سارا زمانہ مودی کا دیوانہ

0

آسمانمیں سورج، زمین پر موسم اور کلینڈر میں تاریخ کو بھلے بدلاؤ سے گزرنا پڑتا ہو، لیکن وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت پر امکانی طور پر ان سبھی تبدیلیوں سے بے اثر نظر آتی ہے۔ امریکہ کی ڈاٹا انٹلیجنس فرم دی مارننگ کنسلٹ کے نئے سروے نے نئے سال میں وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت کی نئے سرے سے تحقیق کی ہے۔ اس تحقیق کے بعد جنوری 2022تک کی ریٹنگ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم کی سروے میں شامل 71فیصد خواندہ ہندوستانیوں کے درمیان مقبولیت برقرار ہے۔ صرف 21فیصد لوگوں نے انہیں غیرمقبول بتایا اور باقی 8فیصد نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔ دنیا کے 13اہم سربراہان مملکت کے درمیان ہونے والے اس سروے میں یہ مقبولیت کے سب سے بڑے اعداد و شمار ہیں۔ امریکہ کے صدر کو عام طور پر دنیا کا سب سے طاقتور شخص سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے موجودہ صدرمملکت جوبائیڈن بھی سروے میں چھٹے پائیدان پر پچھڑ کر عالمی مقبولیت کے پیمانہ پر ہمارے وزیراعظم کے سامنے بونے ثابت ہوئے ہیں۔ جن انگریزوں نے ہمیں 200سال تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھا اور جن کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ دنیا بھر میں پھیلی ان کی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا، انہی انگریزوں کے موجودہ نمائندے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن تو اس سروے کے ٹاپ-10میں بھی جگہ نہیں بناپائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بائیڈن کی 43فیصد اور بورس جانسن کی 26فیصد ایپروول ریٹنگ کو جوڑ بھی لیا جائے تو ساتھ آکر بھی انہیں وزیراعظم مودی کے پیچھے ہی کھڑا ہونا پڑے گا۔
گلوبل ایپروول ریٹنگ میں ہندوستان کے سب سے بڑے لیڈر کے لیے سب سے زیادہ رینکنگ ملک کے لیے یقینا ہی فخر اور عزت کی بات ہے۔ ویسے بھی یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب پی ایم مودی کو بہترین قرار دیا گیا ہے۔ کئی ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے انعام اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ مارننگ کنسلٹ کے مئی 2020کے مقبولیت کے سروے میں تو وزیراعظم 84فیصد ریٹنگ کے ساتھ سرتاج بنے تھے۔ حالاں کہ مئی 2021میں ان کی ایپروول ریٹنگ کم ہوکر63فیصد تک پہنچ گئی لیکن اس کے محض تین ماہ بعد ہی ستمبر2021کے سروے میں وہ پھر سے سب سے قابل اعتماد عالمی لیڈر تسلیم کیے گئے۔
یہ اس لیے بھی ناقابل تصور لگتا ہے کہ سب کچھ ایسے دور میں ہورہا ہے جب کورونا وبا نے گزشتہ دو سال سے معاشی محاذ پر ملک کی کمر توڑ رکھی ہے۔ چین کے ساتھ سرحدی تنازع برقرار ہے اور زرعی قوانین کے تعلق سے کسانوں کے سوا سال پرانے احتجاجی دھرنے کو ختم ہونے کے بعد بھی ابھی پوری طرح ختم نہیں کہا جاسکتا۔ ان سب کے باوجود وزیراعظم مودی کی بے پناہ مقبولیت اگر حقیقت بنی ہوئی ہے تو اس کی کئی ٹھوس وجوہات ہیں۔
سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ ملک کے عوام ان کے اندر پریوار کے ایک ایسے مکھیا کی شبیہ دیکھتے ہیں جو مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہمت نہ ہارتے ہوئے پورے ملک کا حوصلہ قائم رکھتا ہے۔ نوٹ بندی، سرجیکل اسٹرائک اور کورونا وبا اس کی تین سب سے بڑی مثالیں ہیں۔ جس وبا نے پوری دنیا کو گھٹنوں پر لادیا، طاقتور ممالک میں تباہی مچادی، ترقی یافتہ تہذیبوں کو بھی بھگوان کے آسرے پر لادیا، اسی کورونا کے سامنے کبھی سانپ سپیروں کا ملک کہلانے والا ہندوستان اپنے اسی مکھیا کی قیادت میں نہ صرف سینہ تانے ڈٹ کر مقابلہ کرتا نظر آیا بلکہ بے سہارا ہوچکے دنیا کے کئی ممالک کا سہارا بھی بن کر سامنے آیا۔ تحریک آزادی کے دور میں مہاتماگاندھی نے اچھے انجام کے لیے اچھے وسائل کو ضروری بتایا تھا۔ کورونا سے ’آزادی‘ کی یہ جنگ بھی تالی-تھالی اور شنکھ-دیوں جیسی روایتی اور پاکیزہ علامتوں سے شروع ہوئی اور کورونا واریئرس سے ہوتے ہوئے پہلے کروڑوں ہندوستانیوں کا ایک اہل قافلہ بنی اور پھر دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے کامیاب ٹیکہ کاری مہم میں بدل گئی۔ اس مہم کے تحت ٹیکوں کی اب تک 161کروڑ سے زیادہ ڈوز لگائی جاچکی ہیں جو سیکڑوں ممالک کی ویکسین حصولیابی سے کہیں زیادہ ہے۔ ریکارڈ وقت میں تیار ہوئے کورونا ٹیکوں کی عوام تک پہنچ رہی ڈوز آج نئے ریکارڈ بھی قائم کررہی ہے اور شہریوں کو ان کی سلامتی کا بھروسہ بھی دلا رہی ہے۔ لاک ڈاؤن میں 80کروڑ غریبوں کے لیے اناج کے بندوبست سے لے کر متاثرین کے اکاؤنٹس میں راست معاشی مدد پہنچانے کے دوران آکسیجن کی کمی سے بے حساب اموات اور گنگا میں بہتی لاشوں کے خوفناک دور میں دیش-دنیا سے مدد طلب کرنے اور کمیوں کو پورا کرنے کے لیے زمین آسمان ایک کرتے ہوئے وزیراعظم کی تصاویر کو لگتا ہے کہ ملک کے شہریوں نے اپنی یادداشتوں میں بڑے احترام کے ساتھ سنبھال کر رکھا ہے۔ اس کی اور کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ چاہے لاک ڈاؤن ہو یا پھر اَن لاک کرنے کی پہل، اس کا نفع-نقصان سمجھائے جانے پر کروڑوں شہری اپنے وزیراعظم کی ایک آواز پر ان کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ وزیراعظم کی اس بصیرت انگیز سوچ سے فائدہ اٹھانے والے صرف ہندوستانی ہی نہیں ہیں۔ کورونا وبا کے دوران ہمارے پڑوسی ممالک سمیت پوری دنیا میں پہنچی ہندوستانی ویکسین کئی زندگیاں بچانے میں بھی کارگر رہیں۔ یہ سوچ کا ہی فرق ہے کہ کئی لوگوں نے اس پہل کو ویکسین ڈپلومیسی کا نام دیا، تو وزیراعظم نے اسے ویکسین دوستی بتایا۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ وزیراعظم کی یہ فلاحی سوچ صرف شہریوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے تک محدود ہے، بلکہ اس نے تمام چیلنجز اور بے ضابطگیوں سے گزر چکی ان کی زندگی کے حال کو بھی آسان اور سہولت آمیز بنایا ہے۔ کفایتی گھر، گھروں میں بیت الخلا، پینے کا پانی، کھانے پکانے کے لیے چولہے کے ساتھ گیس، سستی اور بہتر پبلک ٹرانسپورٹیشن، تکنیک کے دور میں ضروری ہوچکے ڈیجیٹل بینک کھاتے، سستی انٹرنیٹ خدمات کی عوامی پالیسی نے ملک کے عام شہری کی زندگی کے تئیں امید وں کو حیات نو دینے کا کام کیا ہے۔
ڈیجیٹل انقلاب کے سبب آج 450سرکاری اسکیموں کے تحت تقریباً 8.22لاکھ کروڑ روپے براہ راست فائدہ کی منتقلی کی وجہ سے سیدھے مستحقین کے کھاتے میں پہنچ رہے ہیں۔ اکیلے اسی اسکیم کے ذریعہ عوامی فلاح کے لیے مقررہ بجٹ کا 60فیصد حصہ نہ صرف ملک کے 90کروڑ لوگوں تک پہنچا ہے بلکہ ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی کی وجہ بھی بنا ہے۔ جس ملک میں دہلی سے چلے ہر ایک روپے کے صرف 15پیسہ کے آخری مستحق تک پہنچنے کی تاریخ رہی ہو، وہاں اتنی بڑی معاشی مدد سے ہورہی تبدیلی کا تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ شہری غریبوں کے لیے چل رہی پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت 50لاکھ غریب پریواروں کو اپنا گھر نصیب ہوچکا ہے اور دیگر90لاکھ پریواروں کا پکی چھت کا خواب بھی جلد پورا ہونے والا ہے۔ ملک کے گھر گھر میں گھریلو نل کنکشن کا دائرہ اگست 2019کے 16فیصد سے بڑھ کر 42فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ وہیں ہر گاؤں کو بجلی گرڈ سے جوڑنے کا کام اب آخری دور میں ہے۔ ایک اور تبدیلی ہے جسے ہوتے دیکھنے کا خواب تو ہر ہندوستانی کا تھا، لیکن وہ سچ کب ہوگا یہ کسی کومعلوم نہیں تھا۔ سال 2014میں جب نریندر مودی وزیراعظم بنے تو اس خواب کو عزم کی رفتار اور سچ کا سائز دونوں مل گیا۔ گزشتہ سات برسوں میں ملک میں 10کروڑ سے زیادہ بیت الخلا بنائے گئے ہیں۔ اس سے کھلے میں رفائے حاجت کا مسئلہ ختم ہونے سے صاف صفائی میں اضافہ ہوا ہے، ساتھ ہی فضلہ اٹھانے والی ذاتوں سے تفریق اور بائیکاٹ کی معاشرتی برائی کا بھی صفایا ہورہا ہے۔ نئے ہندوستان کے اس انقلاب میں سڑکوں، ہائی ویز جیسے بنیادی ڈھانچوں پر100ٹریلین روپے کے خرچ کو بھی جوڑ دیا جائے تو جدید ہندوستان کی تعمیرنو کی جو تصویر اُبھر کر سامنے آتی ہے وہ ہر ایک ہم وطن کے دل میں اپنے وزیراعظم سے متعلق اس جذبہ کو تقویت فراہم کرتی ہے اور بھروسہ کی تصدیق کرتی ہے کہ نتیجہ چاہے جو ہو، کم سے کم ملک کی ترقی اور تبدیلی کا ارادہ تو ہے۔ ایسے میں جب ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘ والا یہ جذبہ اعدادو شمار میں بدلتا ہے تو وزیراعظم کی مقبولیت کا پیمانہ یوں ہی آسمان کی بلندیاں طے کرتا نظر آتا ہے۔
(کالم نگار سہارا نیوز نیٹ ورک کے
سی ای او اور ایڈیٹر اِن چیف ہیں)