وزیراعظم مودی کا یوروپ دورہ

0

وزیراعظم نریندر مودی اپنے سہ روزہ یوروپ دورہ کے آخری مرحلہ میں آج ڈنمارک میں تھے۔ جہاں انہوں نے ڈنمارک،فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن کے وزرائے اعظم سے ملاقات کی اور دوسری انڈیا -نارڈک سمٹ میں بھی شامل ہوئے۔اس چوٹی کانفرنس میں وبائی امراض کے بعد کی اقتصادی بحالی، موسمیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی اور ابھرتے ہوئے عالمی سلامتی کے منظر نامہ پر غور و خوض کیا گیا۔ چار برسوں کے بعد ہونے والی یہ دوسری انڈیا- نارڈ ک چوٹی کانفرنس تھی جس میں نارڈک خطہ کے ساتھ ہندوستان کے کثیر جہتی تعاون کو فروغ دیے جانے پر بات چیت کی گئی۔ نارڈک ممالک یا شمالی ممالک، شمالی یوروپ اور شمالی بحر اوقیانوس میں واقع خطہ کے ان ممالک پر مشتمل ہیں جنہیں عرف عام میں اسکینڈینیویا بھی کہاجاتا ہے۔ ان میںڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن، جزائرفارو، گرین لینڈ اور جزائر ایلانڈشامل ہیں۔ امریکہ کے علاوہ ہندوستان واحد ملک ہے جس کے ساتھ نارڈک ممالک کانفرنس کی سطح پر بات چیت کرتے ہیں۔ اس کانفرنس میں سربراہ مملکت کے طور پروزیراعظم نریندر مودی کی شرکت نارڈک ممالک کے ساتھ ہمارے روابط اور تجارتی تعلقات کے استحکام کیلئے لازم تھی۔اس کے علاوہ بھی وزیراعظم نے الگ سے شمالی یوروپ کے ان ممالک کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کی اور تجارت، توانائی و ماہی گیری کے شعبوں میں تعاون اور دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم کے اس دورہ کا بنیادی مقصد بھی یہی بتایاگیا تھاکہ یوروپی شراکت داروں کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔وزیراعظم کا یہ دورہ کتنا ثمر آور ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیوں کہ وزیراعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب یوروپ کوبہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اب تک مفاہمت کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک کی پابندیوں کا روس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ جبکہ یوکرین نیٹو ممالک سے مدد کی امید میں تباہ حال ہے۔یوروپ میں جنگ کے اس بحران سے قبل دو سال کورونا نے نگل لیے ہیں جس کی وجہ سے یوروپ کے مختلف ممالک میں معاشی بحران، سماجی اتھل پتھل اور سیاسی بے چینی بھی محسوس کی جارہی ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں ہندوستان کا موقف بڑی حد تک غیر جانبدار انہ رہا ہے۔ امریکہ اور یوروپ کے دباؤ کے باوجودہندوستان نے روس کے خلاف کوئی سخت بیان جاری نہیں کیا۔ لہجہ کی فروتنی برقرار رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمہ کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری پرمصر ہندوستان نے روس کے ساتھ اپنے تجارتی مراسم استوار رکھے اور تیل کے ساتھ ساتھ ہتھیار کی خریداری میں بھی کسی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیا۔حتیٰ کہ اپنے اس دورہ میں بھی یوروپی ممالک کے ہر دبائو سے صرف نظرکرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے ہندوستان کے اسی موقف کا اعادہ کیا اور جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران بھی روس پر براہ راست یا بالواسطہ تنقید سے گریز کیا۔وزیراعظم مودی نے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ روس- یوکرین جنگ میں کسی کی بھی جیت نہیں ہونے والی ہے دونوں فریق کے حصہ میں زخم اور شکست ہی آئیں گے۔
ہندوستان کی جانب سے اپنایا جانے والا ناوابستگی کا یہ اصول روس کیلئے راحت افزارہا تو دوسری طرف اسی ناوابستگی کے اصول پر عمل کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپنے اس دورہ میں ا پنے سویڈش ہم منصب میگڈلینا اینڈرسن کے ساتھ بات چیت کی۔ سویڈن شمالی یوروپ کے ان ممالک میں ہے جو نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے درخواست لیے کھڑے ہیں جس کی وجہ سے روس ان کے خلاف بھی اپنی برہمی کا اظہار کرتا رہا ہے اوران سے تعلقات رکھنے والے ممالک بھی اس کی نظروں میں معتوب ٹھہررہے ہیں لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے روس کی کسی برہمی کی پروا کیے بغیر ہندوستان – سویڈن دو طرفہ شراکت داری میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیااور سویڈن کے ساتھ موسمیاتی ٹیکنالوجی، موسمیاتی کارروائی، گرین ہائیڈروجن، خلا، دفاع، شہری ہوا بازی، آرکٹک، قطبی تحقیق، پائیدار کان کنی اور تجارتی و اقتصادی تعلقات جیسے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دنیا کے موجودہ سیاسی منظر نامہ میں ہندوستان کیلئے یہ وقت ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہے اور وزیراعظم کایہ یوروپ دورہ ہندوستان کیلئے ایک سخت امتحان تھا۔جس سے وزیراعظم بظاہر سرخ رو گزرے ہیں کیوں کہ روس کے خلاف ہندوستان کے موقف سے آزردگی کے باوجود یوروپی شراکت داروں نے تجارت، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہندوستان کے ساتھ تعاون کایقین بھی دلایا ہے۔لیکن اس سے بھی انکار نہیں ہے کہ سربراہان مملکت کے دوروں اور ملاقاتوں کے دوران تعاون، دوستی، ہم آہنگی ا ور امن و امان کی بڑی بڑی باتیں ہوتی ہیں مگر یقینی پیش رفت اور عمل آوری ہی ان باتوں، ملاقاتوں اور دوروں کو کامیابی کی سند دیتی ہیں۔
[email protected]