جہانگیرپوری تشدد معاملہ میں چارج شیٹ داخل

0

ثبوتوں کے فقدان میں دہلی فسادات کا ایک ملزم الزامات سے بری
نئی دہلی (ایس این بی) : جہانگیرپوری تشدد معاملہ میں دہلی پولیس نے روہنی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں 45 لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ان میں سے 3 کلیدی ملزمین سمیت 37 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ 8 افراد تاحال فرار ہیں۔ یہ چارج شیٹ تقریباً 2ہزار صفحات پر مشتمل ہے جس میں بیان اور ثبوت شامل ہیں۔ عدالت 28 جولائی کو چارج شیٹ کا نوٹس لینے پر غور کرے گی۔
تمام ملزمین کے خلاف دفعہ 186، 353، 332، 323، 436، 109، 147، 148، 149، 307، 427، 120B، 34 اور آئی پی سی کے آرمس ایکٹ کے تحت چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ چارج شیٹ میں تبریز، محمد انصار، اشرفیل سمیت متعدد افراد کو کلیدی ملزم بنایا گیا ہے، جبکہ ملزم اشرفیل تاحال پولیس سے دور ہے۔ پولیس کے کرائم ونگ کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں ویڈیو، آڈیو سمیت کئی تصاویر کو بھی ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کل نو آتشیں اسلحہ، 5 گولیاں، 2 کارتوس، 9 تلواریں استعمال کی گئی تھیں اور حادثہ کے وقت 11 ملزمین کے پہنے ہوئے کپڑے برآمد کر لیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری علاقہ میں 16 اپریل کو ہنومان جینتی کے موقع پر 2 فرقوں کے لوگوں کے درمیان تصادم ہوا تھا۔
دوسری جانب دہلی فسادات کے معاملہ میں عدالت نے ایک ملزم روہت کو ثبوت کی کمی کی وجہ سے بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ پولیس نے اس معاملہ میں لاپروائی سے چارج شیٹ داخل کی ہے۔ کڑکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پلستیہ پرماچل نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ملزم غیرقانونی طور پر جمع ہونے والے ہجوم کا حصہ تھا، جس نے شکایت کنندگان کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ جج نے یہ بھی کہا کہ تمام دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پولیس ان واقعات میں ملوث ذمہ دار مجرموں کا سراغ نہیں لگا سکی۔ اس نے لاپروائی برتی اور روہت کو ملزم بنایا۔ عدالت نے روہت کو بری کرتے ہوئے کہا کہ یہ فریق استغاثہ پر منحصر ہے کہ وہ سائٹ پلان میں تینوں مقامات کو واضح اور مستقل مزاجی کے ساتھ دکھائے، لیکن تفتیشی افسران نے ایسا نہیں کیا۔
س سے فریق استغاثہ کو ایک ہی علاقہ میں ہونے والے ایک ہی ہجوم کے تینوں واقعات کو ثابت کرنے میں مدد نہیں ملتی۔
واضح رہے کہ روہت کے خلاف گزشتہ سال اگست میں آئی پی سی کی دفعات 143، 147، 148، 427، 454، 380، 435، 436 اور 149 کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔ عثمان علی کی جانب سے اس کے خلاف شکایت کی گئی اور اس کے بیان کی بنیاد پر رپورٹ درج کی گئی تھی۔