لسانی تکثیریت اور ثقافتی تنوع کا تحفظ

0

پروفیسر محمد جہانگیر وارثی
کبھی ہندوستان اوراس سے متصل جنوبی ایشیائی ممالک میں بولی جانے والی زبانیں اب پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ گزشتہ نصف صدی میں ہندوستان کے لوگ بڑی تعداد میں معاشی مواقع کی تلاش میں امریکہ ہجرت کر گئے اور اس کے ساتھ ہی وہ ہندوستانی زبانیں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ ہندوستانی ثقافت اور اس کے لسانی و مذہبی تنوع سے امریکہ کا اثر پذیر ہونا ناگزیر تھا۔ کسی بھی صبح آپ اخبار کھولیں تو آپ کو دنیا میں ایک ابھرتی ہوئی معاشی اور ثقافتی قوت کے طور پر ہندوستان کے حوالے سے ایک مضمون مل جائے گا۔ آپ ٹیلی ویژن آن کریں تو وہاں بھی آپ کو ہندوستان سے متعلق مکمل ٹی وی شوز دیکھنے کو مل جائیں گے۔ حتیٰ کہ وہاں کا ریڈیو بھی روزانہ ہندی مغربی پنجابی موسیقی نشر کرتا رہتا ہے۔ ہندوستان کے عروج کے عالمی رجحان کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہندوستانی ثقافت کو سمجھا جائے۔ تشکیلی اعتبار سے اردو-ہندی دنیا میں تیسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔
تاریخی اعتبار سے ہندوستانی ثقافت اور لسانی تشخص نے امریکہ میں اپنی جگی بنالی ہے اور حالیہ برسوں میں ہندوستان کی اس مصورانہ عکاسی کو 2004 کے سائنس فکشن لَوسٹ جیسے ٹیلی ویژن سیریز میں ہندی کے استعمال کی وجہ سے امریکی میڈیا میں کافی بڑھاوا ملا ہے۔ لَوسٹ کی کہانی کا زیادہ تر حصہ ایک پراسرار نامعلوم جزیرے پر ایک گمشدہ طیارے کے مسافروں کے پھنسے ہوئے عملے کے گرد گھومتی ہے۔ یہ جزیرہ قدرتی طور سے قدیم ہندوستانی پراسرار فن تعمیر کا عکاس معلوم ہوتا ہے اور اس سیریز میں خاص طور پر عام ہندی فقروںجیسے ’’دھرم‘‘ اور ’’نمستے‘‘ کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ فقرے الفاظ کی وسعت کو نہیں دکھاتے، لیکن بنیادی طور پر یہ ایک عجیب و غریب کردار ہے جس کے ساتھ ہندی کو پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد زبان کو محض ڈرامہ کے ناظرین کی تفریح اور دلچسپی کے لیے پیش کرنا ہے۔ بیٹلس جیسے مرکزی دھارے کے مغربی فنکاروں نے ہندی گیتوں کو اپنے گیتوںمیں استعمال کرکے امریکی سامعین کی ہندی کی تفہیم کو تنقیدی اعتبار سے متاثر کیا ہے۔ 1968 میں، بیٹلس کے گٹارسٹ جان لینن نے ’’ایکروس دی یونیورس‘‘ کے نام سے ایک پاپ گانا کمپوز کیا تھا جو ہندوستانی موسیقی کی جزیات اور ماورائی مراقبہ کے عناصر سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس گانے میں سائکیڈیلک راک کی صنف بھی شامل تھی جسے اکثر ایل ایس ڈی اور ہالوسینوجینک منشیات کے استعمال کا حامل سمجھا جاتا ہے اور جس میں سکون بخش ہندی کورس لائن ’’جئے گرو دیو، اوم‘‘ کا بھی استعمال کیا گیا تھا۔ اس گیت میں ہندوستانی روایت کی جڑیں واضح نظر آتی ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ لسانی اعتبار سے ہندوستان دنیا کا سب سے متمول ملک ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ہندوستانی ثقافت کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔مقبول امریکی ثقافت کی مختلف خصوصیات کے حوالے سے ہندوستانی ثقافت کے سبھی اوصاف دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کھانے سے لے کر فلموں تک ہندوستانی ثقافت کے اشتہارات ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک خاص صفت جس میں ہندوستانی ثقافت نمایاں نظر آتی ہے وہ رقص ہے۔ رقص آزادانہ مرضی، توانائی اور جذبات کے اظہار کا ایک شاندار ذریعہ ہے اور ہندوستانی رقص حیرت انگیز طور پر ان خصوصیات کو ظاہر کرنے کا اہل ہے۔ ہر رقص کے پیچھے ایک بڑا ثقافتی پس منظر بھی ہوتا ہے اور علاقائی اور لسانی امتیازات ہر رقص کو منفرد اور قابل دید بنادیتا ہے۔
جب واشنگٹن یونیورسٹی کا ایک طالب علم سویاش امریکہ میں اپنی قوم کی ثقافت اور زبانوں کی مقبولیت کو دیکھتا ہے تو اسے روشن علامات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ سویاش نے کہا کہ ’’یہ جاننایقینی طور پر میرے لیے باعث فخر ہے کہ اس عالمی معاشرے میں جس میں ہم آج رہتے ہیں جہاں یونیورسٹیاںجنوب ایشیا میں استعمال ہونے والی زبانوں کی تدریس کا انتظام کرکے وہاں کی ثقافت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہے۔‘‘ مقامی ہندوستانی برادری اپنے حجم میں بڑھ رہی ہے اور ایک ساتھ مل کر امریکہ میں ہندوستانی ثقافت کے تحفظ میں اجتماعی دلچسپی لے رہی ہے۔ بھرت ناٹیم، راس، گربا، بھنگڑا اور فلمی رقص بنیادی طور پر امریکہ بھر میں دیکھے جانے والے سب سے زیادہ مقبول رقص ہیں۔ خاص طور پر کالج کیمپس میں ہندوستانی رقص کو نئی شکل دی گئی ہے، ان کی فنکارانہ خصوصیات کو بڑھایا ہے اورمختلف قسم کے رقص کو کاریگری کی ایک ایسی معراج بخشی ہے جوکسی نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا تھا۔ رقص پر مہارت حاصل کرنے میں طلبا کی لگن اور دلچسپی نے قومی رقص کے مقابلوں اورخاص طور پر رقص کے لیے بنائی گئی ٹیموں کو تشکیل دیا ہے جو ان مقابلوں میں شرکت کے لیے پورے ملک کا سفر کرتی ہیں۔
بالی ووڈ بھی اپنی زمین سے باہر اپنی مقبولیت میں اضافے کو محسوس کرا رہا ہے۔ یونیورسٹی آف لیڈز کے میڈیا اینڈ میوزک اسٹڈیز کے پروفیسر ڈیوڈ ہیسمنڈھالگ کی کتاب ’’کلچرل انڈسٹریز‘‘ کے مطابق امریکہ میں ہندوستانی آبادی میں اضافے اور میڈیا ٹیکنالوجی میں بہتری نے بالی ووڈ کے لیے امریکہ میں اپنی راہ بنانا آسان بنا لیا ہے۔ہیسمنڈھالگ نے لکھا ہے کہ ’’نئی ویڈیو اور ٹیلی ویژن ٹیکنالوجیز کے ذریعے، امریکہ میں رہنے والے لاکھوں ہندوستانیوں میں ہندی زبان کی فلموں کی مانگ بڑھا دی ہے۔‘‘ ان تازہ پیشرفتوں میں ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی معیشت، تکنیکی جدت اور بڑھتا ہوا سیاسی اثر و رسوخ بھی شامل کر لیں تو اس سے ایک ایسی زبان کو فروغ حاصل ہوا ہے جو بین الاقوامی سطح پر پہلے سے کہیں زیادہ مقبول ہوئی ہے۔
ایک امریکی ترجمان نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ مابعد 9/11دنیا میں امریکی قومی سلامتی پالیسی کا ایک لازمی جزو غیرملکی حکومتوں اور لوگوں سے رابطہ مستحکم بنانا ہے تاکہ اصلاح و تفہیم کو فروغ، دیگر ثقافتوں کے احترام اور امریکہ اور اس کے شہریوں کو مزید بہتر ڈھنگ سے جاننے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
بہرحال ہندوستانی زبانیں سیکھنے کے خواہشمند طلبا کے لیے کاروبار اور خارجہ امور ہی واحد محرکات نہیں ہیں۔ اس میں ایک مضبوط ثقافتی عنصر بھی شامل ہے کیونکہ ہزاروں امریکی نژاد ہندوستانی بچے اب ایک ایسے ملک میں پروان چڑھ رہے ہیں جس کی ثقافت ان کے والدین سے جداگانہ ہے۔واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک دوسری طالبہ اورما کے مطابق ’’یہاں پیدا ہونے کی وجہ سے جو ثقافت ہم کھو چکے ہیں اسے واپس لانے کا یہ ایک شاندار موقع ہے۔‘‘
سچ تو یہ ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم دنیا کے کس حصے میں رہ رہے ہیں، ہمیں دنیا بھر کی متنوع زبانوں اور ثقافتوں کااحترام کرنا چاہیے اور باہمی تفہیم اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
( مضمون نگار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبۂ لسانیات کے سربراہ ہیں۔)
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here