سنٹرل وسٹا پر لوگوں کو گمراہ کیا گیا: نریندر مودی

0
image:the logical india

نئی دہلی (یو این آئی) : وزیر اعظم نریندر مودی نے آج سنٹرل وسٹا پروجیکٹ پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے صرف گمراہ کرنے کی کوشش کی اور سیکڑوں سال پرانی اور خستہ حال ڈیفنس کمپلیکس اور بیرکوں میں کام کرنے والے فوجی افسران کی پریشانیوں پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔ جمعرات کو یہاں وزارت دفاع کے کستوربہ گاندھی مارگ اور افریقہ ایونیو میں 2 نئے تعمیر شدہ آفس کمپلیکس کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں مسٹر مودی نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اس پروجیکٹ کی مخالفت صرف گمراہ کرنے اور حقائق اور ضروریات کو نظر انداز کرنے کے لیے کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے پیچھے ڈنڈا لے کر پڑے تھے وہ ڈیفنس کمپلیکس پر خاموش رہے ۔ وہ صرف الجھن پھیلا رہے تھے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت بننے والی ان 2 عمارتوں کو دیکھ کر ملک سمجھ جائے گا کہ حکومت کس مقصد کے لیے کام کر رہی ہے ۔ سابقہ حکومتوں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی نے ان خستہ حال ہٹ مینٹس پر توجہ نہیں دی اور ہر کوئی ان کی مرمت اور پینٹنگ وغیرہ کرکے کام کرتا رہا۔ میڈیا سے بھی سوال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا نے کبھی بھی ان مشکلات اور حالات کے بارے میں نہیں لکھا جن کے تحت ہمارے فوجی افسران خستہ حال عمارت میں کام کر رہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں اور کچھ تنظیموں نے حکومت کے کثیر المقاصد سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ قرار دیتے اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔مسٹر مودی نے کہا کہ ان عمارتوں کو بناتے وقت دارالحکومت کی شناخت، متحرکیت، ثقافت اور ماحول کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یہ آزادی کے 75 ویں سال میں دارالحکومت کی جدید ضروریات اور خواہشات کو ترقی دینے کی طرف ایک قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت صرف ایک شہر نہیں ہے ۔ یہ ملک کی سوچ ، عزم ، طاقت اور ثقافت کی علامت ہے ، جس میں عوام اور جمہوریت مرکز میں ہیں۔ یہ سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کی اصل روح ہے۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ سے جہاں دہلی جیسے شہر میں املاک اور زمین کے ضیاع کو بچائے گا ، وہیں اس سے سرکاری مشینری کی استعداد کار اور صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس منصوبے پر تنقید کر رہے تھے اور حکومت سے سوال کر رہے تھے انہوں نے کبھی خستہ حال ہٹ مینٹس میں کام کرنے والے فوجی افسران کو درپیش مسائل پر سوال اٹھایا تھا۔ یہ ہٹ مینٹس 62 ایکڑ اراضی پر پھیلے ہو ئے تھے اور اب ان کی جگہ یہ دو آفس کمپلیکس صرف 13 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیے گئے ہیں اور یہ سب جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہیں۔
اس کی وجہ سے نہ صرف زمین کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا گیا ہے بلکہ ملازمین کی استعداد کار اور صلاحیتوں کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ ایک جدید دفاعی انکلیو کی طرف ایک بڑا قدم ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 2014 میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے وقت ، انہوں نے محسوس کیا تھا کہ سرکاری مشینری کی حالت اچھی نہیں ہے ، لیکن انہوں نے اس وقت سنٹرل وسٹا کے بیڑے کو نہیں اٹھایا اور اس کی شروعات ملک کی آن ، بان اور شان کے رکھوالوں اور بہادر شہیدوں کی یاد میں قومی وار میموریل ’ بناکر کی۔ اس کے بعد سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کی شروعات بھی ملک کی حفاظت میں اپنی زندگی صرف کرنے والے فوجیوں کے لئے نئے اور جدید آفس بناکر کی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایک نیا ورک کلچر لے کر آئی ہے اور اب ہر کام مشن موڈ میں کیا جا رہا ہے اور ان دو دفاتر کی تعمیر اس کی بہترین مثال ہے ۔ جبکہ ان کی تعمیر میں 24 ماہ لگنے تھے ، وہ صرف 12 سے 13 ماہ میں تیار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ‘‘اگر پالیسی اور نیت صاف ہے ، عزائم مضبوط ہے اور کوششیں مخلص ہیں تو سب کچھ ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر کا کام بھی وقت سے پہلے مکمل ہو جائے گا۔اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو یہاں وزارت دفاع کے دفتر کے احاطے کا افتتاح کیا۔
وزارت دفاع کے یہ آفس کمپلیکس کستوربہ گاندھی مارگ اور افریقہ ایونیو پر واقع ہیں۔ یہ دونوں دفاتر سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت بنائے جانے والے ڈیفنس انکلیو کا حصہ ہیں۔ ان آفس کمپلیکس میں تقریباً 7000 فوجی اور سویلین افسران کے بیٹھنے کا انتظام ہے ۔اس موقع پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ ، وزیر مملکت برائے دفاع اجے بھٹ، شہری ہاؤسنگ اور تعمیرات کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور دفاعی سربراہ موجود تھے ۔ وزیراعظم نے ڈیفنس آفس کمپلیکس کا دورہ بھی کیا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here