اوکھلا:ذاکر نگر ،ابو الفضل انکلیو اور سریتا وہاروارڈوں میں مسائل کی بھرمار

0

منظور شدہ اورغیر منظور شدہ علاقے کا سہارا لے کر عوام کی جوابدہی سے پلڑا جھاڑنے کی ناکام کوشش
نئی دہلی (اظہار الحسنایس این بی)دہلی میونسپل انتخابات 2022کو لے کر 250وارڈوں میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اسکوٹنی کے بعد جاری فہرست میں درست پائے گئے پرچوںسے مطمئن امید وار اب پوری طرح انتخابی تشہیر رفتار دینے میں مصروف ہیں ۔اس دوران مختلف پارٹیوں کے امید واروں کاا یک دوسرے پر الزام تراشی کا دور بھی شروع ہوگیا ہے۔دلچسپ یہ ہے کہ یہ نمائندے کچھ عوامی مسائل کو حل کر مقامی لوگوں پر احسان جتاتے رہے ہیں لیکن یہ بھول رہے ہیں کہ یہ تو ان کی بنیادی ذمہ داری ہے کیونکہ عوام کے ٹیکس سے ملی رقم سے ہی یہ چھوٹے موٹے کام کرا رہے ہیں جبکہ ان کے حساس مسائل تو جس کے تس بنے ہوئے ہیں،جن کو حل کرنے یا کرانے کے بجائے ،اس طرف سے آنکھیں بن کر رکھی ہیں ،جس کی وجہ سے لوگوں میں غصہ بھی پایا جا رہا ہے ، جہاں تک مسلم اکثریتی علاقہ اوکھلا اسمبلی حلقہ کے تحت وارڈوں کا معاملہ ہے یہاں منتخب ہونے والے نمائندے وارڈ وں کا زیادہ تر حصہ غیر منظور شدہ ہونے اور ایم ایل اے اور کونسلر کے صاف صفائی ،سڑک ،نالی ،کھڑنجے ،سڑک ،پانی جیسے بنیادی کاموں کو ایک دوسرے کا بتا کر پلڑا جھاڑرہے ہیں ،حالانکہ اپنی طویل مدت کار میں محض سیور درست کرانے، کوڑا اٹھوانے کسی گلی یا سڑک پر چھوٹا موٹا تعمیر ی کام کا افتتاح کرنے یا پھر مساجد کے گیٹ پر گملے رکھوا کر سفید پاﺅڈر ڈلوانے کے معمولی کام کو سوشل میڈیا پر بڑے زور شور سے تشہیر کرنے میں زیادہ مصروف دکھائی دیے ہیں تاکہ عوام کو متاثر کیا جاسکے ۔لیکن اس طرف توجہ نہیں گئی کہ گلی اور سڑک پر ابلتے سیور ،بارش کے موسم گہ جگہ جگہ بھرنے والے گندے پانی کو پار کر مساجدوں تک پہنچنے میںعوام کو کتنی تکلیف ہوئی ،اس کا احساس تک انہیں ہو پارہا ہے جبکہ کسی منتخب نمائندے کوعوام نے 15سال تو کسی کو 5سال تو کسی کو دوسرے ٹرم میں ایوانوں میں پہنچایا تاکہ وہان کے بنیادی مسائل حل کراکے ان کی خدمت کرسکیں ۔
اوکھلا اسمبلی حلقہ کے ذاکر نگر ،ابو الفضل انکلیو اور سریتا وہار وارڈ میں ٹریفک جام ،سڑکوں اور گلیوں میں گڈھے ہی گڈھے ،سیور جام اور ابلتے سیور ، 90فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی نہ ملنا ،کوڑے اور غلاظت کے ڈھیر سے پھیلی گندگی ، آمدرفت کے اہم راستوں پرمختلف طرح کا انکروچمنٹ مرد ،عورت بزرگوں،اسکولی بچوںکے ساتھ عام راہ گیروں کے لئے درد سر بنا ہوا ہے ۔عوام کے سامنے یہ بنیادی مسائل ایک دن کے نہیںبلکہ عرصے سے چلے آرہے ہیں ۔لیکن منتخب نمائندے ان کو حل کرنے میں کم سنجیدہ رہے ہیں ،جبکہ غیر قانونی طور چار ،پانچ اور چھ منزلہ عمارتوں کو تعمیر کرانے ،پلاٹوں اور عمارتوں کے ڈسپوٹ مسئلوں کو حل کرانے ،آپسی گروہ بندی میں فائرنگ ،قتل جیسی واردات ،مجرمانہ وارداتوں میں پھنسے لوگوں کے معاملوں کو حل کرانے میں زیادہ دلچسپی لیتے رہے ہیں ، کیونکہ اس طرح کے مسئلوں کو حل کرانے میں ان کا سیاسی اور معاشی فائدہ زیادہ ہوتا رہا ہے۔نمائندہ راشٹریہ سہارا نے جب علاقے کے مختلف مقامات پہنچ کر عام لوگوں سے رائے جاننی چاہی تب تصویر شائع نہیں کرنے کی شرط پربہت سے لوگوں نے مسائل کے بارے میں بات کی اور مشورے بھی دیے ۔ذاکر نگرروڈ پر علاقے کے ہی ایک راہ گیر کلیم اللہ نے اپنا درد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیور جام ، ابلتے سیور تو سال بھر کی دقت ہے مگر جب آپ ذاکر نگر سے جامعہ یا نیوفرینڈس کالونی کی سمت جائیں تب اگر آپ ای رکشا میں بھی بیٹھ کر سفر کریں تب آپکو جسمانی طورپر تکلیف ہوتی ہے اور اس کی اہم وجہ مین ذاکر نگر ۔بٹلہ ہاﺅس روڈ پرگڑھوں کا ہونا اور انہیںلمبے وقت سے بھرا نہیں جانا ہے،جس کی وجہ سے گاڑیاں ہچکولے لیتی ہیں۔بٹلہ ہاﺅس چوک پر ایک ملے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ اگر وہ یا کوئی دیگر یہ سوچے کہ اسکول کالج یا اسپتال یا پھرنجی کام سے اپنی منزل پر پہنچ جاﺅں تب وہ اگر نصف گھنٹہ ایڈوانس میں رکھ کر نہ لے تب وہ اپنی منزل پر پہنچ ہی نہیں سکتا ہے ۔اور اس کی وجہ سے سڑکوں پر بے تحاشہ انکروچمنٹ کا ہونا ہے اور بے ترتیب ای رکشا کی بھر مار ہے ،اس طرف نہ سرکاری ایجنسی اور نہ ہی منتخب نمائندوں کی توجہ ہے۔
اوکھلا ہیڈ پر ملے ایک بزنس مین کلیم الدین کا کہنا تھا کہ اگر وہ یا کوئی دیگر کسی اہم کام سے جامعہ آئے گا تب وہ میٹرو سے تو با آسانی آسکتا ہے لیکن اگر وہ اپنی گاڑی ،بس ،آٹو وغیرہ سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سمت سے آگیا تب وہ یہ سوچے گا وہ کام کرکے واپس کب اپنی منزل پر پہنچے گا ،اسے نہیں معلوم اور اس کی وجہ جامع میٹرو اسٹیشن سے بٹلہ ہاﺅس،تکونہ پارک ،اوکھلا مارکیٹ اور یہاں تک جامعہ تھانہ کے ارد گرد کی سڑکوں پر ٹریفک جام کا ہونا ہے،لاکھ کوششوں کے باوجود جام کی دقت دور نہیں ہوپارہی ہے اور اس وجہ سے مقامی لوگ ہی ہر دن جوجھ رہے ہیں ۔ ابو الفضل انکلیو پر ملے ایک ٹیچرسعود انصاری کا کہنا تھا کہ جامعہ نگر علاقہ تعلیم یافتہ علاقہ کے طور پر مشہور لیکن یہاں پڑھائی کرنے یا نوکری یا مزدوری کرنے آئے لوگو ں کو نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہوپا رہا ہے ،پانی خرید کر پینا پڑتا ہے ،اتنے مکانات تعمیر ہو تے رہتے ہیں ،ان کی توڑ پھوڑ اور مٹریل کی خطرناک دھول لوگوں کو بیمار کر رہی ہے ۔
شاہین باغ میں ملے ایک شخص چودھری اسلم کا کہنا تھا کہ صاف صفائی پر سرکار ،ایم سی ڈی اور منتخب نمائندوں کی کوئی توجہ نہیں ہے ،اندرورنی گلیوں میں تو کوڑا کڑکٹ اور گندگی رہتی ہی ہے لیکن جب ابو الفضل انکلیو ۔شاہین باغ مین روڈ پر جائیں گے تب ایک لمبا غلاظت سے اٹا پڑا ہے ساتھ ہی الشفا اسپتال کے عین مقابل عارضی/مستقل ڈھلاﺅ گھر بنادیا گیا ہے یہاں اتنی غلاظت سڑک پر بکھری رہتی ہے اور بدبو کی وجہ سے راہ گیروں کو نکلنا محال ہوگیا ہے حالانکہ یہاں اسپتال کے ساتھ اسکول اور دیگر ادارے قائم ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں جبکہ نالے کے سہارے ایک بڑی آبادی رہتی ہے ،مہلک بیماری پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔نئی بستی کے رہنے والے حفیظ سیفی کا کہنا ہے ابو الفضل انکلیو شاہین باغ روڈ پر نالے اور ڈھلاﺅ گھر کی شکایت متعلقہ لوگوں سے کی گئی کہ وقتاً فوقتاً صفائی ہونی چاہئے لیکن بار بار کہنے کے باوجود عمل نہیں ہورہا ہے۔
شاہین باغ آٹھ نمبر ٹھوکرپررحمانی کمپاﺅڈ پر ملے رئیس الدین کا کہنا تھا کہ یہاں قائم عارضی ڈھلاﺅ گھر جہاں مقامی لوگوں کی جی جنجال بن گیا ہے وہیں دہلی کے سرحدی صوبوں سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سمت آنے والے عام لوگ بھی یہاں کئی کئی تک پڑی رہنے والی غلاظت سے اٹھنے والی بدبو سے بہت زیادہ پریشان ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ جتنا کوڑا یہاںپڑا رہتا ہے وہ شاہین باغ کا نہیں ہوسکتا ہے دیگر علاقوں سے یہاں لایا جاتا ہوگا لیکن وقت سے نہیں اٹھایا جاتا ہے ۔بار بار مدعا بھی اٹھتا رہتا ہے لیکن کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔حاجی کالونی اور غفار منزل میں ملے کلو ملک اور چودھری رحیم کا کہنا تھا کہ پانی،صاف صفائی وغیرہ کے ایشو الگ ہیں لیکن یہاں سرکار نے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ویسٹ انر جی پلانٹ قائم کردیے ہیں اوکھلا کے عوام کو ان پلانٹوں کی ضرورت نہیں ہے جن سے مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں بلکہ جامعہ نگر کے عوام کو اسکول ،اسپتال ،پینے کا پانی اور ٹریفک جام سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔
نمائندہ راشٹریہ سہارا کو مختلف علاقوں میں ملے عام لوگوں شارق قریشی ، احمد علی ،ارشد صدیقی ،تابش کلیم ،افروز عالم ،حلیم زیدی اور اختر معین ،کوثر اعظم وغیرہ کا کہنا تھا کہ سرکار اور عوامی نمائندوں کو عوام کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے ،نہ کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی ،کیونکہ عوام کو ایوانوں میں اپنے علاقے کی نمائندگی کے لئے بھیجتی ہے تاکہ وہ ان سے حاصل کی گئی مختلف ٹیکس کی رقم کو ان کے بنیادی مسائل صاف صفائی ، پینے کا پانی ،ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کو درست کرائیں اور انکروچمنٹ اور ٹریفک آمدرف جیسے حساس مسئلوں سے نجات دلائیں۔