری لنکا کے پاس اتنے ڈالر بھی نہیں ہیں کہ وہ قرضہ اتار سکے ۔ سری لنکا میں یہ معاشی بحران اس سال کے آغاز سے مزید گہرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ بہت زیادہ متاثر ہیں۔ پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ مشتعل مظاہرین نے پولیس اور دیگر گاڑیوں کو نذر آتش کیا ۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور پانی کی بوچھار کا استعمال کیا۔سری لنکا میں گزشتہ کئی ہفتوں سے اشیائے خوردونوش کی قلت اور گیس اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لوگ پریشان تھے ، اس دوران بجلی کی سپلائی بھی بری طرح متاثر ہوئی، جس نے آگ میں ایندھن کا کام کیا ۔ اس کے بعد لوگ حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے دارالحکومت کی سڑکوں پر اتر آئے ۔ عوام کا یہ غصہ کل رات پرتشدد مظاہروں کی صورت میں سڑکوں پر دیکھا گیا ۔خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 5 ہزار لوگ دارالحکومت میں سڑکوں پراترے۔ ہاتھوں میں حکومت مخالف تختیاں لیے ہوئے لوگ صدر گوٹابایا راج پکشے کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے ۔
راشٹرپتی بھون کے قریب جمع مظاہرین ‘گوتابایا واپس جاؤ’کے نعرے لگا رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ ملک کی معیشت کو سنبھالنے میں ناکام رہنے والی اس حکومت کو اقتدار سے باہر ہو جانا چاہئے ۔