یوپی میں سیاسی ہلچل تیز

0

دہلی کا راستہ اترپردیش سے ہوکر ہی جاتا ہے۔ یہ جملہ صرف جملہ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے اور آزادی کے بعد جب سے پارلیمانی انتخابات شروع ہوئے ہیں، اترپردیش نے اس بات کو ثابت بھی کیا ہے کہ مرکز میں وہی پارٹی اقتدار میں آتی ہے جو اترپردیش میں کامیابی حاصل کرتی ہے۔ ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں کو نہ صرف اس بات کا اندازہ ہے بلکہ شدت سے اس کا احساس بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی سیاسی جماعتوں کے لیے اترپردیش کے الیکشن انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ کانگریس نے ملک پر عرصہ دراز تک حکومت کی تو اس میں اترپردیش کا ہمیشہ اہم کردار رہا۔ کانگریس کے بعد جنتاپارٹی، جنتادل اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اترپردیش کے سہارے ہی مرکز میں حکومت قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی پارٹیوں کے لیے اترپردیش کے انتخابات کرو یا مرو کی صورت اختیار کرجاتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں نے اترپردیش پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے، کیوں کہ عنقریب (2022 ) اترپردیش میں اسمبلی کے انتخابات ہونے ہیں اور سبھی پارٹیوں نے اپنے اپنے طریقہ سے اس کی تیاریاں کافی پہلے سے شروع کردی ہیں۔
بھارتیہ جنتاپارٹی ایک جانب اپنی پوری طاقت لگاکر دوبارہ اترپردیش میں حکومت قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، کیوں کہ اسے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ 2022 میں اگر وہ اترپردیش میں دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں اس کا زبردست فائدہ ہوگا۔ دوسری جانب دیگر سیاسی جماعتیں بھی اترپردیش میں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا رہی ہیں۔ پرینکاگاندھی کی قیادت میں کانگریس بھی پوری طاقت سے یوپی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی بات کررہی ہے۔ کسان تحریک کے تعلق سے پرینکا گاندھی کی سرگرمی نے کانگریس کو ایک طرح سے یوپی میں نئی زندگی عطا کی ہے لیکن ابھی کانگریس کے لیے اترپردیش میں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔بہوجن سماج پارٹی کا اپنا ایک ووٹ بینک ہے اور وہ بھی اترپردیش میں کئی مرتبہ حکومت بناچکی ہے۔ 2022 میں بھی بی ایس پی سربراہ یوپی میں حکومت بنانے کا دعویٰ کررہی ہیں اور پوری طاقت سے الیکشن لڑنے کی تیاری کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ سماج وادی پارٹی بھی پوری طاقت سے اسمبلی الیکشن لڑنے کی تیاری میں مصروف ہے۔ کانگریس اور بی ایس پی نے پہلے ہی یہ اعلان کررکھا ہے کہ وہ اپنے دم پر تن تنہا یوپی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گی، لیکن سماج وادی پارٹی کے قومی صدر وسابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ اترپرد یش میں بھارتیہ جنتاپارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے تو اس کے لیے دیگر پارٹیوں کے ساتھ گٹھ بندھن کرنا ضروری ہے۔ کیوںکہ اگر سبھی پارٹیاں علیحدہ علیحدہ الیکشن لڑیں گی تو اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا اور یوگی کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر بی جے پی اترپردیش میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی، لیکن ماضی میں بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس کے ساتھ سماج وادی پارٹی کے انتخابی اتحاد کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔اسی لیے اکھلیش یادو نے بہت پہلے ہی یہ اعلان کردیا تھا کہ وہ اترپردیش میں کسی بڑی پارٹی سے گٹھ بندھن نہ کرکے چھوٹی چھوٹی پارٹیوں سے گٹھ بندھن کرکے 2022 کے اسمبلی الیکشن میں جائیں گے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ یوپی میں کئی چھوٹی چھوٹی پارٹیاں کچھ مخصوص علاقوں میں اپنا اثر رکھتی ہیں، جس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے میں سماج وادی پارٹی کو فائدہ ملنے کی امید ہے اور دوسری بات یہ کہ یہ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں جو5 سے 10 یا 15 سیٹوں تک محدود ہیں وہ کسی بھی طرح سماج وادی پارٹی کے لیے اترپردیش میں چیلنج پیش نہیں کرسکتیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر الیکشن میں کامیابی کی صورت میں یہ بات صدفیصد یقینی ہے کہ کمان سماج وادی پارٹی کے ہاتھ میں ہی رہے گی۔
سماج وادی پارٹی نے اپنے اس موقف پر بہت پہلے سے عمل بھی شروع کردیا تھا اور اپنی مخصوص حکمت عملی کے تحت پوروانچل میں اپنا اثر رکھنے والی پارٹی ’سوہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی‘ جو سابقہ الیکشن میں بی جے پی کے ساتھ تھی،اس کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور راج بھر نے اعلان کیا ہے کہ وہ بی جے پی کو اقتد ار سے بے دخل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ پوروانچل کے بعد اکھلیش یادو نے مغربی یوپی پر اپنی توجہ مرکوز کی اور مغربی یوپی کے مظفرنگر، شاملی، سہارنپور، میرٹھ، بلندشہر، بجنور، متھرا جیسے اضلاع میں اثر رکھنے والی پارٹی راشٹریہ لوک دل کے سربراہ جینت چودھری کے ساتھ کئی ملاقاتوں کے بعد بالآخر دونوں پارٹیوں میں ساتھ مل کر الیکشن لڑنے پر نہ صرف اتفاق ہوگیا، بلکہ سیٹوں کی تقسیم پر بھی اتفاق ہوگیا ہے، جس کے تحت آر ایل ڈی کو کم از کم 30سیٹیں ملی ہیں اور کچھ سیٹوں پر ایس پی لیڈران آر ایل ڈی کے انتخابی نشان پر اور کچھ پر آر ایل ڈی لیڈر ایس پی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑسکتے ہیںاور ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ جلد ہی اکھلیش یادو اور جینت چودھری مشترکہ پریس کانفرنس میں اتحاد کا اعلان کردیں گے۔ راشٹریہ لوک دل سے مل کر الیکشن لڑنے پر ا تفاق ہونے کے بعد عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ اور اپنادل کی کرشناپٹیل نے بھی اکھلیش یادو سے ملاقات کی ہے اور ذرائع سے موصول خبروں کے مطابق مذکورہ لیڈران نے بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا، جس سے سیاسی حلقوں میں ایسی امید کی جارہی ہے کہ عام آدمی پارٹی اور اپنا دل (کرشناپٹیل) سے بھی ایس پی کا اتحاد ہوسکتا ہے اور اگر اکھلیش یادو اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو 2022 کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کے لیے سماج وادی پارٹی ایک بڑا چیلنج پیش کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی طے ہے کہ اگر ایس پی 2022 میں یوپی میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو چھوٹی پا رٹیوں کے ساتھ اس کا گٹھ بندھن 2024 میں بی جے پی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوگا۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here