بجٹ اجلاس میں صدر کا خطاب

0

عامبجٹ سے سرکار کی ترجیحات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی لیے بجٹ اجلاس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اترپردیش اور دیگر چار ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی کے دوران آج بجٹ اجلاس شروع ہوا۔ اس سے خطاب میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے تین طلاق، کاشی، سب کا ساتھ سب کا وکاس اور دیگر موضوعات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں سَوندھی روزگار یوجنا چلائی جا رہی ہے۔ محنت کش لوگوں کے لیے ای-شَرَم پورٹل شروع کیا گیا ہے۔ وبا کی رکاوٹوں کے باوجود بڑی تعداد میں گھروں کو نلوں سے جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خریف کی فصلوں کی خریداری سے 1.30 کروڑ کسان مستفید ہوئے ہیں۔ ملک کے 8 کروڑ سے زیادہ کسانوں کوایک لاکھ کروڑ سے زیادہ کی رقم دی جاچکی ہے۔‘ یہ اچھی بات ہے کہ سرکار کسانوں کے لیے اتنا کر رہی ہے، اسے کسانوں کے لیے کرنا بھی چاہیے۔ لال بہادر شاستری نے ’جے جوان جے کسان‘ نعرہ یوں ہی نہیں دیا تھا، اٹل بہاری واجپئی نے نئے حالات کے تقاضوں کے مدنظر اس نعرے میں ’جے وگیان‘ کا اضافہ کیا تھا مگر ’جے کسان‘ کی تخفیف نہیں کی تھی، آج بھی تخفیف نہیں کی جا سکتی، ہمارے ملک کی جی ڈی پی میں زراعت کی حصہ داری 16.38 فیصد ہے اور اس کے لیبر فورس کا 41.49 فیصد زراعت سے ہی وابستہ ہے۔ سرکار سے یہ امید کی جاتی ہے کہ کسانوں کو رقم دینے کے ساتھ ان کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی بھی کوشش کرے گی تاکہ کسانوں کو یہ نہ لگے کہ سرکار کو ان کا خیال نہیں۔
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا کہ سرکار کے اہم منصوبوں میںسے ایک ہے خواتین کو مستحکم بنانا۔ ان کے مطابق، لڑکیوں کی شادی کی عمر میں اضافہ کر کے لڑکوں کے برابر کرنے کے فیصلے کو سماج نے قبول کیا ہے۔ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ حکومت خواتین کو مستحکم بنانے پر توجہ دے رہی ہے، لڑکی کی شادی کی عمر میں اضافہ بھی قابل فہم ہے مگر یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ملک کے 26.2 فیصد لوگ روزانہ 3.20 ڈالر نہیں کما پاتے۔ اقتصادی بدحالی کی وجہ سے بھی کئی لوگ بہن، بیٹیوں کی شادی کم عمری میں کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ جواب طلب سوال ہے کہ حکومت نے لڑکیوں کی شادی کی عمر میں اضافہ کرتے وقت کیا اقتصادی طور پر بدحال لوگوں کا خیال کیا ہے؟ شادی کی عمر میں اضافے سے لڑکیوں کو فائدہ تبھی ملے گا جب سرکار انہیں تعلیم یافتہ اور خود کفیل بنانے پر زیادہ توجہ دے گی تاکہ لڑکیوں کو بوجھ سمجھنے والوں کے لیے لڑکیاں بوجھ نہ بنیں اور ان کی شادی کی عمر میں اضافے کی وجہ سے سرکار تنقید کا نشانہ نہ بنے۔
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا کہ ملک میں کنکٹی وِٹی بہتر ہوئی ہے، شاہراہوں کی لمبائی بڑھی ہے۔ اس درمیان ملک نے اسپیس، ڈیفنس اور ڈرون کے میدان میں ترقی کی ہے۔ یہ ترقی واقعی ملک کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کنکٹی وِٹی اچھی رہے گی تو اس سے لوگوں کو آمدو رفت میں سہولتیں ہوں گی اور تجارت کرنا بھی آسان ہوگا۔ واجپئی حکومت کی ’پردھان منتری گرام سڑک یوجنا‘ کی وجہ سے بھی ملک میں ترقی گاؤں گاؤں تک پہنچی۔ اسپیس ٹیکنالوجی اور ڈرون پر خصوصی توجہ دینا وقت کا تقاضا ہے۔ ہر جگہ فوج نہیں بھیجی جا سکتی، اس لیے ڈرون چاہیے۔ اسی طرح دفاعی طور پر مستحکم بننے کے لیے سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی بھی ضروری ہے۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے بتایا کہ ’ہم نے ایک سال سے بھی کم مدت میں 150 کروڑ سے بھی زیادہ ویکسین لگانے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ملک میں 70 فیصدسے بھی زیادہ لوگ ایک ڈوز لے چکے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’آیوشمان سواستھ مشن کی مدد سے 80 ہزار سے زیادہ ہیلتھ اینڈ وِلنیس سینٹر کھلے ہیں۔ سرکار نے 8,000 سے زیادہ جن اَوشدھی کیندر بنائے ہیں۔ ہندوستانی فارما کمپنیوں کے پروڈکٹ 180 ملکوں میں پہنچ رہے ہیں۔‘یہ سب ہمارے ملک کے لیے واقعی بڑی کامیابی ہے۔ اس ملک میں سُشُر اور چرک جیسے ماہرین طب گزرے ہیں، آج بھی ہمارے پاس باصلاحیت طلبا کی کمی نہیں، انہیں بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں تو سُشُر اور چرک جیسی شخصیتیں سامنے آ سکتی ہیں مگر حالت یہ ہے کہ تقریباً ساڑھے سولہ کروڑ کی آبادی والے بنگلہ دیش میں 112 میڈیکل کالجز ہیں جبکہ 138 کروڑ کی آبادی والے ہمارے ملک میں 542 ایم بی بی ایس کالجز ہیں۔ اس میں مزید اضافے کا امکان ہے اور ہونا بھی چاہیے، کورونا نے بتا دیا ہے کہ اس ملک کو مزید ڈاکٹرس چاہئیں، دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ عام بجٹ میں سرکار ایجوکیشن اور ہیلتھ کے سیکٹر کے لیے کتنی رقم مختص کرتی ہے، کیونکہ ان دونوں سیکٹروں پر خصوصی توجہ دے کر ہی کسی ملک کی ترقی دیرپا اور مستحکم بنتی ہے۔
[email protected]