مذہبی ہم آہنگی کی ہندوستانی روایات

0

عارف محمد خاں
(مترجم: محمد صغیر حسین)

ایک عربی کہاوت ہے کہ ’قرآن عربو ںمیں نازل ہوا، مصریوں نے اسے خوش الحانی سے پڑھا اور ہندوستانیوں نے اسے گلے سے لگایا۔‘ دراصل اس سچائی کی تصدیق کی بنیاد اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ ہندوستان نے علماء اور صوفیاء کی ایک موثر تعداد کو جنم دیا جنہوں نے قرآنی علوم خاص طور پر کشادہ صوفی افکار وروایات کے فروغ میں بیش بہا تعاون دیا۔
’’ہندوستانی اسلام پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک راسخ العقیدہ اسلامی مجلہ الفرقان نے 1941میں اظہار افسوس کیا تھا کہ ’’دسویں صدی کی آخری چوتھائی سے ہندو دھرم سے متاثر اسلام، تصوف اور وحدانیت کے امتزاج نے لوگوں کے ذہنوں کو زبردست طور پر متاثر کیا۔ تصوف اور وحدت الوجود کا تصور غالب عقیدہ بن گیا جس نے مسلمانوں میں ہندو عقیدۂ وحدت الوجود(Pantheism) کے رسم و رواج کو فروغ دے دیا۔‘‘
یہ حوالہ اس دور سے متعلق ہے جب ہندوستان میں بھکتی تحریک جڑیں پکڑ رہی تھی۔ سوامی رامانوجا کے ہاتھوں شروع کی گئی تحریک اسلام اور ہندوستانی مذہبی افکار کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک باشعور کوشش تھی۔ بھکتی تحریک سے وابستہ سنتوں نے ویدانت اور تصوف کی مشترکہ خصوصیات کو نمایاں کرتے ہوئے روحانی اتحاد کے لیے انتھک محنت کی۔ چوں کہ ’’وحدت الوجود‘‘ کا نظریہ دونوں مذہبی روایات میں مشترک تھا، اس لیے تحریک نے جلد ہی عوام کے قلب و ذہن کو مستخر کرلیا۔
بھکتی تحریک نے ممتاز صوفی سنت پیدا کیے جو روحانی اتحاد کی علامت بن گئے اور جنہوں نے مذہبی شناخت کے تمام رسم و رواج کے آگے سرتسلیم خم کرنے سے انکار کردیا۔ اُن میں سب سے زیادہ معزز اور قابل احترام وارانسی کے بھگت کبیر اور بابا گرونانک دیو تھے۔ بھکتی صوفی سنت ایک خدا اور ہر فرد میں نہاں روحانی قوت کے قائل تھے اور اپنے ایمان و عقیدے سے سرِموانحراف پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے پرزور طریقے سے مذہبی فرقہ بندیوں اور متعدد گروہوں اور فرقوں کے برتری کے دعووں کو مسترد کردیا تھا۔
کبیر نے جوش وولولے کے ساتھ، بھکتی نظریات کی تبلیغ کے لیے لوک شاعری کے وسیلے کا استعمال کیا اور اپنے موثر اور پرشکوہ نغمات سے ہندی ادب کو مالا مال کیا۔ کبیر اور دیگر بھکتی صوفی سنتوں نے اپنے کلام کے ذریعہ عرفانِ خداوندی کی برکتو ںکا ذکر کیا اور دین دھرم کے ٹھیکہ داروں کے اُن تمام اصولوں کو ٹھکرادیا جودین دھرم کے نام پر بندگان خدا میں تفریق پیدا کرتی ہیں۔
ایک پاکستانی دانشور ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اپنی کتاب ’’The Muslim Community of the Subcontinent‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’کبیر نے بھکتی نظریات کی تبلیغ کی کیوں کہ وہ نہ صرف روحانی اتحاد میں یقین رکھتے تھے بلکہ انہو ںنے اسی روحانی اتحاد کی بنیاد پر ہندو مسلم ہم آہنگی کو اپنی زندگی کا نصب العین تصورکرلیا تھا۔ کبیر کسی بھی مذہبی رسم و رواج کو نقصان نہیں پہچانا چاہتے تھے لیکن انہیں یقین کامل تھا کہ دین دھرم کا صحیح مقصد اور ہدف روحانی ارتقا اور اس کی تجلیات ہیںنہ کہ رسم و رواج کی خشک تقلید۔
کبیر کے بعد، بھکتی تحریک کو گرونانک دیوجی کی شکل میں ایک عظیم شخصیت ملی جنہوں نے اسے مقبولیت کی نئی بلندیوں سے ہم کنار کردیا۔ انہوں نے بھی ویدانت اور اسلام کی تعلیمات کی ہم آہنگی کے ذریعہ مذہبی اتحاد کے نظریے کی پیروی کی۔ اُن کا خوبصورت کلام ’’اتحاد وجود‘‘ کے نظریے کا زبردست اظہار ہے جو انسانی شرف و وقار اور مساوات کا موید ہے۔ ایک جگہ وہ فرماتے ہیں:
’’بلند و برتر برہما ہر نفس میں جلوہ گر ہے اور اپنی تجلی سے ہرشئی کو منور کرتا ہے۔‘‘
ایک دوسرے کلام میں عظیم گرو فرماتے ہیں:
’’-اگر آپ چاروں وید پڑھ سکتے ہیں اور متبرک دنوں میں مقدس ندیوں میں ڈبکیاں بھی لگاتے ہیں،
-اگر آپ ماہ مقدس میں روزے رکھتے ہیں اور مقررہ زکوٰۃ بھی دیتے ہیں،
-اگر آپ قاضی، ملّا یا یوگی ہیں اور مذہبی لباس پہنتے ہیں یا امور خانہ داری کا فریضہ انجام دیتے ہیں،
-لیکن اگر آپ کو عرفان خداوندی حاصل نہیں ہے تو یہ ساری چیزیں بے کار و بے مصرف ہیں۔‘‘
کسی جگہ وہ فرماتے ہیں کہ یہی عرفانِ خداوندی، صفائے باطن اور بنی نوع انسانی سے محبت اور اُن کی خدمت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اُن کے والہانہ کلام کے مجموعے ’’گرو گرنتھ صاحب‘’ میں کئی بھکتی صوفی سنتوں کے کلام شامل ہیں۔
کبیر اور گرونانک جیسے سنت اُن تمام لوگوں کے لیے فیض کا ایک دائمی سرچشمہ بن گئے جو بنی نوع انسانی کے روحانی اتحاد میں یقین رکھتے ہیں اور مذہب، رنگ و نسل، ذات پات اور جنس پر مبنی تفریق سے نفرت کرتے ہیں۔ پندرہویں صدی کے ایک صوفی شیخ عبدالقدوس گنگوہی کی مندرجہ ذیل سطریں، مذکورہ بالا جذبات کی انتہائی موثر صدائے بازگشت ہیں:
(ترجمہ) ’’یہ کیا غیرمفید شوروغوغا ہے کہ فلاں مومن ہے اور فلاں کافر؟ فلاں مطیع و فرمانبردار ہے اور فلاں گناہ گار ہے، فلاں راہِ راست پر ہے اور فلاں گمراہ ہے، فلاں مسلم اور پرہیزگار ہے اور فلاں کافر اور وحدتِ وجود کا حامی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ تمام کے تمام بلند و برتر پروردگار کی تخلیق ہیں بالکل اُسی طرح جیسے ایک ہار میں مختلف رنگوں کے پھول گندھے ہوتے ہیں۔‘‘
(صاحب مضمون سردست ریاست کیرالہ کے عزت مآب گورنر ہیں)
 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here