سری لنکا میں عوامی مزاحمت

0

سری لنکا میں آج جو کچھ ہورہاہے اسے ’ عمل کا ردعمل‘، انصاف کا ’آفاقی عمل‘ اوراس سے بھی آگے بڑھ کر ’ انقلاب ‘ سے تعبیر کیاجائے تو غلط نہیں ہوگا۔ ہر چند کہ یہ انقلاب ابھی کامیابی سے کوسوں دور ہے۔ عبوری صدر نے مظاہرین کو ان کی جرأت کا مزہ چکھانے کیلئے فوج کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ لیکن حکمرانوں کیلئے مظاہرین کے سینوں میں دہکتے غصہ و اشتعال اور دلوں میں نفرت اور انتقام کی سلگتی چنگاریوں کو دیکھتے ہوئے یقین ہے کہ اگر یہ مغرور و متکبر گردنوں کے مہروں کو سرمہ نہ بھی بناسکے تو ایک ایسی تبدیلی لائیں گے جو اس جزیرہ میں روشن صبح کی نقیب ثابت ہوسکتی ہے۔
بے روزگاری،دیو ہیکل مہنگائی اورشدیدترین قلت خوراک کے شکارسری لنکن عوام کے فقید المثال احتجاج اور مظاہرہ کے بعد اقتدار چھوڑنے کا وعدہ کرنے والے صدر گوٹابیا راج پکشے ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔ جس کے بعد مظاہرین نے یہ مطالبہ کیا کہ وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے اپنے عہدے سے دستبردار ہوجائیں لیکن وکرما سنگھے نے عوامی مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے خود کو قائم مقام صدر کے درجہ پر فائزکرلیا۔ان کا یہ عمل عوام کے غصہ کی آگ پر تیل کاکام کرگیا اوردارالحکومت کولمبو میں بدھ کی صبح سے ہی بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے کے دفتر اور پارلیمنٹ کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کیااور ان کے دفتر پر قبضہ کرلیا۔ مظاہرین سرکاری نیوز چینل ’ سری لنکاروپا واہنی کارپوریشن‘ کے دفتر بھی پہنچے اور انہوں نے اس کی نشریات بند کر دیںاور کہا کہ اب سے ٹیلی ویژن پر صرف عوامی تحریک سے متعلق ہی باتیں نشر کی جائیں گی۔اس سے پہلے بھی ہفتہ کے روز مظاہرین راشٹرپتی بھون میں داخل ہو گئے تھے اور وہاں کے اسباب عیش و نشاط کو دیکھ کر غصہ سے پھنک اٹھے تھے۔
عوامی احتجاج سے بوکھلائے ہوئے قائم مقام صدر اور وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے نے حالات کو بہتر بنانے کی کسی مثبت کوشش کے بجائے ملک میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کا اعلان کردیااور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کی ذمہ داری چیف آف ڈیفنس اسٹاف، تینوں مسلح افواج کے کمانڈروں اور انسپکٹر جنرل پولیس کو دی ہے۔پولیس اور مسلح افواج مظاہرین پر قابو پانے کے نام پر ظلم و جبر کی نئی تاریخ لکھ رہی ہیں۔ہیلی کاپٹر سے نگرانی کرکے تاک تاک کر مظاہرین کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ہوائی فائرنگ میں اب تک درجنوں مظاہرین کو خاموش کردیاگیا ہے لیکن ان سب کے باوجود حکومت کے خلاف نفرت اور مظاہرین کا جوش و ولولہ ماند نہیں پڑرہاہے۔ ایمرجنسی کے اعلان کو بھی مظاہرین ٹھوکروں میں اڑارہے ہیں۔عوام کایہ اشتعال کسی ’ حزب اختلاف‘ کی کوئی سازش نہیں ہے بلکہ حالات کے جبر سے پیدا ہونے والا وہ ردعمل ہے جو اب تک دبا ہوا تھا۔ ملک میں حالات کتنے خراب ہیں اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت کولمبو میں بھی لوگ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کا تیل لینے کیلئے کئی کئی دن لائن میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ اس سے پہلے بھی سری لنکا کے عوام اپنے غم و غصہ اورا شتعال کا مظاہرہ کرچکے ہیں،کئی بار سڑکوں پر بھی نکل چکے تھے اور حکومت کو حالات خراب ہونے سے بچانے کیلئے تنبیہ کی تھی لیکن مہینوں گزرنے کے باوجود حکومت حالات کو سنبھال نہیں سکی، اس کے برخلاف حالات مزید ابتر ہونے لگے اور آج بجلی کی طویل بندش، شدید گرمی اور اشیائے ضروریہ کی شدید ترین قلت نے عوام کو ’کرو یا مرو‘ کے مقام پر لاکھڑاکردیا ہے۔ ان کی قوت برداشت آخری حدوں کو چھونے لگی ہے۔
عوام ان حالات کا ذمہ دارملک کے مفرور صدر گوٹابیا راج پکشے اور ان کے خاندان کو سمجھتے ہیں اور یہ غلط بھی نہیں ہے کیوں کہ راج پکشے خاندان گزشتہ دو دہائی سے کسی نہ کسی طور پر حکومت میں شامل ہے۔ ان کے بھائی مہندا راج پکشے ملک کے سابق صدر اور سابق وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ گوٹابیا راج پکشے کے تمام بھائی، ان کے بیٹے، بھتیجے، پوتے اور گھر کے دیگر لوگ بھی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ تین برس قبل بھی سری لنکا کے عوام نے بڑے چائو سے گوٹابیاراج پکشے کو حکومت کیلئے منتخب کیاتھا لیکن راج پکشے حکومت عوام کی بہتری،ان کے دکھ اور تکالیف کم کرنے کے بجائے ملک کی پوری معیشت پر قابض ہونے لگی۔موجودہ حکومت میں بھی راج پکشے خاندان کے اتنے لوگ شامل ہوگئے کہ ملک کے مجموعی بجٹ کاستر فیصد حصہ اسی خاندان کی وزارتوں کے قبضہ قدرت میںچلاگیا اور زرمبادلہ کے ذخائر خالی ہوگئے۔ ملک کے عوام غربت کی راہ پر کھڑے کنگال ہوتی ہوئی معیشت کو تکتے رہے، معاشی محاذ پر سری لنکا دیوالیہ ہوگیا۔ عوام کی امنگوں و آرزوئوں کا خون کرنے کے بعد گوٹابیا راج پکشے ملک سے فرار ہوگئے۔ان حالات میں وہی کچھ ہورہاہے جو ہونا چاہیے تھا۔ عوام کا یہ احتجاج ایک انقلاب ہے جسے کچلنے کیلئے رانیل وکرما سنگھے نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ سری لنکا کے عوام حکومتی جبرکی زنجیروںکو توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیںمگرمزاحمت اور جدوجہد کاآغازکرکے انہوں نے تبدیلی کا ناقوس ضرورپھونک دیاہے۔
[email protected]