ساس یا سوتیلی ماں کی بجائے سہیلی بنے ہندی

0

یوگیندر یادو

اس سال یوم ہندی 14ستمبر کو ہندی بولنے والوں، ہندی سے محبت کرنے والوں اور ہندی کے لئے بہتر سوچنے والوں کو 5سنکلپ لینے چاہیے تاکہ ہمیں راج بھاشا پکھواڑے کی منافقت سے آزادی مل جائے اور یوم ہندی کے نام پر ہر سال ہندی کی برسی نہ منانی پڑے۔ 
سنکلپ کی شروعات سچ سے ہوگی۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ انگریزوں کے جانے کے بعد سے ہمارے ملک میں انگریزی کی غلامی سے آزادی نہیں بلکہ غلامی میں اضافہ ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں انگریزی کا بول بالا ہے ایک دن ہندی دیوس ہے اور باقی 364دن غیر علانیہ انگریزی دیوس۔ سچ یہ ہے کہ ’نامک کاغذ کا گہنا پہنے سرکاری ہندی کی حیثیت مالکن کی نہیں بلکہ سے بکا یا‘ جیسی ہے۔ جیسے مالکن سے جھاڑ کھانے کے بعد داسی گھر میں بچوں پر ہاتھ چلاتی ہے مالکن سے ملی ساڑی پہن کر پڑوسن پر اینٹھ دکھاتی ہے اسی طرح ہندی باقی ہندوستانی زبانوں پر جھوٹا رعب جماتی ہے، اپنی ہی درجنوں بولیوں کا گلا دباتی ہے۔ خود مایوسی میں ڈوبی ہندی دوسروں کی جلن کا ذریعہ ہے۔ تعداد کے حساب سے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی زبان بولنے والے اس سے نجات پانے کے لئے بے چین ہیں، جیسے کسان کا بیٹا کھیتی چھوڑنے کو۔ جس راج بھاشا کی توسیع سے باقی سب ڈرے بیٹھے ہیں وہ خود احساس کمتری سے مرے جارہی ہے۔ 
سرکاری پالیسی کا سچ یہ ہے کہ نئی  تعلیمی پالیسی کے بہانے مادری زبان میں تعلیم پر جو بھی بامعنی بحث ہوئی ہو، اس کا انگلش میڈیم اسکول نام کی مہاماری پر ذرا سا بھی اثر نہیں ہونے والا ہے۔ سرکار نے فوری طور پر واضح کیا کہ کیندریہ ودیالوں میں مادری زبان لاگو نہیں ہوگی، زبان کے سوال پر لچیلا رخ اپنا یا جائے گا۔ اچانک ایک تمل سیاسی لیڈر نے ہندی کی برتری کا خطرہ بتایا، سرکار نے فوراً صفائی دی کہ ہندی لادنے کی کوئی منشا نہیں ہے۔ یعنی انگریزی کی برتری کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نا پچھلی سرکاروں میں ہمت تھی اور نہ ہی ثقافتی راشٹرواد کی دہائی دینے والی اس سرکار میں یہ ہمت ہے کہ وہ اقتدار اور بازار میں انگریزی کی برتری کو ہاتھ بھی لگاسکے۔
مستقبل کا سچ یہ ہے کہ انگریزی کی برتری کے خلاف لڑائی اکیلے ہندی نہیں لڑسکتی۔ جب تک سبھی ہندوستانی زبانیں ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں پکڑتیں تب تک یہ لڑائی نہیں لڑی جاسکتی۔ تعداد میں سب سے بڑی ہندوستانی زبان ہونے کے ناطے ہندی کو خصوصی حق نہیں بلکہ خصوصی ذمہ داری لینی چاہیے کہ وہ سبھی ہندوستانی زبانوں کو جوڑنے کا کام کرے۔ یہ تبھی ممکن ہوگا جب ہندی چھوٹی مالکن بننے کا لالچ چھوڑ کر باقی تمام ہندوستانی زبانوں کی ساس اور خود اپنی زبانوں کی سوتیلی ماں بننے کے بجائے ان سب کی سہیلی بنے۔ ہندی ملک کی سبھی زبانوں کے بیچ پل کا کام کرسکتی ہے لیکن تبھی جب وہ خود اس کا مطالبہ نہ کرے، بس چپ چاپ بچھ جائے اور باقی زبانوں کو اپنے اوپر پیر رکھ کر آنے جانے کا موقع دے، اگر وہ اپنے اندر ہندوستان کے تنوع کو جذب کرپائے۔ 
اس سچ سے نکلا پہلا سنکلپ:ہم ہندی کی پوجا ارچنا کرنے کے بجائے اس کا استعمال کریں گے۔ صرف گھر اور کچن میں ہی نہیں، سماجی اداروں کے منچوں پر ہندی بولیں گے، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہندی بھی لکھیں گے۔ بچپن کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے ہی نہیں، ملک و دنیا کے مستقبل کی بات بھی ہندی میں کریں گے۔ ہندی میں صرف شعروشاعری ہی نہیں، بلکہ علم و سائنس کی بھی بات کریں گے۔ صرف بزرگوں سے ہی نہیں بلکہ بچوں سے بھی ہندی میں بات کریں گے، انہیں ہندی سکھائیں گے۔ 
دوسرا سنکلپ: ہم ہندی کرافٹس پر توجہ دیں گے، ہندی کے بازار کو پیسہ دیں گے۔ صرف ہندی کے سیریل دیکھنے، کرکٹ یا سیاست کی کمنٹری ہندی میں سننے سے زبان نہیں بچے گی، زبان تبھی بچتی ہے جب لفظ بچتے ہیں، گڑھے جاتے ہیں، ساہتیہ رچا جاتا ہے، معلومات کی تعمیر ہوتی ہے اس لئے ڈرائنگ روم میں ہندی کا اخبار رکھیں گے، بچوں کو برتھ ڈے گفٹ میں ہندی کی کتابیں عطیہ کریں گے، آسامیوں اور ملیالیوں سے سیکھیں گے کہ ادیبوں کی عزت کیسے کی جاتی ہے۔ ہندی میں بچوں اور نوجوان ادب اور سائنس کے لئے کئی ایوارڈ دیں گے۔ 
تیسرا سنکلپ:ہندی کی خصوصی ذمہ داری کو دیکھتے ہوئے ہم خالص ہندی کی ضد چھوڑ دیں گے، ہندی کو الگ الگ ’سُور اور وینجن‘ میں سننے اور پڑھنے کی عادت ڈالیں گے۔ شدھتا کے نام پر تدبھو کی جگہ تتسم، اردو کی جگہ سنسکرت زدہ اور باقی بولیوں کی جگہ کھڑی بولی کے استعمال کی ضد ہندی کو چھوٹا کردے گی، اسے ہندی دانوں کے دل سے دور کردے گی۔ ہندی تبھی بڑی بن سکتی ہے جب وہ بڑا دل رکھے۔ آکاش وانی کی سرکاری ہندی کے ساتھ ساتھ ممبیہ ہندی بھی چلے گی، اردو سے گھلی ملی ہندی بھی چلے گی تو درجنوں بولیوں میں رنگی ہوئی ہندی بھی۔ کبیر اور ریداس کی پرانی ہندی کو سمجھنا ہوگا تو ساتھ میں علم و سائنس کے ہر شعبے میں اپنی نئی ہندی کی ایجاد کرنا ہوگا۔ 
چوتھا سنکلپ: ہر ہندی بولنے والا ایک غیر ہندی ہندوستانی زبان سیکھے گا۔رویندر ناتھ ٹھاکر، سبرامنیم بھارتی، امرتا پریتم، کویمپو یا نامدیو دھسال کو اصل میں پڑھنے سے ہندی بھی مالا مال ہوگی۔ تیسری زبان کے نام پر رٹامار سنسکرت کی خانہ پری کے بجائے اگر اترپردیش میں تمل، بہار میں بنگلہ، ہریانہ میں تیلگو، راجستھان میں کنڑ، مدھیہ پردیش میں مراٹھی اور چھتیس گڑھ میں اڑیہ سکھائی جائے تو ہندی سے نفرت اپنے آپ ختم ہوجائے گی۔ 
پانچواں سنکلپ: لفظ کا استعمال ہم ہندی بولنے والے بھول کر بھی نہیں کریں گے۔ ہمارا آئین یا کوئی بھی قانون ملک میں کسی بھی ایک ’کا ذکر نہیں کرتا ہے۔ بہتر ہو کہ ہندی‘ کا کاغذی زیور بھی واپس کردے۔ ہندی کے پرچار پرسار کا کام سرکار نہ کرے۔ یہ کام ممبئی کی فلموں، ٹی وی اور کرکٹ پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر مہاتما گاندھی یا چکرورتی راج گوپالا چاری جیسا کوئی غیر ہندی زبان والا ہندی کے گن گان کرنا چاہے تو اس کی مرضی، ہندی بولنے والے خود یہ کام چھوڑ دیں۔ 14؍ستمبر کو ہندی دیوس کا ڈھکوسلا ختم کردیا جائے اور اس کی جگہ ہندوستانی زبانوں کا بھاشا دیوس منایا جائے۔ انگریزی کی برتری کو توڑنے کی قومی تحریک تبھی کامیاب ہوگی جس دن ہندوستان میں ہندوستانی زبانوں کو سال بھر میں کسی ایک دن کی ضرورت ہی نہ رہے۔
(مضمون نگار سوراج ابھیان کے 
بانی و صدر ہیں)
 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here