ملک بھر میں بجلی کی صورتحال نہایت سنگین: اروند کجریوال

0

اظہار الحسن
نئی دہلی(ایس این بی ) : وزیر اعلی اروند کجریوال نے کوئلے کی قلت کی وجہ سے ملک بھر میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بجلی کے بحران کے بارے میں ٹویٹ کیا اور کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی صورتحال بہت سنگین ہے۔ ہم سب کو مل کر اس کا جلد حل تلاش کرنا ہوگا۔ اب تک دہلی میں ہم کسی نہ کسی طریقے سے قابو پا رہے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر توانائی ستیندر جین نے مرکزی سرکارسے بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹوں میں کوئلے کا مناسب انتظام کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاکہ عوام کو 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی میں کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔جمعہ کو اروند کجریوال نے بجلی کے بحران کو لے کر ٹوئٹ کیا اور کہا ‘ملک بھر میں بجلی کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اب تک دہلی میں ہم کسی نہ کسی طریقے سے قابو پا رہے ہیں۔ ملک بھر میں صورتحال بہت سنگین ہے۔ ہم سب کو مل کر جلد اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر توانائی ستیندر جین نے جمعہ کو منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ پورے ملک میں کوئلے کی شدید قلت ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ریلوے ریک کی کمی اور کوئلے کی سپلائی میں شدید کمی ہے۔ کوئلے کی اس شدید قلت کے باعث ملک بھر کے تمام پاور پلانٹوںکو بجلی کی پیداوار کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے۔ اس پورے عمل کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی کو ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا، پاور پلانٹ میں روزانہ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے بجلی کے بیک اپ کے لیے ضروری ہے کہ اسے بنانے والے ایندھن کا بیک اپ ہو۔ اس وقت یہ ایندھن کوئلہ ہے جس کی ملک بھر میں سپلائی کم ہوگئی ہے۔ اس موقع پرستیندر جین نے کہا کہ پاور پلانٹ میں بجلی پیدا کرنے کے لیے عام طور پر 21 دنوں سے زیادہ کوئلے کا بیک اپ ہوتا ہے۔مگر آج ملک کے کئی پلانٹس میں صرف ایک دن کا کوئلہ بچا ہے۔ دہلی میں بھی صورتحال سنگین ہے۔ دہلی کو بجلی فراہم کرنے والے تمام پاور پلانٹوں کے پاس صرف ایک دن کا کوئلہ بچا ہے۔ اس وقت سپلائی کے لحاظ سے ہمارے پاس صرف اگلے دن کا کوئلہ رہ گیا ہے۔ الیکٹرک پاور پلانٹ اس طرح کام نہیں کر سکتے۔ کسی بھی صورت میں، کم از کم 7 دن کا کوئلہ ذخیرہ ہونا چاہیے تاکہ پاور پلانٹس اپنی پوری صلاحیت سے کام کر سکیں۔ اس وقت دہلی میں 6000 میگاواٹ کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔ اس کی معلومات پاور کے آن لائن پورٹل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ تمام پاور پلانٹس میں 21 دن سے زیادہ کا بیک اپ ہمیشہ ہوتا تھا لیکن پچھلے کچھ دنوں سے اسے کم کر کے صرف ایک دو دن کر دیا گیا ہے۔وزیر تونائی نے کہا کہ کوئلہ سپلائی کرنا مرکزی سرکارکی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مرکزی سرکارسے اپیل کی کہ وہ ملک بھر میں کوئلے کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ہی ریلوے ریک میں اضافہ کیا جائے۔ جہاں پہلے ٹرین میں 450 ریک تھے اب صرف 405 ہیں۔ جبکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔ اب یہ ریک کم ہو گئے ہیں۔ یہ پاور اسٹیشن دہلی کے کچھ حصوں میں بلیک آؤٹ سے بچنے اور ڈی ایم آر سی، اسپتالوں اور آنے والے موسم گرما کے موسم میں بجلی کی مسلسل فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب تک دہلی سرکار اس سارے معاملے کا انتظام کر رہی ہے، مگر پورے ملک میں حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مرکزی سرکارکو جلد از جلد اس پر مناسب قدم اٹھانا چاہیے تاکہ بجلی کا مسئلہ حل ہو سکے۔دہلی سرکار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ راجدھانی کے کچھ علاقوں میں لوگوں کو بجلی کی بندش کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس وقت دہلی میں 25فیصد سے 30فیصد بجلی کی مانگ ان پاور اسٹیشنوں کے ذریعہ پوری کی جا رہی ہے، جو کوئلے کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس وقت دہلی کو بجلی فراہم کرنے والے مختلف تھرمل اسٹیشنوں میں کوئلے کی شدید قلت ہے۔ نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن (این ٹی پی سی ) کے دادری-II اور جھجر (اراولی)، دونوں پاور پلانٹس بنیادی طور پر دہلی میں بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ مگران پاور پلانٹس میں کوئلے کا بہت کم ذخیرہ بچا ہے۔ اگر مرکزی سرکار کی جانب سے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے تو دہلی میٹرو اور اسپتالوں میں 24 گھنٹہ بجلی کی فراہمی میں مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔