عید الاضحی پر بکروں کی قیمتیں آسمان پر، خریداروں کی کمی سے تاجر پریشان

0

محمد غفران آفریدی
نئی دہلی (ایس این بی) : ہجری سال کے مطابق سال کاآخری مہینہ یعنی ذی الحجہ کا مبارک مہینہ سایہ فگن ہے اورماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ختم ہو نے کو ہے اور متبرک ماہ میںآنے والا مسلمانوں کا عظیم تہوار عید الاضحی دو دن بعد ہے،وہیںاسلام کا اہم ارکان میں سے رُکن حج کا فریضہ انجام بھی اسی مقدس مہینے کے پہلے عشرہ میں انجام دیا جاتا ہے ۔ جہاں ایک طرف مسلم علاقوں میںعید الاضحی کی تیاریاں زوروں پرہیں ،وہیں بکرا تاجرجگہ جگہ پولیس کی بیری کیڈ نگ اورجانوروں کی حفاظت کا دم بھرنے والی متعدد این جی او کے کارکنان کی غنڈہ گردی سے بیحد پریشان ہیں ۔ذی الحجہ مہینے میں جہاں مسلمان حج بیت اللہ کی زیارت کیلئے راہ خداوندی میں نکلے ہیںتودوسری طرف عید الاضحی کے موقع پرفرزند ان توحیدخداوند کریم کے سامنے خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے جان و مال کی قربانی پیش کرنے کیلئے بھی جانوروںکی خریداری میں مصروف ہیں،چونکہ اب جبکہ عیدالاضحی میں محض دو دن رہ گئے ہیں،اسی کے مد نظر قربانی کے جانوروں کی خرید وفروخت کا سلسلہ فصیل بند شہرکی شاہجہانی جامع مسجد سمیت دیگر علاقوں میںکافی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ دراصل مینابازاراوراردوبازار میںلگنے والا بکرابازارکی رونقیں دیکھنے لائق ہیں، لیکن مویشی بیچنے والوں کے مطابق خریدار نہیں ہیں، صرف ویسے ہی لوگوں کی بھیڑ ہے۔ وہیںراجدھانی میں اندرلوک، سیلم پور، جعفرآباد،سیماپوری،نندنگری،اوکھلا،شاہین باغ،بٹلہ ہائوس، جسولہ، لکشمی نگر،شاستری پارک سمیت دیگر علاقوں میں بکرابازار لگا ہوا ہے اور جانوروں کی خریدوفروخت بھی ہورہی ہے۔اگرگزشتہ برسوں کے بازار پر نظر ڈالیں تومعلوم ہوتا ہے کہ اس بار جا نور وں کی قیمت میںمزید اضافہ ہوا ہے،حالانکہ بکرا فروش کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ’راشٹریہ سہارا‘نے جامع مسجد کے مینابازار میں موجود بکرافروشوں سے بات کی تو انہوں نے بتایاکہ ہر چیز پر مہنگائی ہے، توجانوروںپرکیوںنہیںہوگی،جو بکرے گزشتہ سال 15سے20 ہزارروپئے میں فروخت ہوئے تھے،وہ اس بارڈبل قیمت یعنی 30سے 40 ہزارروپئے میں فروخت ہو رہے ہیں۔یو پی سے آئے بکرافروش محمدجاوید نے نمائندہ کو بتا یا کہ اس میںکوئی شک نہیں کہ اس بازار کافی مہنگا ہے ،کیونکہ پورا ملک مہنگائی سے دوچارہے۔انہوںنے بتا یا کہ ہم تقریباً 20برس سے یہاں بکرا فروخت کر نے آتے ہیں، اس سے قبل میرے والد یہاں پر بکرابیچنے آتے تھے لیکن اس بارہمیں جگہ جگہ کھڑے پولیس اہلکاروں نے زبردستی پیسہ وصول کیااور انیمل کیئر سینٹر کے ارکان نے مال بند کروانے کی دھمکی دیتے ہوئے جبراپیسہ وصول کئے،یہاں تک کے مار پیٹ بھی کی ،جس سے بکروں کے ریٹ میں بھی اضافہ ہونا طے ہے،ہم بھی ایک بکرے پر کافی پیسہ خرچ کر کے دور دراز سے لاتے ہیں ۔ایک اوربکرا فروش فرید احمد(راجو) نے بتا یا کہ ہمارے پاس30ہزار سے1لاکھ روپئے تک کے بکرے موجود ہیں،ساتھ ہی اس نے بتایا کہ قیمتوں میں اضافہ ہونا کوئی بڑی بات نہیںہے ،کیو نکہ بکروں کا چارہ سے لیکر گائوں سے لانا سب مہنگا ہوگیاہے۔ میوات کے نورالدین نے بتا یا کہ اچھا اور وزن داربکرا ممبئی، بنگلور جا تا ہے نیز بکروں کی تعداد میںکمی ہونے کے سبب بھی بکرا مہنگا ہوا ہے ۔ابوسلیم خان نے بتایا کہ بکرا کی گاڑی لاتے وقت ہمیںامسال بہت ہی پریشانیوںکاسامنا کرناپڑا، کیونکہ جگہ جگہ پولیس بیرکیڈنگ لگاکر کھڑے تھے جوجبراً وصولی کر رہے تھے اورگاڑی کے تمام کاغذات اورنجی مال ہو نے کے باجود بھی بلا وجہ پریشان کیا ۔ وہیں کچھ بکرا فروشوں نے یہ بھی بتایا کہ جامع مسجدمیں ٹینٹ لگا نے کے بھی موٹی رقم وصولی جارہی ہے ۔ اُنکا یہ بھی کہناتھا کہ ہم مزدور لوگ کھا نے کمانے آئے ہیںاور یہی ہمارا ذریعہ معاش ہے مگر ہمیں طرح طرح سے پریشان کیاجارہاہے نیز اگر اسی طرح کا رویہ آگے بھی ہوتا رہا تو آگے اپنا مزید ما ل نہیںلائیںگے۔دوسری جانب بزرگ سماجی خدمتگارامین الدین نظامی اورمحمد شاکر انصاری نے تشویش کے ساتھ کہاکہ واقعی بقر عید کے پیش نظرمسلمانوں میں ڈر وخوف کاماحول ہے ، مویشی خوف کے سایہ میں اور پچھلے کچھ سالوںمیں شرپسندعناصر اورگئورکشکوں کے حوصلے بلندہیںلیکن افسوس حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیںاٹھائے جارہے ہیں ،ہمارا مطالبہ ہے کہ مسلمانوں کواس تہوارمیں پوری طرح سے تحفظ فراہم کیاجائے ، تاکہ خوشحال اور مطمئن ہوکرتہوارمناسکیں ۔