کسان تحریک اور ادھورے خواب

0

ششی شیکھر
لک کی حکومت اور کسانوں کے درمیان پانچویں دور کی بات چیت بے نتیجہ ثابت ہوتے ہی واضح ہوگیا کہ یہ جدوجہد ابھی جاری رہے گی۔ موجودہ حکومت کے 6سال کے طویل دورۂ اقتدار میں یہ پہلا موقع ہے، جب ملک کی راجدھانی 10دنوں سے بے ترتیب ہے، حالانکہ میں کسانوں کے مسائل کے لئے کسی ایک حکومت یا شخصیت کو قصوروار نہیں مانتا یہ صدیوں لمبا سلسلہ ہے، جسے آزاد ہندوستان کی سبھی حکومتیں سلجھانے میں ناکام رہی ہیں۔ 
حکومت نے کسانوں کو 9دسمبر کو پھر بات چیت کے لئے بلایا ہے۔ اس دوران کسانوں کی تحریک جاری رہے گی۔ طے ہے، موجودہ جدوجہد کا حل آج نہیں تو کل نکل ہی آئے گا لیکن کیا اس سے کسانوں اور زراعت میں تبدیلی آجائے گی؟ کیا ہندوستان کے زرعی نظام پر منڈلا رہے کالے بادل ہمیشہ کے لئے چھٹ جائیں گے؟ کیا کسان اپنی مفلسی سے آزاد ہوسکیں گے؟ اور کیا ان کی خودکشی کا سلسلہ تھم سکے گا؟ 
آج میں ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لئے آپ کو ماضی کی ایک داستان بتاتا ہوں۔ جب 1967کا قحط پڑا تھا تب میرے والد مرزا پور میں تعینات تھے۔ میں نے اسکول جانا شروع ہی کیا تھا لیکن یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ شہر کی فضا بدل رہی ہے۔ آس پاس کے آدی واسی اور گائوں والے کام یا کھانے کی تلاش میں شہر یا بڑے قصبوں کی جانب آتے تھے لیکن اکثر انہیں مایوسی کے ساتھ لوٹنا پڑتا۔ جو لوگ ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا مادہ رکھتے تھے وہ خود اس لائق نہیں تھے کہ ان کی مدد کرسکیں۔ گیہوںنایاب چیز بن گیا تھا۔ راشن کی دکانوں پر آیا امریکہ سے لال گیہوں تقسیم ہوتا تھا۔ نتیجتاً کالا بازاری زوروں پر تھی۔
بعد کے سالوں میں اپنے گائوں کے سفر کے دوران میں نے بار بار یہ پایا کہ 90فیصد سے زیادہ کسانوں کی بدحالی دور نہیں ہورہی۔ آبادی کی توسیع کے ساتھ ان کی قابل کاشت اراضی کم ہوتی جارہی تھی۔ اس کے علاوہ بھی تمام دقتیں تھیں وہ روایتی فصلیں اگانا پسند کرتے تھے۔ کوئی انہیں یہ بتانے والا نہیں تھا کہ آپ کیسے کچھ اور پیدا کرکے اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ موسم مہربان ہو تو فصل کے بعد کی زندگی کچھ آسان ہوجاتی تھی اور اگر وہ موافق نہ ہو تو مزید پریشانیاں بڑھ جاتی تھیں۔
اسی دوران سبز انقلاب آیا۔ ہندوستان نے اپنی ضرورت سے زیادہ اناج اگانا شروع کردیا لیکن تقسیم کا نظام تب بھی نہیں سدھرا۔ ہمارے ملک میں ایک طرف فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گودام بھرے پڑے ہیں تو وہیں دوسری جانب تقریباً 14فیصد آبادی کو بھر پیٹ کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ کسان کو فصل کی مناسب قیمت حاصل نہیں ہوتی اور صارفین کو ضرورت سے زیادہ قیمت چکانی پڑتی ہے۔ یہ وقت ہے جب ہم زراعت کو بھی بدلتی دنیا کی نظر سے دیکھیں تاکہ کسانوں کو ان کا حق مل سکے اور ان کے پروڈکٹ کو خریدنے والوں کی جیب نہ کٹے۔ ظاہر ہے تبدیلی ضروری ہے، لیکن یہ ہو کیسے؟ خوف پیدا کرنے والے کاروباری باہیں چڑھائے بیٹھے ہیں۔ ڈر کا یہ بے وجہ گورکھ دھندہ 1990کی دہائی کی شروعات میں ہی پھیلا یا گیا تھا۔ ان دنوں نرسمہا رائو اور منموہن سنگھ کی جوڑی معاشی لبرائیلائزیشن لے کر آئی تھی۔ اس وقت اٹل بہاری باجپئی، جارج فرنانڈیز اور دیگر سبھی اپوزیشن لیڈروں نے اسے ہندوستان کو بیچ دینے کی سازش بتایا تھا۔ پارلیمنٹ سے سڑک تک ہنگامہ مچا تھا۔ افواہ پھیلائی جارہی تھی کہ پہلے تو ایک ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہمیں برباد کیا تھا اب سیکڑوں غیر ملکی کمپنیاں ہمیں غلام بنانے آجائیں گی۔ 
کیا ایسا ہوا؟ 
یقیناً نہیں۔ لبرائیلائزیشن سے ان 30سالوں میں ہندوستان میں تقریباً 30کروڑ لوگ خط افلاس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ حکومت، کارپوریٹ اور سماج کے درمیان ایک تال میل بڑھا، جس کے نتیجے میں ہندوستان بھی معاشی طاقت بننے کا اپنا خواب دیکھنے لگا۔ آج کہا جاتا ہے کہ امریکہ، چین اور ہندوستان ایک طرف ہوں گے اور باقی دنیا دوسری جانب۔ بین الاقوامی سیاست اس میں جو بھی رکاوٹ پیدا کرے  لیکن یہ سچ ہے کہ فری مارکیٹ کے نظام نے اگر کچھ برائیاں پیدا کی ہیں تو ترقی کے تمام نئے دروازے بھی کھولے ہیں۔ 
جو لوگ سیاسی نعرے بازی پر یقین کرکے گمراہ ہوجاتے ہیں انہیں یاد دلادوں کہ بہت پرانی بات نہیں ہے۔ 1990کی دہائی کے وسط تک ہندوستان میں ایک سے دوسرے شہر تک فون ملانے میں گھنٹوں لگ جاتے تھے۔ ہم لوگ بھی جب رپورٹنگ کے لئے کبھی دوسرے ملک جاتے تو ٹیلکس یا فیکس بھیجنے کے لئے گھنٹوں لائن میں لگنا پڑتا تھا۔ سوچتا ہوں کہ کورونا تب پھیلا ہوتا تو کیا ہوتا۔ آج لاکھوں ہندوستانی ’ورک فرام ہوم‘ کے ذریعہ اگر اپنا روزگار بچا پارہے ہیں تو اس کی اکیلی وجہ ہے مواصلاتی انقلاب۔ یہ اور ایسے تمام طریقے 1991کے سدھاروں کی دین ہیں۔ 
اب زراعت پر آتے ہیں۔ میں آپ کو اعداد وشمار کے مایا جال میں پھنسائے بغیر صرف ایک مثال دینا چاہوں گا دودھ بھی زرعی پیداوار ہے اس پر کوئی ایم ایس پی نہیں ہے۔ کوئی خاص سرکاری تحفظ بھی اس کی خرید اور فروخت پر لاگو نہیں ہوتا۔ مدر ڈیری اور سدھا جیسے کچھ نیم سرکاری اداروں کو چھوڑ دیں، تو بڑی سطح کے زیادہ تر خریدار نجی شعبے سے آتے ہیں۔ امول نے تو امداد باہمی کے ذریعے گجرات سے جس سفید انقلاب کی شروعات کی تھی وہ آج پورے ملک میں پروان چڑھ رہا ہے۔ 
گائوں سے جو دودھ خریدا جاتا ہے ان میں سے زیادہ تر لوگ ایک سے 6مویشیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ کیا ان کے ڈیروں پر کسی ملٹی نیشنل یا کارپوریٹ نے قبضہ کرلیا؟ در اصل خرید کے اس عمل نے دودھ کسانوں کی جیب میں مستقل طور پر پیسے ڈالنے شروع کردئے۔ وہ جو فصل کاٹنے اور بکنے کا انتظار کرتے تھے، اب ہر روز پیسے پانے لگے۔ اس سے خواتین میں بھی بیداری آئی کیونکہ گائوں میں مویشیویوں کی تمام ذمہ داری وہی اٹھاتی ہیں۔ 
حالانکہ، زیر غور نجکاری سبھی مسائل کا حل نہیں ہے۔ زیادہ تر چینی ملیں نجی ہاتھوں میں ہیں لیکن سرکاری نمائندوں کی ملی بھگت سے ان میں سے بیشتر میں استحصال کا نظام چلا رہی ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ کسانوں کے ہاتھ نہ صرف قانونی حقوق سے مضبوط کئے جائیں بلکہ سرکاری منتظمین کو بھی قانون سختی سے لاگو کرنے کے لئے مجبور کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی کسانوں کو متبادل فصل اگانے اور زراعت سے متعلق صنعت لگانے کے لئے بھی انہیں راضی کرنا ہوگا۔ کورونا نے جب بڑے شہروں کی قلعی اتار دی ہو تب سماج کی صحت اور معاشی خوشحالی کے لئے بھی ضروری ہے۔
بشکریہ: ہندوستان
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS