صدر جمہوریہ اور گورنر کے عہدوں کی حرمت

0

محمد حنیف خان

جمہوریت میں آئین سے بڑی کوئی کتاب نہیں ،جس کا نفاذ ملک کے عوام کے لیے خوشحالی کا ضامن ہے،چونکہ جمہوری آئین میں حکمرانوں سے زیادہ عوام پر توجہ ہوتی ہے اس لیے اس کی روح کے ساتھ اس کا نفاذ حکمراں طبقے کے لیے گراں گزرتا ہے جس کی وجہ سے وہ ایسی شقیں نکالتا ہے یا ایسا نیا قانون وضع کرتا ہے جس سے اس کے لیے آسانیاں پیدا ہوجائیں۔بسا اوقات ایسی روایت ڈال دی جاتی ہے جسے آئین کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔حکمراں طبقہ ہو یا حزب اختلاف دونوں اس پر انگلی نہیں اٹھاتے ہیں کیوںکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ آج نہیں تو کل وہ بھی اقتدار میں آسکتے ہیں، ایسے میں وہ پالیسیوں اورایجنڈوں میں اختلاف کے باوجود ایسی جگہ پر خاموشی ہی اختیار کرنا زیادہ مناسب تصور کرتے ہیں۔کانگریس ہو یا بی جے پی یا پھر ریاستوں میں مختلف پارٹیاں، یہ سب آئین اور قانون میں اس طرح شگاف ڈال کر اپنے لیے تو آسانیاں پیدا کرلیتی ہیں لیکن اس سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے، اس جانب توجہ نہیں دیتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی پارٹیوں کی توجہ جمہوریت اور آئین سے زیادہ حکومت سازی پر ہوتی ہے اس لیے ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ایک بار ووٹنگ کے بعد عوام پانچ برس کے لیے حکمراں طبقے کے سامنے صفر رہتے ہیں۔پانچ برس کے بعد ان کو حکومت تبدیل کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ ایسا کر بھی دیتے ہیں مگر آئین اور جمہوریت میں جو شگاف ہوتے ہیں وہ اسی طرح رہتے ہیں، ان میں کسی بھی طرح کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس طرح سیاسی پارٹیوں نے خود آئین میں شگاف ڈال ڈال کر اس کو کمزور کرنے کا کام کیا ہے۔
جمہوری نظام حکومت کی کچھ اچھائیاں ہیں تو اس میں کچھ ایسی خامیاں بھی ہیں جو کبھی کبھی ان اچھائیوں پر بھاری پڑ جاتی ہیں۔جس کی اصلاح کے ذریعہ اس نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے چونکہ اس نظام سے بہتر کوئی دوسرا نظام عوام کے لیے نہیں ہے، اس لیے دنیا میں یہی نظام سب سے زیادہ رائج ہے۔جمہوریت کا نفاذ اور جمہوری طور پر حکومت کا انتخاب دو طرح سے ہوتاہے۔ایک وہ نظام جو امریکہ یا مغرب کے دوسرے ممالک میں نافذ ہے جس میں عوام براہ راست صدرکا انتخاب کرتے ہیں جو دو پارٹی نظام پر منحصر ہے۔انتخابی میدان میں صرف دو ہی پارٹیاں ہوتی ہیں۔ پہلے ان پارٹیوں کے اندر انتخاب ہوتا ہے کہ قومی سطح پر کس چہرے کو صدارت کا امیدوار بنایا جائے، اس کے بعد عوامی سطح پر صرف دو افراد ہوتے ہیں جن میںسے کسی ایک کو منتخب کیا جاتا ہے۔اس نظام میں لچیلا پن کم ہے اور ہر شخص کے لیے مواقع نہیں ہوتے ہیں لیکن جو نظام ہندوستان میں نافذ ہے، اس میںوہ زیادہ وسیع اور مفید ہے،اس سے عوام کو جمہوریت کا زیادہ بہتر طور پر فائدہ ملتا ہے۔اس نظام میں ہر شخص پارلیمانی ممبر کا الیکشن لڑسکتا ہے اور اگر ممبران پارلیمنٹ چاہیں تو اس شخص کو وزیراعظم بھی منتخب کرسکتے ہیں۔مغربی ممالک میں صدر کے پاس زیادہ اختیارات ہوتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں وزیراعظم کو زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔ جہاں تک بات صدر جمہوریہ کی ہے تو دستاویزی سطح پر ضرور وہ وسیع اختیارات کا حامل ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔یہی حال گورنروں کا ہے۔یہ دونوں آئینی عہدے ایسے ہیں جسے ہاتھی کے دانت کہنا زیادہ مناسب ہے۔
حکومت سازی کے لیے دعوت اور اسمبلی اجلاس سے قبل صدر جمہوریہ یاگورنر کے خطاب کے دو ایسے موقع ہوتے ہیں جب یہ ان دونوں کے بارے میں سب سے زیادہ گفتگو ہوتی ہے یا پھر اخبارات میں یہ نظر آتے ہیں۔بہت کم ایسے مواقع آئے ہیں جب صدر جمہوریہ یا گورنر نے حکومتوں سے اختلاف کیا ہو۔ہاں یہ ضرور ہے کہ گورنروں نے ریاستی حکومتوں کے خلاف صدرجمہوریہ کے برخلاف زیادہ محاذ آرائی کی ہے کیونکہ صدر جمہوریہ گورنروں کو ریاستوں میں تعینات کرتا ہے جو مرکزی حکومت کے ذریعہ اس عہدہ جلیلہ پر فائز ہوتا ہے، ایسے میں یہ گورنر بھی مرکز کے آلہ کار کے طورپر بسا اوقات کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ دونوں عہدے پارٹی کے نہ ہو کربھی پارٹی کے زیر اثر نظر آتے ہیں۔اس طرح قومی سطح پر حکومت اور ملک کا سربراہ صدر جمہوریہ جو کسی پارٹی کا نہیں ہوتا اور ریاستی سطح پر گورنرجو ریاست کا سربراہ ہوتا ہے دونوں اس اہم عہدے پر ہونے کے باوجود پارٹی سے اوپر اٹھ کر نہ سوچ سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں جس کا غماز ان کے وہ خطبے ہیں جو پارلیمنٹ یا اسمبلی کے اجلاس کی ابتدا میں ہوتے ہیں۔ان دونوں کے خطبوں کو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک اورریاست میں کسی بھی طرح کی دشواری اور پریشانی کا کوئی سامنا نہیں ہے ہر طرف راوی چین لکھ چکا ہے۔دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ،کوئی یتیم بھوکا نہیں سورہا ،کسی مریض کی موت صحت خدمات کے فقدان سے نہیں ہو رہی،ہر بچہ اسکول پہنچ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے،کوئی شخص بے روزگار نہیں ہے۔ ملک اورریاست میں کسی کو کسی بھی طرح کی کوئی دشواری نہیں ہے۔چونکہ یہ خطبے حکومتوں کی جانب سے لکھ کر دیے جاتے ہیں اور حکومتیں اپنے بارے میں منفی باتیں تو نہیں لکھ سکتی ہیں۔ایسے میں ان کے خطبوں کی اہمیت کیا رہ جاتی ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان دونوں آئینی عہدیداروں کے خطبوں کا تعلق عوامی سروکار سے بالکل نہیں ہوتا ہے، اس کے بجائے ان کا پورا سروکار صرف اور صرف منتخب حکومتوں سے ہوتا ہے۔
ہندوستان میں رائج جمہوری نظام حکومت کی یہ ایک بہت بڑی خامی ہے۔دستاویزی سطح پر ان کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں لیکن عملی سطح پر اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔اگر حکومتیں اس بندش کو ختم کردیں۔ صدر جمہوریہ اور گورنروں کو خطبے لکھ کر دینے کے بجائے اسے ان کی بصیرت پر چھوڑ دیں تو یہ نظام زیادہ مفید ہوسکتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ملک و ریاست کے حالات بھی ان کے خطبوں میں جگہ پا سکتے ہیں اور ممکن ہے حکومتوں کو وہ آئینہ بھی دکھا دیں چونکہ یہ دونوں عہدے دار کسی پارٹی کا حصہ نہ ہو کر اس سے بہت اوپر کے ہیں، ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کے سرپرست کی طرح کمیوں اورخامیوں کو اجاگر کرنے کا ان کو موقع بھی ملے گا جس سے ملک و ریاست کی تصویر میں تبدیلی کا امکان ہے۔اگرصدر جمہوریہ اور گورنروں کے خطبے عوامی سروکار سے تعلق نہیں رکھتے ہیں،اس میں عوام کا دکھ درد نہیں ہے، تعلیم و صحت، روزگار، خواتین و کسان اور کاربارویوں کے مسائل کا ذکر نہیں ہے تو کیا فائدہ ایسے خطبے سے جس میں صرف حکومت کی تعریف ہی تعریف ہو۔حکومتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت میں آئین نے اگر صدر جمہوریہ اور گورنر کو پارٹی سے اوپر کا درجہ دیا ہے تو انہیں وہ اپنی پارٹی لائن میں قید اور انہیں محدود نہ کریں، اس سے عوامی سروکاروں کو تو زک پہنچتی ہی ہے، آئین بھی کمزور پڑتا ہے اور اس عہدے کی بھی بے حرمتی ہوتی ہے۔ان دونوں عہدہ جلیلہ کی حرمت اور وقار عوام کے بجائے ان سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ میں ہے جو اقتدار میں ہیں۔ان کے اس عمل سے عوام میں یہ غلط پیغام گیا ہے کہ یہ دونوں عہدے ہاتھی کے دکھانے کے دانت ہیں۔ حکومتوں اور خود ان دونوں عہدوں پر رہنے والے آئینی عہدیداروں کو اس بات کا خیال ہونا چاہیے کہ وہ اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد پارٹی لائن اور کسی خاص ذہنیت سے بہت اوپر اٹھ چکے ہیں،ان کو کسی کی ہدایت پر عمل کرنے کے بجائے عوامی سروکار سے تعلق رکھنا چاہیے، ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ملک یا ریاست کے سربراہ ہیں، کسی ایک پارٹی کے تنخواہ دار نہیں ہیں۔ان کو پورے ملک کے دکھ درد کو سمجھ کر اپنی ماتحت حکومتوں کو ہدایت دینا چاہیے کہ وہ اس طرح کے کام نہ کریں جو مفاد عامہ کو زک پہنچاتے ہوں۔لیکن یہ اس وقت ہی ممکن ہو سکتا ہے جب وہ سابقہ سیاسی زندگی یکسر قلم زد کرکے پوری طرح سے اس عہدہ جلیلہ کے تئیں خود کو وقف کردیں۔اس تعلق سے سول سوسائٹیز کو بھی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے میدان میں آنا چاہیے تاکہ صدر جمہوریہ اور گورنر کے عہدے کی حرمت اور اس کے وقار کو بحال کرایا جا سکے۔
[email protected]