’ریزرویشن کے وعدے کو انتخابی منشور میں شامل کیا جائے‘

0
Enabled

لکھنؤ، (پی ٹی آئی) : اترپردیش اسمبلی الیکشن کی تیاریوں کے درمیان سیاسی پارٹیوں سے درج فہرست ذات اور قبائل اور پسماندہ طبقات کے اہلکاروں کیلئے پروموشن میں ریزرویشن اور پرائیویٹ سیکٹر میں ریزرویشن کے نظام سے متعلق وعدوں کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ’آرکشن بچائو سنگھرش سمیتی‘ کے کنوینر بورڈ نے اتوار کو سبھی سیاسی پارٹیوں کو ایک کھلا خط لکھا ہے ۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ صحیح معنی میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کے سچے بہی خواہ ہیں تو درج فہرست ذات و قبائل اور پسماندہ طبقات کے اہلکاروں کیلئے پروموشن میں ریزرویشن کا نظام بحال کرنے اور سرکاری شعبہ کی طرح پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ریزرویشن کا نظام نافذ کرنے کے وعدوں کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کریں۔ سمیتی کے کنوینر اودھیش کمار ورما نے بتایا کہ سمیتی کے کنوینر بورڈ کی آج ضروری میٹنگ ہوئی۔ اس میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ اس بار ریاست میں ہر حال میں ریزرویشن حامیوں کی سرکار بنانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب سبھی سیاسی پارٹیوں کی یہ مجبوری ہوگی کہ وہ 85 فیصد بہوجنوں کی آواز پر ان کے ساتھ کھڑی ہوں، ورنہ ریزرویشن حامی انہیں ووٹ کی کراری چوٹ دیں گے۔
اودھیش کمار ورما نے بتایا کہ ریزرویشن بچائو سنگھرش سمیتی اترپردیش کی 86 ریزرو سیٹوں پر الگ الگ کمیٹیاں تشکیل کر کے اس بات کو لے کر بیداری پیدا کر رہی ہے کہ وہ ریزرویشن حامی سرکار بنانے کے لیے ہی ووٹ ڈالیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طویل مدت سے یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ریزرو سیٹ سے جیتنے والے زیادہ تر عوامی نمائندے منتخب ہونے کے بعد ریزرویشن پر ہونے والے ناپاک حملوں پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور جب ان سے ریزرویشن کی لڑائی لڑنے کو کہا جاتا ہے تو پارٹی کی مجبوری بتا کر اپنا پلہ جھاڑ لیتے ہیں۔