عالمی سیاست اور اندرونی خلفشار میں گھرے فلسطینی عوام

0

پچھلے دنوں مغربی ایشیا میں غیر معمولی سفارتی سرگرمیوں کے دوران امریکی صدر جوبائیڈن کے دورہ سے قبل یہ افواہیں گرم تھیں کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر ایک ایسی تجویز پر کام کررہے تھے کہ کچھ عرب ملک ناٹو کی طرز کا مغربی ایشیا میں کوئی فوجی سمجھوتہ کرا سکتے ہیں۔ اسی دوران فلسطین کے غزہ علاقہ میں حکمراں حماس کے لیڈروں کے ذریعہ کچھ ایسے بیانات سامنے آئے جنہوںنے اس طرح کی کسی بھی تجویز کے امکانات پر بالواسطہ طریقہ سے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ فلسطین کے دو محدود خودمختاری والے علاقے غزہ اور مغربی کنارے میں دو الگ الگ فلسطینی سیاسی جماعتوں کی بالادستی قائم ہے۔ جبکہ فلسطین کی اعلیٰ ترین قیادت مغربی کنارے میں ایک محصور اور محدود انداز سے کام کررہی ہے۔اس کا کوئی عمل دخل غزہ میں نہیں ہے، جسے فلسطینی اتھارٹی کہا جاتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے نام نہاد صدر محمود عباس ہیں جو کہ یاسر عرفات کے انتقال کے بعد صدر بنائے گئے تھے۔ مغربی کنارے اور غزہ میں نا تو کوئی جغرافیائی رابطہ ہے او رنہ ہی کوئی سیاسی تال میل ۔ دونوں علاقے کافی دور فاصلوں پر واقع ہیں اور ان دنوں الگ الگ علاقوں میں رہنے والے فلسطینی اپنے رشتہ داروں سے مل بھی نہیں پاتے ہیں ۔ گزشتہ 15سالوں میں اسرائیل ایک طرف غزہ میں کئی مرتبہ باقاعدہ بمباری کرکے سیکڑوں معصوم اور مظلوم فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے تو دوسری جانب مغربی کنارے میں اس کی ریشہ دوانیاں الگ نوعیت کی ہیں۔ مغربی کنارے میں اسرائیل مسلسل ناجائز بستیاں بسا رہا ہے اور وہاں کی نام نہاد حکمراں جماعت الفتح اس کی ان کارروائیوں پر بے دست وپا ہے۔ پچھلے دنوں کئی اہم شخصیات کو مغربی کنارے سے گرفتار کرلیا گیا اور یتا مسافر نام کی بستی میں جہاں صدیوں سے فلسطینی بّدو مکین ہیں وہاں سے ان کو بے دخل کرنے کی اسرائیلی سپریم کورٹ نے اجازت دے دی۔ یہ علاقہ ایسے بہت سے علاقوں میں شامل ہیں جن کو اجاڑ کر وہاں پر اسرائیل اپنے منصوبوں کے مطابق تعمیرات کررہا ہے۔ یہ تعمیرات شہری بھی ہیں اور فوجی بھی۔ غزہ کی پٹی کے ارد گرد اسرائیل نے اونچی دیوار بنا رکھی ہے اور وہاں کی آبادی کو باہر نکلنے اور داخل ہونے کے لیے شدید مشکلات ، پابندیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ پورا علاقہ ایک کھلی جیل میں بدل چکا ہے۔ اس علاقے میں شہری سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ ان حالات میں یہ دونوں علاقے عالمی سیاست ،علاقائی کشمکش اور داخلی تصادم کا شکار ہوگئے ہیں۔ مگر اسرائیل کی بربریت کا زیادہ اثر غزہ پر پڑھ رہا ہے۔ پچھلے پانچ دنوں جو کارروائیاں اسرائیل اس پر عالمی میڈیانے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اسی طرح کے دوسرے سانحہ یوکرین پر عالمی برادری چیخ چیخ کر روس کو کوس رہی ہے۔ میڈیا کی دوہری پالیسی دنیا کے سامنے طشت از بام ہوچکی ہے۔ انسانی حقوق پر دہرے معیار ، سوشل میڈیا کی وجہ سے منظر عام پر آچکے ہیں۔
اسرائیل کی کارروائی اور اس کے خلاف حماس اور اسلامی جہاد کی جوابی کارروائی فی الحال رک گئی ہے اور مصر نے اپنااثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے مصالحت کرا دی ہے مگر جس انداز سے اچانک اسرائیل کے کارگزار وزیراعظم نے اپنی اندرونی سیاست سے مجبور ہو کر کارروائی کی تھی اور جس میں دو درجن سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں، یہ جنگ بندی کتنی دیر تک قائم رہے کہنا مشکل ہے۔ دراصل حماس کا ایک ذیلی گروپ اسلامک جہاد جس کو کئی مغربی ممالک آسٹریلیا ، کناڈا، یوروپین یونین،اسرائیل، جاپان،نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ نے دہشت گرد تنظیم کے زمرے میں رکھا ہے، فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کررہا ہے۔ اس گروپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غیر ممالک سے امداد حاصل کررہا ہے۔ یہ امداد اقتصادی ، فوجی اور سفارتی ہے۔ یہی وہ درد ہے جو اسرائیل سے سہا نہیں جارہا ہے۔ اسرائیل کو لگتا ہے کہ ایران اس علاقے میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے اس کے لیے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ ان دونوں خطوں میں وہ جو چاہے کارروائی کررہا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کو روکنے میں دلچسپی نہیں رکھی ہے۔ اسی لیے اسرائیل کی سفاکی خاص طور پر غزہ کے معاملے میں بالکل بے لگام ہوتی ہے۔ جمعہ کو پہلے حملے میں اسرائیل فوج نے تاثیر الجباری کو ہلاک کردیا تھا۔ الجباری ابوالعطا کے بعد غزہ میں اسلامک جہاد کے لیڈر بنائے گئے تھے۔ ابوالعطا کو اسرائیل نے 2019کے فوجی حملوں میں ماردیا تھا۔ ابوالعطا 2014سے ہی اسرائیل کے لیے ناک کے بال بنے ہوئے تھے۔ غزہ اور مغربی کنارہ میں جدوجہد آزادی ٔ فلسطین کی طویل داستان ہے جس کو محض ایک دو تحریروں میں بند کرنا مشکل کام ہے۔ مگر یہ بات درست ہے کہ 2007میں غزہ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد حماس نے اسرائیل کے لیے کافی مشکلات پیدا کردی تھیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے فلسطینی غزہ کی حصار بندی کو ختم کرنے کے لیے سفارتی وغیر سفارتی کوششیں کرچکے ہیں۔ عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاچکے ہیں اور فلسطینیوں کے حق میں فیصلہ صادر بھی ہوگیا ہے۔ مگر اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی بنیاد پر تعمیر کی گئی یہ دیوار جوں کا توں قائم ہے۔ کئی بڑی طاقتوں نے گزشتہ دو دن سے چلی آرہی کارروائی کو اسرائیل کے دفاع کا حق قرار دے کر اندیکھی کی ہے لیکن ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ قبرستان میں فاتحہ پڑھنے گئے نوعمر پانچ بچے جن کی عمر 10سال سے 17سال کے درمیان ہے اور وہ بچی جو کہ پانچ سال کی تھی اور گھر میں سو رہی تھی وہ کس طرح سے دہشت گرد ہوسکتی ہے۔ اسرائیل کے کارگزار وزیر اعظم یایر لیپڈ جو کہ داخلی سیاست اور نتن یاہو کی جارحانہ امیج کا مقابلہ کرنے کے لیے اس قسم کے فوجی متبادل استعمال کررہے ہیں۔ نتن یاہو کو وزیراعظم کے عہدے کی ریس سے نکالنے میں اوران کی لکوڈ پارٹی کی سیٹیں کم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس دوران معصوم فلسطینیوں کی ہلاکت کا دور ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
rvr