پونچھ: گولہ باری میں مارے جانے والے ایک ہی کنبے کے تین افراد کے گھر ماتم 

    0

    جموں: جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے نتیجے میں فوت ہونے والے ایک ہی کنبے کے تین افراد کا گھر جہاں ماتم کدے میں تبدیل ہوا ہے وہیں پورے گاؤں میں بھی خوف ودہشت کا ماحول چھایا ہوا ہے۔
    بتادیں کہ ضلع پونچھ میں ایل او سی پر جمعے کی رات قریب نو بجے ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے نتیجے میں ایک ہی کنبے کے تین افراد لقمہ اجل بن گئے۔
    مہلوکین کی شناخت محمد رفیق، ان کی اہلیہ رافیہ بی اور ان کا فرزند عرفان احمد ساکنان کھری کرمارہ کے بطور ہوئی ہے۔
    مہلوکین اپنے گھرواقع کھری کرمارا میں بیٹھے تھے کہ ایک مارٹر گولہ گرا جس کی وجہ سے ان کی بر سر موقع ہی موت واقع ہوئی جبکہ گھر کا ایک اور فرد زخمی ہوا۔
    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ  سرحد پر برسہابرس سے کشت وخون کا یہ سلسلہ جاری ہے جس میں ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔انہوں نے انتظامیہ سے جمعے کی رات ہلاک ہونے والے ایک ہی کنبے کے تین افراد کے لواحقین کو امداد اور نوکریاں فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ایک مقامی شخص نے بتایا کہ دونوں ممالک کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے تاکہ انسانی جانیں بچ سکیں۔
    انہوں نے کہا: 'گولہ باری کے تبادلے میں آج تک ہزاروں لوگوں،جن میں فوجی اہلکاربھی شامل ہیں،کی جانیں ضائع ہوئی ہیں، ہماری دونوں ممالک سے اپیل ہے کہ وہ صبر تحمل سے کام لیں'۔
    موصوف نے کہا کہ ہماری انتظامیہ سے مہلوکین کے لواحقین کو بھر پور امداد کے علاوہ نوکریاں فراہم کرنے کی اپیل ہے۔ایک اور مقامی باشندے نے کہا کہ یہ سلسلہ عرصہ دراز ہو رہا ہے اور پھر حکام نے بنکر تعمیر کرنے کی اسکیم بنائی تھی لیکن وہ بھی کہیں نہیں ہے۔
    انہوں نے کہا کہ گذشتہ شب کے واقعے کے بعد پورا گاؤں سہما ہوا ہے اور ہر طرف خوف ودہشت طاری ہے۔قابل ذکر ہے سال 2003 میں ایک جنگ بندی معاہدہ طے پانے اور گذشتہ کئی ماہ سے جاری کورونا قہر کے باوجود بھی جموں وکشمیر میں ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق امسال اب تک طرفین کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے زائد از دو ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں دونوں ممالک کو نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔
     

    سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS