مرد و زن میں تفریق کا ایک اور پہلو

0

ارچنا دتّا
(مترجم: محمد صغیر حسین)

حال ہی میں دہلی میں واقع لڑکیوں کے ایک مشہور و معروف کالج کی ایک لڑکی کی خودکشی نے کہرام برپا کردیا۔ ریاضی(آنرز) کی طالبہ ایشوریہ ریڈی ایک مستقل ہوم انٹرنیٹ کنکشن، ایک موبائل فون اور ایک لیپ ٹاپ نہ ہونے کی وجہ سے بے حد پریشان تھی۔ اس نے مالی تعاون کے لیے ایک شخص سے درخواست کی اور اظہار غم و الم کرتے ہوئے اس نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی: ’’آن لائن کلاسوں کے سبب لیپ ٹاپ پر مطالعہ کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے، اور میں کسی صورت ایک لیپ ٹاپ نہیں خرید سکتی کیوں کہ میرا کنبہ قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔‘‘ اس سے قبل، اس کے کالج میں طلبا یونین نے ایک سروے کرایا تھا جس سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ طلبا کی 30فیصد تعداد کے پاس لیپ ٹاپ نہیں ہے اور 40فیصد کے پاس معقول انٹرنیٹ کنکشن نہیں ہے۔ اس کا اسکالرشپ مینجمنٹ پورٹل نے کل ہند پیمانے پر 12-28 سال کے 10,000طلبا کا انٹرویو لیا۔ یہ طلبا اُن کنبو ںسے متعلق تھے جن کی سالانہ آمدنی سات لاکھ روپے سے کم تھی۔ اس مطالعے سے پتہ چلا کہ ان میں صرف 17فیصد کے پاس لیپ ٹاپ تھے۔ 4فیصد کے پاس ٹیبلیٹ تھے اور باقی 79فیصد کے پاس آن لائن مطالعے کا واحد ذریعہ اسمارٹ فون تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ 57فیصد طلبا کے لیے ناقص اور غیرمعیاری انٹرنیٹ کنکشن سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ ایس این ڈی ٹی یونیورسٹی برائے خواتین، ممبئی کی پروفیسر میرا دیسائی کہتی ہیں: ’’تقریباً 30فیصد طلبا آلے کے نہ ہونے یا پھر اُن کے استعمال کے مسائل سے دوچار ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل ڈاٹا کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔‘‘ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، ایسے کنبے جن میں پانچ سال سے لے کر 24سال کے افراد ہوں، صرف8فیصدکنبوں کے پاس کمپیوٹر بھی تھا اور انٹرنیٹ کی سہولتیں بھی تھیں۔ وبا پھیلنے کے بعد، عالمی بینک نے متنبہ کیا تھا کہ حصول علم کے میدان میں ایک بحران پیدا ہونے والا ہے جو نوع بشر کو ایک طویل مدت تک خسارہ پہنچائے گا اورمعاشی مواقع کو کم کردے گا۔‘‘ یونیسکو(UNESCO) نے دنیا بھر کے 60فیصد سے زیادہ طلبا کے حقوق انسانی پر برے اثرات کے بارے میں اپنی تشویشات کا اظہار کیا ہے۔ تعلیمی نظام کو جاری رکھنے کے لیے دنیا نے ڈیجیٹل طریق کار کو اپنا لیا لیکن اس اقدام کے سبب ڈیجیٹل سسٹم تک رسائی اور قوت خرید کے بہت سارے دیرینہ مسائل سطح پر نمودار ہوگئے۔ ایک ماہر تعلیم اور سیلزبرگ (Salzburg) فیلو، میتاسین گپتا کہتی ہیں: جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، ’’یہاں انفارمیشن کی شاہراہ پر قدم رکھنے سے پہلے ہی وبا آپہنچی جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان ایک نمایاں خط فاصل کھنچ گیا کیو ںکہ صرف ایک تہائی آبادی ہی آن لائن تعلیم کی سہولتوں سے مستفیض ہونے کی قدرت رکھتی تھی۔‘‘ ہندوستان میں یہ ڈیجیٹل تفریق زیادہ شدید ہے کیوں کہ صرف23.8فیصد کنبے ہی انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔ جہاں شہروں میں یہ تناسب 42فیصد ہے وہیں دیہی علاقوں میں یہ محض14.9فیصد ہے۔
ہندوستان میں تقریباً 15لاکھ اسکول ہیں جن میں کم و بیش 32کروڑ طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وبا کی وجہ سے ایک عرصۂ دراز تک اسکول بند ہوجانے کے سبب لوگ ای لرننگ کی طرف تیزی سے متوجہ ہورہے ہیں۔ این سی ای آر ٹی(NCERT) کے ایک مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’آن-لائن کلاسوںمیں شرکت کے لیے 27فیصد طلبا کے پاس اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ نہیں ہے۔۔۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ اساتذہ میں آن لائن پڑھانے کی استعداد نہیں ہے۔‘‘ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، کرناٹک اور اتراکھنڈ کے 26اضلاع کے پبلک اسکول سسٹم پر عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے ایک مطالعے نے بھی ڈیجیٹل طریقۂ تعلیم و تدریس سے اساتذہ کی مایوسی کا انکشاف کیا ہے کیوں کہ اس طریقۂ تعلیم میں بچوں کے ساتھ کسی قسم کا جذباتی تعلق قائم نہیں ہوپاتا یا اس بات کا بخوبی اندازہ نہیں لگ پاتا کہ انہوںنے کیا سیکھا ہے۔‘‘ سین گپتا اپنی تشویشات کا اظہار کرتی ہوئی کہتی ہیں: ’’چوں کہ ہمارا تعلیمی نظام رفتار پر بہت زیادہ اصرار کرتا ہے اور عمر کے ساتھ مواقع کو ہم رشتہ کرتا ہے، اس لیے جو پیچھے رہ جائیں گے وہ شاید کبھی منزل کو نہ پہنچ سکیں۔۔۔ بحران کے دورمیں ہمدردی کا فقدان سب سے زیادہ غریب ترین طلبا کو مجروح کرے گا۔‘‘ وبا سے پہلے ہی، ہندوستان میں اسکول سے ناآشنا بچوں کی تعداد تین کروڑ بیس لاکھ کے قریب تھی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ تعلیمی پالیسی کا نیا مسودہ ای-لرننگ کی حوصلہ افزائی تو کرتا ہے لیکن مساوات اور معیار کے مسئلوں پر خاموشی اختیار کرتا ہے۔ 
یونیسکو کے مطابق تعلیم کے ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے جنسی ڈیجیٹل تفریق (Gender Digital Divide/GDD) کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ہندوستان میں جی ڈی ڈی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ یہاں صرف 21فیصد عورتیں موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں جب کہ مردوں کا تناسب 42فیصد ہے۔ بہار میں پٹنہ اور مظفرپور اضلاع کے دس سرکاری اسکولوں کی حالیہ صورت حال کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں(28%) کے مقابلے میں لڑکوں (36%) کے پاس اسمارٹ فون کی رسائی زیادہ ہے۔ اُن لڑکیوں کے معاملے میں جن کے گھر والوں کے پاس موبائل فون ہوتا ہے۔ عام طور پر فون مرد رکنِ خاندان کے پاس ہوا کرتا ہے اور وہ نہ تو اسے آن لائن کلاسز کے لیے استعمال کرسکتی ہیں اور نہ ہی اسکول کے اساتذہ کی کال اٹھا سکتی ہیں۔
اترپردیش، بہار، آسام، تلنگانہ اور دہلی میں جب 3000 ایسے کنبوں کا جائزہ لیا گیا جو حاشئے پر کھڑے ہوئے ہیں تو معلوم ہوا کہ اُن میں سے 70فیصد افراد کے پاس کھانے پینے کا سامان ناکافی ہے اور ’’اگرچہ وبا نے اسکول جانے والے تمام طلبا اور طالبات پر منفی اثرات ڈالے تھے لیکن موخرالذکر کو اضافی دیرپا منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریباً 37فیصد طالبات کو یقین نہ تھا کہ اب وہ کبھی اسکول جابھی سکیں گی۔‘‘ ایک دہلی مقیم غیرسرکاری تنظیم لکشیہ جیون جاگرتی جھگی جھونپڑیوں میں مصروف خدمت ہے۔ اس تنظیم کے ہم موسس اور سی ای او راہل گوسوامی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’لڑکیوں کو تعلیم دینے کے سلسلے میں غیرمراعات یافتہ کنبوں کی مشاورت سے جو کچھ بھی فائدہ ہوا تھا، وہ سب کچھ صفر ہوگیا۔ اگرچہ آن لائن کلاسز جاری ہیں، تاہم کئی لڑکیاں موبائل، لیپ ٹاپ، کنکشن اور اخلاقی حوصلہ افزائی کے فقدان کے سبب سسٹم سے فیض یاب نہیں ہوپارہی ہیں۔‘‘ اکثر و بیشتر طالبات کو نگہداشت کے کام سونپ دیے جاتے ہیں۔ دیسائی افسوس کے ساتھ کہتی ہیں: ’’وبا کے دوران بھی یہی صورت حال برقرار رہی۔ چوں کہ اُن کی تعلیم کو ترجیح نہیں دی جاتی، اس لیے وسائل میں جنسی تفریق کارفرما ہوتی ہے اور انہیں پدرسری طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ادارے اور ریاست کے ارباب اقتدار، طلبا کی پریشانیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ تعلیمی سیکٹر کو لازمی خدمات کی صف میں شمار نہیں کیا جاتا۔‘‘
بلاشبہ طالبہ ایشوریہ ریڈی کی ناگہانی موت نے سسٹم کے ایک بڑے فرق کو آشکار کردیا کہ طلبا بالخصوص طالبات ڈیجیٹل محرومیوں، معاشی اور جذباتی خطرات سے دوچار ہیں۔ اب کئی تعلیمی ادارے اور سابق طلبا تنظیمیں، مالی تعاون اور وظائف کی اسکیمیں لے کر سامنے آرہی ہیں۔ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کے تحت 2025-26 تک چار کروڑ طلبا کو مفت لیپ ٹاپ، پی سی اور موبائلز دیے جانے کا منصوبہ بھی زیرغور ہے۔ کاش کہ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ میں ریڈی جیسا المیہ پھر نہ واقع ہو کیو ںکہ اس کی اساس ’’اختیار برائے تفویض اختیارات‘‘ کے مقولے پر قائم ہے۔
(مضمون نگار سبکدوش IISافسر ہیں اور میڈیا ایجوکیٹر ہیں)
(بشکریہ دی پائنیر)
 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here