بورس جانسن کے بیان سے لوگ مشتعل

0

بورس جانسن کے بیان سے لوگ مشتعللندن: (یو این آئی) برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے روسی حملے کا سامنا کرنے والے یوکرینیوں کی لڑائی کو بریگزٹ کے حق میں برطانوی عوام کے ووٹ سے موازنہ کرنے کے بیان نے زبردست غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ہفتہ کو بلیک پول میں کنزرویٹو پارٹی کے موسم بہار کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جانسن نے کہاکہ ’’میں جانتا ہوں کہ اس ملک کے لوگوں کا فطری رجحان یوکرین کے لوگوں کی طرح ہر وقت آزاد رہنا ہے۔ میں اپنی بات کو بنیاد بنانے کے لیے آپ کو کچھ حالیہ مثالیں بھی دے سکتا ہوں۔ جب برطانیہ کے لوگون نے بریگزٹ کے حق میں اتنی بڑی تعداد میں ووٹ دیا تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ صرف اس لیے ہواکہ وہ دور سے ہی سہی لیکن غیر ملکیوں کے غلام بن کر نہیں رہنا چاہتے تھے، بلکہ وہ مختلف طریقے سے کام کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہتے تھے۔ اس ملک کو اپنے طریقے سے چلانا چاہتے تھے۔
انہوں نے کورونا وبا کے دوران برطانوی لوگوں کو ویکسین لگوانے کی منظوری دینے کے فیصلے کے بارے میں بتایاکہ”لوگوں نے ویکسین لگوانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ زندہ رہنا چاہتے تھے اور مجھ جیسے لوگوں سے تنگ آچکے تھے جنہوں نے لوگوں کو بتایا کہ کیا کرنا چاہئے۔”
برطانوی وزیر اعظم کے اس تقابلی بیان پر نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپ میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔یورپی کونسل کے سابق صدر ڈونلڈ ٹسک نے ٹویٹ کیاکہ “بورس، آپ کے بیان سے یوکرین، برطانوی اور عام فہم لوگ بے عزتی محسوس کررہے ہیں۔‘‘
بی بی سی نے ان کے کنزرویٹو ہم منصب لارڈ بارویل کے حوالے سے کہا کہ ریفرنڈم میں ووٹنگ کسی بھی طرح جنگ میں جان کو لاحق خطرے سے نہیں کی جاسکتی ہے۔ بیلجیئم کے سابق وزیر اعظم گے ورہافسٹیٹ نے کہا کہ اس طرح کے موازنہ پاگل پن سے کم نہیں ہیں۔
لبرل ڈیموکریٹ رہنما سر ایڈکولڈ نے کہا کہ وزیراعظم نے پورے ملک کو شرمندہ کیا ہے، ریفرنڈم میں ووٹنگ کا روسی حملے کا سامنا کرنے والوں سے موازنہ کرنا ہر یوکرینی کی توہین ہے۔