ملک میں غربت کی صورت حال

0

وطن عزیز ہندوستان میں مالدار، امیر اوردولت مند لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے اوردولت وجائیداد کے معاملہ میں ملک کے امیر لوگ دنیا کے ارب پتیوں کا مقابلہ ہی نہیں کررہے ہیں ، بلکہ ان کو پیچھے چھوڑرہے ہیں،لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس قدر یہاں امیر لوگوں کے پاس دولت ہے ، اسی قدر یہاں ایسے بھی غریب ہیں ، جن کی زندگی بمشکل زندگی گزرتی ہے ۔ ملک میں غریب ومفلس حتی کہ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی آبادی 27 کروڑ ہے ۔کتنی عجیب بات ہے کہ ملک کو آزاد ہوئے 75سال ہوگئے اور اس دوران 14وزرائے اعظم، جن میں سے 3دودو بار وزیر اعظم بنے اور14صدر جمہوریہ ہوچکے ، 15ویں صدر جمہوریہ دروپدی مرموکی حلف برداری ہونے والی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس سال آزادی کا امرت مہوتسو منایا جارہا ہے۔ آزادی کے بعد ملک میں ہر چیز بدل گئی ، اگر نہیں بدلی تو لوگوں کی غربت یا معیار زندگی،کیونکہ جتنی آبادی آزادی کے وقت خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی تھی ، اتنی ہی آج بھی گزاررہی ہے ۔صرف تناسب اورفیصد میں تبدیلی آئی ، تعدادمیں نہیں ۔آزادی کے وقت اگر ملک کی 80فیصدآبادی خط افلاس سے نیچے مانی جاتی تھی تو اب 21.9فیصدآبادی،لیکن اگر تعدادکی بات کی جائے تو آزادی کے وقت 25 کروڑ آبادی خط افلاس سے نیچے تھی اوراب 26.9 کروڑ آبادی ۔
اس سے زیادہ تشویش ناک بات اورکیا ہوگی کہ 10سال پہلے یعنی 2011-12 میں خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کے جو اعدادوشمار جمع کئے گئے تھے ، وہی آج بھی پیش کئے جارہے ہیں ۔یعنی اس کے بعد اس حالت یا ان اعدادوشمار پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ۔تب ہی توجب اس بابت لوک سبھا میں سرکار سے سوال کیا گیا تومرکزی وزارت دیہی ترقی کی طرف سے 10سال پہلے کے اعدادوشمار پیش کئے گئے اور غریبی ناپنے کا پیمانہ بھی وہی پیش کیا گیا جبکہ10سال پہلے اس پیمانہ پر پارلیمنٹ کے اندر اورباہر کافی ہنگامہ ہوا تھا ۔اس وقت جب وہ پیمانہ کسی کے حلق سے نیچے نہیں اتررہاتھا تو آج ہوش ربا مہنگائی کے اس دور میں اسے غریبوں کے ساتھ بھونڈا مذاق ہی کہا جائے گا ۔کیونکہ جب رپورٹ نہیں بدلی تو آج بھی سرکار کے نزدیک خط افلاس کی تعریف یہی ہے کہ دیہی علاقوں میں جو 26 روپے یومیہ اورماہانہ 816 روپے اورشہری علاقوں میں 32روپے یومیہ اورماہانہ 960 روپے خرچ نہیں کرپاتا، اسے خط افلاس سے نیچے سمجھاجائے گا ۔26یا32روپے میں کسی کو بھی ایک وقت کا کھانا نہیں مل سکتا اور یہاں پورے کنبہ کے گزربسر کی بات ہورہی ہے ۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب اتنے چھوٹے پیمانے سے 26.9کروڑ لوگ خط افلاس سے نیچے چلے گئے تواگر مہنگائی کے حساب سے وہ پیمانہ تھوڑاسابڑھادیا جائے توخط افلاس سے نیچے کی آبادی کتنی بڑھ جائے گی ۔
سرکارکی رپورٹ کے مطابق ملک میں سب سے زیادہ غریب ریاست چھتیس گڑھ ہے۔جہاں کی 40فیصد آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزاررہی ہے، لیکن اترپردیش ، بہار،جھارکھنڈ، منی پور، آسام، اروناچل پردیش، اوڈیشہ اور مدھیہ پردیش میں بھی صورت حال اچھی نہیں ہے ، وہاں بھی 30 فیصدیا اس سے زیادہ یعنی ہر 10میں سے تیسراشخص خط افلاس سے نیچے آتا ہے ۔جہاں اتنی بڑی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزاررہی ہو،ان لوگوں کے لئے امرت مہوتسوکا جشن کیا معنی رکھتا ہے ؟ یہ ایک اہم سوال ہے ، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے اورکچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ تبھی حالات میں تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے ۔صورت حال کو نظر انداز کرنے اورباربارایک ہی رپورٹ کو پیش کرنے سے سماج میں اچھاپیغام نہیں جائے گا ۔بلکہ لوگوں میں مایوسی پھیلے گی ، جس سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں ۔
[email protected]