پنکج چترویدی: آبشاروں کو بچایا جائے گا تو بچیں گی ندیاں

0
Maharashtra, May 18 (ANI): Police personnel carries an umbrella as he wades through a waterlogged street after heavy rainfall and strong winds triggered by Cyclone Tauktae, in Mumbai on Monday. (ANI Photo)

پنکج چترویدی

آب و ہوا میں تبدیلی اب ہندوستان کی ہر قدرتی ساخت اور اس کے ذریعے معاشرے کو متاثر کر رہی ہے۔ آبشار ایک ایسا آبی ذریعہ ہیں جن پر بڑی آبادی کا انحصار ہے لیکن ان کے سکڑنے پرمعاشرے اور حکومت کی متوقع توجہ نہیں ہے۔ ملک کی سیکڑوں غیر ہمالیائی ندیوں، خاص طور پر جنوبی ریاستوں کی ندیوں کا توماخذ ہی آبشاروں سے ہے۔ نرمدا، سون جیسی بڑی ندیاں مدھیہ پردیش میں امرکنٹک سے آبشاروں سے ہی نکلتی ہیں۔ آبشار کا وجود پہاڑ سے ہے، اسے اردگرد کے گھنے جنگلوں سے طاقت ملتی ہے اور مسلسل بہاؤ سے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ 2020 میں بین الاقوامی تحقیقی جریدے ’’واٹر پالیسی‘‘نے ہندوستانی ہمالیائی خطے (آئی ایچ آر) میں واقع 13 شہروں میں سے 10 میں مطالعات کی ایک سیریز منعقد کی تھی۔ اس مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان شہروں میں سے بہت سے شہر، جن میں مسوری، دارجلنگ اور کٹھمنڈو جیسے مشہور پہاڑی مقامات شامل ہیں، پانی کی طلب اور رسد کے وسیع فرق کا سامنا کر رہے ہیں جو کئی مقامات پر 70 فیصد تک ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان علاقوں میں پانی کی ندیوں-آبشاروں کا تیزی سے خشک ہونا ہے۔ بالکل یہی بات اگست1918 میں نیتی آیوگ کی رپورٹ میں کہی گئی تھی۔ اس میں تسلیم کیا گیا تھا کہ آئی ایچ آر میں تقریباً 50 فیصد آبشار خشک ہو رہے ہیں جس سے ہزاروں گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔
آبشار ایک ایسا قدرتی ڈھانچہ ہے جہاں سے پانی آبی ذخائر (چٹان کی پرتیں جن میں زمینی پانی ہوتا ہے) سے زمین کی سطح تک بہتا ہے۔ ہندوستان بھر میں تقریباً 50 لاکھ آبشارہیں جن میں سے تقریباً تیس لاکھ صرف آئی ایچ آر میں ہیں۔ ہمارے ملک کی بیس کروڑ سے زیادہ آبادی پانی کے لیے آبشاروں پر منحصر ہے۔ یاد رہے کہ ہندوستانی ہمالیائی خطہ 2500 کلومیٹر طویل اور 250 سے 300 کلومیٹر چوڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 12 ریاستوں میں60 ہزار گاؤں ہیں جن کی آبادی پانچ کروڑ ہے۔ اس میں جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم، اروناچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ کی ریاستیں شامل ہیں۔ آسام اور مغربی بنگال بھی جزوی طور پر اس کے تحت آتے ہیں۔ یہاں کی تقریباً 60 فیصد آبادی پانی کی ضروریات کے لیے آبی ذخائر پر منحصر ہے۔ دوسری طرف جنوبی ہندوستان کے مغربی گھاٹوں میں کبھی سال بھر بہنے والے آبشار موسمی ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا راست اثر کاویری، گوداوری جیسی ندیوں پر پڑ رہا ہے۔یہاں آبشاروں کے واٹر کیچمنٹ ایریا میں بے پروائی سے لگائے جارہے ٹیوب ویلوں نے بھی آبشاروں کا راستہ روکا ہے۔
یہ انتباہ ہے کہ اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے مشہور اتراکھنڈ کے الموڑہ علاقے میں آبشاروں کی تعداد گزشتہ 150 برسوں میں 360 سے کم ہو کر 60 ہو گئی ہے۔ اتراکھنڈ میں 90 فیصد پینے کے پانی کی فراہمی آبشاروں پر منحصر ہے جبکہ میگھالیہ میں ریاست کے تمام گاؤں پینے اور آبپاشی کے لیے آبشاروں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ آبشار حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کے اہم اجزا بھی ہیں۔ آبشار سے پانی کا بہاؤ موسم کے مزاج پر منحصر ہے۔ گرمیوں میں بہت کم تو برسات کے موسم میں بہت تیز۔ گرمیوں میں ان سے تقریباً آدھا لیٹر فی منٹ کی شرح سے پانی بہتا ہے تو کئی بڑے آبشار اپنی جوانی کے دوران ڈیڑھ لاکھ لیٹر فی منٹ کی شرح سے پانی چھوڑ سکتے ہیں۔
آبشاروں کے مسلسل ناپید ہونے یا ان میں پانی کی مقدار کم ہونے کا الزام آب و ہوا میں تبدیلی کو نہیں دیا جا سکتا۔ درختوں کی اندھا دھند کٹائی اور تعمیرات کی وجہ سے پہاڑوں کو پہنچنے والے نقصان نے آبشاروں کے قدرتی دھارے میں خلل پیدا کر دیا ہے۔ بھلے ہی ڈیم بنا کر پہاڑوں پر پانی اکٹھا کرنے کو جدید سائنس اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے لیکن اس طرح کے ڈھانچوں کی تعمیر کے لیے بے رحمانہ بارودی دھماکے اور روایتی جنگلات کو اجاڑنے کی وجہ سے ہمیشہ بہنے والی ندیوں کے بہاؤ میں جو کمی واقع ہو رہی ہے، اس پر کوئی غور نہیں کر رہا ہے۔
حالانکہ نیتی آیوگ نے 2018 میں آبشار کے تحفظ کے پروگرام کے لیے ایکشن پلان تیار کیا اور یہ اس کی چار سال پرانی ایک رپورٹ پر مبنی تھا، لیکن گزشتہ چار برسوں میں آبشاروں کو بچانے کے لیے نہ تو کوئی منصوبہ بنا ہے اور نہ ہی قومی سطح پر ابھی تک کوئی سروے ہوا۔یہ جان کر خوشی ہوگی کہ سکم نے اس بحران کو سال 2009 میں ہی محسوس کر لیا تھا۔ اس سے پہلے سکم میں فی خاندان پانی کا خرچ 3200 روپے ماہانہ تھا۔ اس کے بعد حکومت نے اسپرنگ شیڈ پروجیکٹ پر کام شروع کیا۔ 2013-14 میں آبشاروں کے اردگرد 120 ہیکٹیئر پہاڑی علاقے میں گڑھے بنا کر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا کام شروع کیا اور اس کے 100 فیصد نتائج آنے شروع ہوگئے۔ اب پوری ریاست میں ’دھارا وکاس یوجنا‘چل رہی ہے اور خاندانوں کا پانی پر ہونے والا خرچ بھی ختم ہو گیا ہے۔
اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش آبشاروں کے تئیں سب سے زیادہ لاپروا ہیں، جو گزشتہ پانچ برسوں میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے تیزی سے بکھر بھی رہے ہیں۔ ان ریاستوں میںآبشاروں کے آس پاس مٹی کے کٹاؤ کو کم کرنے، ہریالی بڑھانے اور مٹی کی قدرتی خصوصیات کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ مٹی میں پانی کے قدرتی بہاؤ کو بڑھانے اور زیادہ بارش کے پانی کے آبی ذخیروں تک پہنچنے کا راستہ کھولنے کے بارے میں کوئی غور نہیں کیا گیا۔ کیچمنٹ ایریا میں صفائی کو برقرار رکھتے ہوئے ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے اور زیر زمین پانی اور زمین پر پانی کے بہاؤ کو آلودہ ہونے سے روکنے کی کسی کو پروا ہی نہیں۔
یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ موسم کا چکر تیزی سے بدل رہا ہے، کہیں بارش کم ہو رہی ہے تو کہیں اچانک ضرورت سے زیادہ بارش ہو رہی ہے، پھر زمین کا درجۂ حرارت تو بڑھ ہی رہا ہے، ایسے میں آبشار ہمارے محفوظ اور صاف پانی کے ذخائر تو ہیں ہی، ندیوں کی زندگی بھی اسی میں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قدرتی آبی ندیوں اورآبشاروں کے کچھ دائرے میں تعمیراتی کاموں پرپوری طرح پابندی عائد ہو، ایسے مقامات پر کوئی بڑے پروجیکٹ نہ لائے جائیں جہاں کا ماحولیاتی توازن آبشاروں سے ہو۔
[email protected]