طلاق حسن، طلاق احسن، طلاق کنایہ اورطلاق بائن کے خلاف عرضیاں سماعت کیلئے منظور

0

نئی دہلی، (ایجنسیاں): سپریم کورٹ نے منگل کے روز طلاق حسن اور یکطرفہ طلاق کی دیگر تمام اقسام کو غیر آئینی قرار دینے کی درخواست کو قبول کرلیا ہے۔ ابھی تک طلاق حسن کے تحت مسلم کمیونٹی کے مرد 3 ماہ کی مدت میں ہر مہینے میں ایک بار طلاق کہہ کر ازدواجی تعلقات توڑ سکتے ہیں۔ آج جسٹس ایس کے کول کی سربراہی میں تین ججوں کی بینچ نے مرکز، قومی کمیشن برائے خواتین، قومی انسانی حقوق کمیشن اور دیگر سے کہا کہ وہ 4ہفتوں کے اندر اپنے جواب داخل کریں۔ اس بنچ میں بطور رکن جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس وکرم ناتھ بھی شامل تھے۔بے نظیر حنا کے سابق شوہر
کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ وہ گزارا بھتہ کے معاملے پر سمجھوتہ کرنے کےلئے راضی
نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے آئندہ سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے کرنے کی بات کہی ہے۔ سپریم کورٹ 3 الگ الگ درخواستوں کی سماعت کر
رہی ہے۔ انہوں نے مرکز کو ہدایت دینے کی بھی درخواست کی ہے کہ وہ صنفی اور مذہبی طور پر غیر جانبدار اور طلاق کے تمام شہریوں
کےلئے مساوی بنیادوں کےلئے رہنما خطوط تیار کریں۔اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے درخواست گزاروں کے شوہروں سے جواب طلب کیا تھا، منگل
کو جب سماعت شروع ہوئی تو بے نظیر کے شوہر کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو ان کی اہلیہ کے ساتھ تنازع میں کوئی تصفیہ ممکن نہیں
ہے۔ اس پر بنچ نے فریقین سے جواب داخل کرنے کو کہا ہے، ساتھ ہی کہا کہ وہ جنوری 2023 کے تیسرے ہفتے میں سماعت کرے گی۔