سرکاری اداروں میں یک چشمی فکر

0

محمد حنیف خان

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ حکومت بغیر نظام کے نہیں چل سکتی ہے،جب بھی نظام کو بالائے طاق رکھ کر اس حکومت کو چلانے کی کوشش کی گئی اس کے برے نتائج کا ملک کو سامنا کرنا پڑا۔اندرا گاندھی کے ذریعہ لگائی گئی ایمرجنسی کو اسی تناظر میں دیکھا جا تا ہے۔ عوامی اور حکومتی دونوں سطح پر اس کو قبول نہیں کیا گیا، اسی لیے ایمر جنسی کے دور میں جو لوگ جیل گئے تھے ان کو نہ صرف ’’پاسبان جمہوریت ‘‘کے نام سے تعبیر کیا گیا بلکہ حکومت کی سطح پر ان کو پنشن اور دیگر مراعات بھی دی گئیں تاکہ جمہوریت نوازوں کے ذریعہ برداشت کی گئی تکالیف کا کچھ مداوا ہو سکے۔ایسا اس لیے بھی کیا گیا کیونکہ یہ ملک جمہوری ہے اور جمہوریت ایک ایسے نظام کا نام ہے جس میں عوام سب سے زیادہ پرسکون ہوتے ہیں، اس پر جب کوئی شب خون مارتا ہے تو صرف چند لوگ جیل کی کال کوٹھریوں میں نہیں پہنچ جاتے ہیں اور نہ ہی چند لوگوں کی حقوق سلبی ہوتی ہے بلکہ حقیقت میں پورے نظام کو مٹھی میں کرلیا جاتا ہے جس کے بعد کوئی نظام کوئی ادارہ اپنی اصلی شکل میں نہیں بچتا ہے، اس وقت اگر کچھ ہوتا ہے تو وہ ہے صرف حکم حاکم جس کے نتیجے میں مرگ مفاجات کے سوا کچھ نہیں بچتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پاسبان جمہوریت بیدار ہوں اور حکم حاکم کے بجائے نظام کے نفاذ کا مطالبہ کریں ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب ملک میں جمہوریت بھی ہوگی، جمہوری ادارے بھی ہوں گے مگر ان میں کام کرنے والے یک چشمی فکر کے حامل ہوں گے۔ چونکہ جمہوریت میں انتخابی اور امتحانی عمل کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے،ایسے میں حکومت ان لوگوں سے دو طرح کا فائدہ اٹھا سکتی ہے، ایک تو موجودہ دور میں اور دوسرے اس وقت جب وہ حکومت میں نہ ہوں۔

ہندوستان میں جمہوری نظام ہے لیکن جمہوریت اپنی شکل میں کتنی بچی ہے اس پر پڑے پردے کو ابھی کچھ دنوں قبل ایک عالمی ’’دی اکنامکس انٹلیجنس یونٹ‘‘(ای آئی یو)کی رپورٹ نے ہٹادیا ہے۔ اس نے ہندوستان میں عوام کو ملنے والے اور سلب کیے جانے والے ان کے حقوق کے تجزیہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ تیار کی جس میں 167ممالک کو شامل کیا تھا۔ ان ممالک میں ہندوستان کا مقام 53واں ہے۔2014میں جمہوریت کے معاملے میں ہندوستان اسی رپورٹ میں 27ویں مقام پر تھا۔ رپورٹ میں ہندوستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا گیا ہے جہاں کی جمہوریت کو ’’بیمار اور لنگڑی جمہوریت‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔اس رپورٹ پر حکومت نے اب تک کوئی صفائی بھی پیش نہیں کی ہے اور نہ ہی اس رپورٹ کی تردید کی ہے۔یہ وہی حکومت ہے جو کسان تحریک کی حمایت میں بولنے پر رضاکاروں کو بھی نشانے پر لینے سے احتراز نہیں کرتی ہے اور اس کو ملکی معاملات میں دخل اندازی سے تعبیر کرتی ہے مگر اس معاملے میں اس نے چپی کو ہی بہتر و مناسب سمجھا۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں جمہوری معاملات کی کیا حالت ہے۔ جمہوریت کی پاسبانی یوں تو ہر شہری کا حق ہے کیونکہ اس سے اس کا وجود وابستہ ہو تا ہے لیکن حقیقت میں اس کی ذمہ داری اپوزیشن پر ہوتی ہے،اس کی توانائی جمہوریت کی طاقت ہے لیکن جب وہ جانکنی کے عالم میں ہو تو جمہوریت کا تحفظ بھلا وہ کیسے کر سکتی ہے۔جس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ جمہوریت میں سر گنے جاتے ہیں یہاں کبھی کبھار سچائی اور حق اپنی موت آپ مرجاتے ہیں کیونکہ جب بھی رائے شماری کی بات آتی ہے تو ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے جن کا تعلق کسی خاص نظریہ اور فکر سے ہوتا ہے، ایسے میں اپوزیشن چاہنے کے باوجود کچھ نہیں کر سکتا ہے۔متعدد قوانین سازی میں پارلیمنٹ میں یہی دیکھنے کو ملا ہے۔اس کے باوجود کبھی کبھی اپوزیشن اپنی بیداری کا ثبوت دیتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جانکنی کے عالم میں ضرور ہے لیکن ابھی پوری طرح سے اس کی موت واقع نہیں ہوئی ہے۔
راہل گاندھی ایک ایسے لیڈر ہیں جو سچ بولتے ہیں اور اپنی غلطیوں کے اعتراف سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ہیں، یہ بات اور ہے کہ ان کی سچائی عوام کو کانگریس کے حق میں ووٹنگ کے لیے راغب نہیں کر سکی ہے،اس کے باوجود وہ بغیر کسی خوف کے بولتے ہیں۔ابھی چند دنوں قبل انہوں نے نہ صرف 1975سے 1977کے درمیان21ماہ کی ایمرجنسی کو غلط قراردیا بلکہ موجودہ صورت حال پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے ایک اہم بات یہ کہی جس پر غور کیا جانا چاہیے کہ گانگریس نے ایمرجنسی ضرور لگائی تھی لیکن اس نے جمہوری اداروں کے ڈھانچوں پر قبضہ جمانے کی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ کانگریس کی فکر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ان کی یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ’’جدید جمہوری نظام اداروں کے توازن کی وجہ سے ہے،ادارے آزادی کے ساتھ کام کرتے ہیں،ان اداروں کی آزادی پر ملک کی سب سے بڑی تنظیم جسے آر ایس ایس کہا جاتا ہے، حملہ کر رہی ہے،یہ (حملہ) منظم طور پر کیا جا رہا ہے۔ہم یہ نہیں کہیں گے کہ جمہوریت کو کمزور کیا جارہا ہے بلکہ اسے ختم کیا جا رہا ہے‘‘۔انہوں نے مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ کی گفتگو کو بھی عام کیا کہ ’’جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے بتایا تھا کہ سینئر نوکر شاہ(آئی ایس افسران)ان کے احکامات کو نہیں مانتے ہیں کیونکہ وہ آر ایس ایس سے جڑے ہیں، اس لیے ابھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایمر جنسی سے بالکل الگ ہے‘‘۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آج ملک میں جو حالات ہیں وہ ایمر جنسی سے مختلف ہیں،اس کی کئی مثالیں موجود ہیں،حکومت کے خلاف لب کشائی ایک ایسا جرم ہے جس کی پاداش میں کسی بھی شخص کو کبھی بھی قید کیا جا سکتا ہے،اس کے خلاف حکومت ’’ بیک ڈور ‘‘ سے کارروائی کرسکتی ہے جس میں وہ سرکاری اداروں سی بی آئی اور ای ڈی وغیرہ کے استعمال سے بالکل پرہیز نہیں کرتی۔حکومت نے آج تک عوامی خواہشات کے مطابق کبھی اپنے قدم پیچھے نہیں کھینچے خواہ وہ تین طلاق کا معاملہ ہو یا سی اے اے، این آر سی اور اب کسان تحریک،اس نے اپنے فیصلے کو آخری ہی مانا ہے اور اسی پر جمی رہی ہے۔
جمہوریت اور حکومت کے تناظر میں حکومت کے ایک فیصلے کی جانب توجہ مبذول کرانا نہایت ضروری ہے۔ 2018 میں حکومت نے سکریٹری سطح کے نوکر شاہوں کوبغیر کسی امتحان کے بھرتی کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا،جس کو ’’لٹرل انٹری ان سول سروس‘‘ کا نام دیا گیا۔حکومت کا موقف یہ رہا ہے کہ اس سے ماہر افراد کی خدمات لی جا سکیں گی،اس میں کوئی بھی ملک کا شہری بغیر امتحان کے نوکر شاہ بن سکتا ہے۔تعجب کی بات ہے کہ اس کے خلاف تحریک نہیں چھیڑی گئی اور حکومت اب دوسری بار ان کی بھرتی کرنے جارہی ہے۔ اس سے قبل بغیر کسی امتحان کے نو افراد کی بھرتی سول ایوی ایشن، کامرس، معاشی معاملات، انوائرمنٹ، فائنانشیل سروسیز، روڈ ٹرانسپورٹ،شپنگ اور ایگریکلچر کے شعبے میں کی جا چکی ہے۔
راہل گاندھی کے بیان کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت کا یہ اقدام نہایت خطرناک محسوس ہوتا ہے۔جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت سکریٹری سطح پر بغیر کسی امتحان کے اگر بھرتی کر رہی ہے تو اس سے غیرجانبداری کی امید نہیں کی جا سکتی ہے کیونکہ بی جے پی آر ایس ایس کا سیاسی بازو ہے،جس کی فکری جڑیں تعصب میں پیوست ہیں، اس کی اپنی آئیڈیا لوجی ا ور فکر ہے جس سے اس نے کبھی انحراف نہیں کیا ہے،کتنے ایسے لوگ ہیں جو آر ایس ایس سے براہ راست حکومت میںبھیجے گئے ہیں خود وزیراعظم نریندر مودی بھی بغیر سیاسی زمین کے براہ راست سیاست میں بھیجے گئے اور سیدھے ان کو گجرات کا وزیراعلیٰ بنایا گیا۔بی جے پی اور آرایس ایس میں اس طرح کا تبادلہ عام بات ہے۔ایسے میں اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ حکومت کاغذات میں جس شفافیت اور مہارت کی بات کرتی ہے، وہ اس پر عمل بھی کرے گی۔حکومت اتنی کمزور تو نہیں ہے کہ وہ اپنے کام کے افسران کا امتحان پاس کرکے آنے والے نوکر شاہوں میں انتخاب نہ کرسکے۔اور پھر ان لوگوں کا کیا ہوگا جو بے انتہا محنتوں کے بعد سول سروسیز جیسا امتحان پاس کرکے آتے ہیں یا اس عہدے پر پہنچنے کا خواب دیکھتے ہیں۔اگر حکومت کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پاس افسران کی کمی ہے تو وہ اس کمی کو ایک نظام کے ذریعہ پورا کرے اپنے حکم کے ذریعہ نہیں،کیونکہ حکم جمہوری نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔اس طرح کے حکم ناموں سے جہاں ایک طرف نوجوانوں کی حق سلبی ہورہی ہے وہیں دوسری طرف ایسے لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر پہنچانے کا خطرہ بڑھ رہا ہے جو فکری سطح پر یک چشمے ہوں۔ایسے میں جمہوریت کا کیا ہوگا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،اس طرح کا عمل دراصل ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ کا کھلا ہوا ورژن ہے، جسے جمہوریت میں قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاسبان جمہوریت بیدار ہوں اور حکم حاکم کے بجائے نظام کے نفاذ کا مطالبہ کریں ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب ملک میں جمہوریت بھی ہوگی، جمہوری ادارے بھی ہوں گے مگر ان میں کام کرنے والے یک چشمی فکر کے حامل ہوں گے۔ چونکہ جمہوریت میں انتخابی اور امتحانی عمل کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے،ایسے میں حکومت ان لوگوں سے دو طرح کا فائدہ اٹھا سکتی ہے، ایک تو موجودہ دور میں اور دوسرے اس وقت جب وہ حکومت میں نہ ہوں،اس لیے حکومت کے اس عمل کو پیش بندی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS