پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ

0

اسلام آباد (یو این آئی) : رواں مالی سال میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے بعد، پاکستان عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور اسلامی ترقیاتی بینک سمی دیگر کثیر الجہتی قرض دہندگان سے تقریباً 9 سے 10 ارب کا قرض جمع کرنے کا منصوبہ بنارہاہے ۔دی نیوز نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔آئی ایم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘آئی ایم ایف کی ٹیم ای ایف ایف کے تعاون یافتہ پروگرام کے مشترکہ ساتویں اور آٹھویں جائزوں کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ عملے کی سطح کا معاہدہ طے پاگیا ہے ، یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے ‘۔اس میں مزید کہا گیا کہ ‘بورڈ کی منظوری سے مشروط تقریباً ایک ارب 17 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے ، جس سے پروگرام کے تحت کُل ادائیگی تقریباً 4 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گی’۔اپنے اعلان میں آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان میں آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر کی قیادت میں ایک ٹیم نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو حتمی شکل دی۔آئی ایم ایف نے کہا کہ بات چیت کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ وہ اپنی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کو جون 2023 کے آخر تک بڑھانے پر غور کرے گا، جس کی مالیت اس وقت 6 ارب ڈالر ہے اور اس کے حجم کو 7 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے اسے 70 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک بڑھانا پڑے گا۔بیان میں وضاحت کی گئی کہ یہ فیصلہ پروگرام کے نفاذ میں معاونت، مالی سال 23-2022 میں پاکستان کی اعلیٰ مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور اضافی فنانسنگ کو متحرک کرنے کے لیے لیا گیا۔مالی سال 23-2022 کے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف نے کہا کہ اس کا مقصد جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے بنیادی سرپلس کو ہدف بنا کر حکومت کی بڑے قرضے لینے کی ضروریات کو کم کرنا ہے ۔آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ اس سے پہلے طے شدہ منصوبے کے کمزور نفاذ کی وجہ سے پاکستان کے پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں کا بہاؤ مالی سال 2022 میں نمایاں طور پر بڑھ کر تقریباً 850 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔