جھانکنا تو اپنے گریباں میں بھی ہوگا!

0

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی
کوئی بھی سماج اور معاشرہ اپنے مثبت ،فکراور تعمیری اثر کو اسی وقت برقرار رکھ سکتا ہے جبکہ اس میں پائی جانے والی علمی ، فکری ، نظریاتی اور متنوع تحقیقی قدروں کا مکمل احترام کیا جائے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی کی فکر اور نظریہ سے یا علمی و فکری افکار سے معاشرے کا ہر فرد پوری طرح متفق ہو۔ بلکہ اختلاف رائے کی اہمیت اور اس سے نکلنے والے علمی شگوفوں سے معاشرہ میں آفاقیت اور توازن و اعتدال کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ یاد رکھیے جن معاشروں میں سوچنے ، تدبر و تفکر کرنے اور صالح تنقیدی روایات کا چلن سرد پڑ جاتاہے تو پھر وہ معاشرہ پوری طرح مردہ ہو جاتا ہے۔ آج ہمارا سماج نہ صرف تحقیقی تنوع کا منکر ہے بلکہ ہم فکری بالیدگی اور تعمیری فکر رکھنے والے اسکالرس کی قدر کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ براہ راست نہ صحیح لیکن بالواسطہ طور پر ہم ضرور معاشرہ کو اور آنے والی نسلوں کو ایک ایسے موڑ پر لے جارہے ہیں، جہاں علمی اقدار کی افادیت سے بے بہرہ اور اہل علم و ادب کی ناقدری عام ہوجائے گی۔ تعجب اور افسوس اس وقت ہوتا ہے جب لوگ اپنے قول و بیان اور فعل وعمل سے ظاہر کچھ اور کرتے ہیں، لیکن زمین پر یا عملی اقدام کے وقت کچھ اور کر ڈالتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اپنے کسی غیر سنجیدہ فیصلہ اور غیر مناسب حرکتوں کو اپنے حواریین کے سامنے فخریہ طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ صورت حال کسی سیاسی یا نیم سیاسی جماعت کی نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی اداروں اور عوامی جماعتوں بھی اس کا عکس پوری طرح نظر آئے گا۔
تعلیمی اداروں ،خصوصا سرکاری تعلیمی اداروں کی صورت حال نام نہاد مفکرین نے پوری طرح بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ جن اداروں اور شعبوں کو علمی اور تحقیقی وادبی خدمات ، فکری بالیدگی اور تعمیری فکر کے طور پر جانا جاتا ہے آج ان کو ایسے لوگوں کی سرپرستی اور سربراہی حاصل ہے جن کا مقصد صرف دولت کا حصول اور اپنے حلقے کو مضبوط بنانا ہے۔ ایسے لوگوں کو نہ علم سے محبت ہوتی ہے اور نہ وہ علمی وعرفانی قدروں کے امین ہیں۔ یہی نہیں بلکہ چاپلوسی اور خوشامدی ٹٹو اتنے مل جاتے ہیں کہ ان کی ہر فکر ، ہر عمل کو قابل عمل دلائل و براہین کی روشنی میں پیش کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ سوچنے اور غور و خوض کرنے کی بات یہ ہے کہ جو چیزیں قوم ، ملک اور ملت کی امانت ہیں ، ان کی روح ، فکر اور تہذیب کو مسخ کرنا کس حد تک قوم سے ہمدردی ہے؟ اس طرح کی تنگ نظری آج ہم وہاں دیکھ سکتے ہیں جو ادارے مسلمانوں کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ انسانی قدروں اور تہذیبی روایات کو ہی نہیں روندا جارہاہے، بلکہ اپنے مفادات اور حلقے کی مضبوطی کے لیے ہر اس عمل کو روا سمجھا جاتا ہے جن کی ممانعت شریعت نے بھی واضح طور پر کی ہے۔ اس کے باوجود ہم یہ شکایت کرتے ہیں کہ معاشرے میں ہم آہنگی نہیں ہے۔ ہمارا سماج علمی وتحقیقی سرگرمیوں سے کوسوں دور ہے۔ بھلا بتلائیے کیا ہمارا کوئی عمل اور فعل ایسا ہے جس سے معاشرتی طبقوں کی دل جوئی ہو سکے۔ آج جس طرح عوامی سطح پر علاقائیت، ذات پات اور ہمہ ہمی کا تصور پایا جاتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ تو یہ فکر ان افراد کے یہاں پیوست ہوچکی ہے جو دینی اور علمی قدروں کے امین سمجھے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا ایمان ہی اس بات پر ہے کہ علاقائی تعصب اور ذات پات کی تفریق کو پوری طرح برقرار رکھا جائے ہر موقع اور ہر موڑ پر اس کی مثالیں بھی ہمیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ اس لیے آج مسلم کمیونٹی خود ہمارے رویوں، اعمال اور کردار کی وجہ سے بری طرح مخدوش ہورہی ہے۔ خارجی حالات تو یقیناً وقتی ہوتے ہیں وہ یقیناً ایک نہ ایک دن ختم ہو جاتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان کا اثر وقتی طور پر ہوتا ہے، لیکن اندرونی مسائل کا سامنا کوئی بھی سماج نہی کر پاتا ہے۔ اس کا نتیجہ صرف اور صرف، مایوسی، پستی اور ندامت و شرمندگی ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سماج ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرے تو بنیادی طور پر ہمیں ان تمام فاسد اور بے فائدہ نظریات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا جن کی وجہ سے آج ہمارا سماج صالح مقصدیت کے حصول سے پوری طرح خالی نظر آتا ہے۔
مسئلہ ان اقدار اور روایات کے فروغ و بقا کا ہے جن کے توسل سے ایک ہمدرد ، غمخوار اور صالح سماج کا صرف وجود ہی نہیں ہو ، بلکہ یہ روایات اور چیزیں زمین پر بھی دیکھنے کو ملیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح رہے کہ کوئی اچھا اور بامقصد سماج اسی وقت اپنے تمام جائز اور ممکنہ مقاصد کو حل کرپائے گا جبکہ اس کے یہاں انصاف اور عوامی فلاح کا تصور پوری طرح موجزن ہو۔ آج مسلم سماج جن حالات اور تحدیات کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ عدم انصاف اور صائب فکر کا فقدان پوری طرح ہمارے اعصاب پر چھایا ہوا ہے۔ مسلم معاشرے میں نا انصافی اور معاشرتی عدم اطمینان کی ایک دو نظریں نہیں ہیں بلکہ خود ہر فرد ، ادارہ ، جماعت اور شعبوں کے سربراہان اس کے شکار نظر آئیں گے۔ ہم دوسروں کو کوستے ہیں ، ان کے اقدامات اور نا انصافیوں پر حرف گیری کرتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی خود ہم نے اپنے گریبان اور مسلم سماج میں معاشرتی قدروں کوپامال ہوتا ہوا دیکھا ہے؟ اس طرح کی سوچ اور فکر رکھنے والے افراد پر کبھی تنقید کرنے یا اس پر قد غن لگانے کی سعی کی ہے؟ جواب نفی میں ملے گا۔ قوم اور سماج کی تباہی میں جتنا خود ہمارا کردار ہے اس پر کبھی کوئی جرات مندانہ اقدام کیا ہے؟ جبکہ ہمیں ایسا عالمی اور آفاقی نظام عطا کیا گیا ہے جس میں انصاف و عدل اور مساوات و توازن کا شاندار نظام موجود ہے۔ انسانی حقوق اور رشتوں کی پاسداری کی اعلی ہدایات و تعلیمات سے مملو ہے۔ لیکن کیا کیجیے نام نہاد افراد نے اپنی ’انا‘اور ذاتی منفعت کے لیے اسلام جیسے پاکیزہ اور با اثر نظام کو مسمار کرنے کی کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ دنیا میں ترقی اور اپنی عظمت و جلالت کو وہی قومیں برقرار رکھ تی ہیں جو کسی بھی طرح سے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پر عزم اور مستحکم ہوں۔ تاریخ نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ جن قوموں نے انصاف و عدل کے تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے تو پھر نہ صرف یہ کہ ان کا وجود ختم ہوگیا ہے بلکہ وہ قومیں پوری طرح اپنی عظمت رفتہ سے دور ہوچکی ہیں۔ بعینہ یہی حال آج مسلم سماج کا ہے ہر طرح سے یورش و یلغار ہے۔ طرح طرح کی اذیتوں اور کربناک واقعات سے دوچار ہے۔ اس کے باوجود ہم دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ دوسروں پر الزامات عائد کررہے ہیں۔ اصل مسئلہ کی طرف توجہ عمدا نہیں کی جارہی ہے ،بکیوں کہ اصل مسئلہ کی شناخت سے خود ہم مجرم قرار پائیں گے۔ لیکن یاد رکھنا ہوگا ان افراد کو جن کے اختیار میں کسی بھی طرح کی کوئی ذمہ داری ہے اور وہ وہاں عدل و انصاف سے کام نہیں لے رہے ہیں، تو انہیں وقت کبھی بھی معاف نہیں کرے گا۔ ہوسکتاہے کہ وہ وقتی طور پر اپنے حواریین کے نزدیک ہیرو بن جائیں اور ان کی خوشنودی حاصل کرلیں، لیکن اس طرح کی چیزیں صرف وقتی ہوتی ہیں۔ دوام و استقرار نصیب نہیں ہوپاتا ہے۔ انصاف کی فراہمی اور معاشرے کا اس سے لطف اندوز ہونا ایک ایسا جوہر اور کارنامہ ہے جو سماج کو تنزلی اور پستی سے نکال کر فلاح و بہبود کی اعلیٰـ منازل تک لے جاتا ہے۔ اسی لیے آج معاشرے میں امداد و اعانت کے تصور کے فروغ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انصاف و عدل کے قیام کی یقینی طور پر ضرورت ہے۔ قوموں اور معاشروں کے احوال یا ان کی معاشی اور اقتصادی حالت مستحکم خیرات اور امداد سے نہیں ہوگی۔ بلکہ انصاف کی دہائی دینے اور اس کو عملی طور پر پوری آب و تاب کے ساتھ نافذ کرنے سے ہوگی۔
ضمنا یہ بھی عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ نا انصافی اور معاشرتی عدم رواداری کا مرتکب کوئی ہو، اس کا تعلق سماج و قوم کے کسی بھی طبقہ سے ہو۔ جب وہ نا انصافی جیسا جرم عظیم کرتا ہے اور اس کے اندر حساس دل ہوتا ہے تو لازمی طور پر اس کا دل اس کے اس مکروہ فعل پر ملامت کرتا ہے۔ لیکن تب تک بات بہت دور جاچکی ہوتی ہے۔ اس لیے کسی بھی احساس ندامت و شرمندگی میں مبتلا ہونے سے بہتر ہے کہ حق والے کو اس کا حق دینے اور دلانے کی پر زور کاوش کرنی چاہیے۔ اسی سے سماج میں ہم آہنگی ، امن و امان اور رواداری پیدا ہوگی ، معاشرتی قدروں میں استحکام پیدا ہوگا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ہمارا مسلم سماج بلکہ معاشی عدم استحکام کی کیفیت سے بہت جلد باہر آئے گا۔
آخر میں یہ بھی بتادوں کہ آج سوال صرف مسلم سماج میں رائج عدم انصاف کا نہیں ہے بلکہ اس سے وابستہ وہ نظام ہے جو الٰہی اور تشریعی ہے۔ اسی نظام کے قیام کی بدولت مسلم سماج نے پوری کائنات میں اپنی ایک باوزن اور بارتبہ دھاک بٹھائی تھی۔ اسی کی دہائی دنیا کی دیگر اقوام نے بھی دی ہے۔ ہم تو کسی بھی نانصافی جیسے جرم کا ارتکاب کرکے گزر جائیں گے لیکن اس کے منفی اثرات آنے والی نسلوں پر مرتب ہوں گے ، وہ بڑے خطرناک اور غیر سنجیدہ ہوں گے۔ اپنے تشریعی اور قانونی نظام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی ’انا ‘کے تمام بتوں اور سماجی نا انصافیوں کو معدوم کرنا ہوگا۔
اب ذرا تصور کیجیے کہ آج ہم بلا مبالغہ کسی بھی اپنی کمزوری کا الزام بڑی آسانی سے ان طاقتوں پر لگادیتے ہیں جو آج دنیا میں سرخ رو کہلائی جاتی ہیں۔ راقم کا سوال یہ ہے کہ واقعی ہم نے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پوری طرح اپنے سماج میں ملحوظ خاطر رکھا ہے؟ انسانی رشتوں کا تقدس اور معاشرتی قدروں کی حفاظت و صیانت کے لیے بنیادی طور پر ایک ایسا سماج تشکیل دینے کی ضرورت ہے،جس میں عدل کے تمام تقاضے پورے کیے جاتے ہو ں اور انسان دوستی کی قواعد کو بھی پوری طرح پشت پناہی حاصل ہوسکے۔
[email protected]