پاکستانی وزیر خارجہ کی ترک ہم منصب سے ملاقات، افغان امن عمل پر تبادلہ خیال

0
image:ArabNews

اسلام آباد: (یو این آئی) پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے انطالیہ میں ترک وزیر خارجہ میولوت چاؤش اوغلو سے ملاقات کرکے افغانستان سے امریکی فوج سمیت نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا۔
دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان انطالیہ میں باہمی ملاقات ہوئی۔بیان میں کہا گیا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ترک وزیرخارجہ کو حال ہی میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی جہاں بڑی تعداد میں عالمی رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ فورم میں عالمی سطح پر موجود کئی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور عالمی رہنماؤں کو آپس میں ملنے کا موقع بھی ملا۔
ڈان میں شائع خبر کے مطابق دفترخارجہ نے کہا ہے کہ دوطرفہ بہترین تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں فریقین نے اعلیٰ سطح کا اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے اجلاس کی تیاریوں کے بارے میں بات کی جو رواں برس ترکی میں منعقد ہوگا۔دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ افغان امن عمل میں حالیہ پیش رفت اور افغانستان سے بین الاقوامی فوج کی واپسی پر بھی بات کی۔
شاہ محمود قریشی نے ترکی کی قیمتی کوششوں اور افغانستان میں مختلف فریقین تک رسائی کرنے سمیت دیگر اقدامات کو سراہا۔اس موقع پر ترک وزیرخارجہ نے افغانستان میں امن کے قیام اور پرامن، محفوظ اور مستحکم افغانستان کے لیے پاکستان کی انتھک کوششوں کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہاکہ امید ہے کہ افغان فریقین موقع سے فائدہ اٹھائیں گے اور سیاسی طور پر مذاکرات سے معاملات کا حل نکال لیں گے۔دفترخارجہنے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کی ملاقات دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کا عکاس ہے۔
یاد رہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی گزشتہ ماہ فلسطین کے معاملے پر ترکی گئے تھے، جہاں ترک وزیرخارجہ کے علاوہ صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی تھی۔وزیر خارجہ نے اپنے ترک ہم منصب سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت روکنے میں مدد کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
واضح رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا گزشتہ تین ماہ کے دوران ترکی کا یہ تیسرا دورہ ہے جو ترک وزیر خارجہ کی دعوت پر کر رہے ہیں۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here