خودغرضی کا انجام

0

کسی جنگل میں تین گائیں اکٹھی رہتی تھیں۔ ان میں سے ایک سفید، دوسری کالی اور تیسری بھورے رنگ کی تھی۔جنگل میں ان کے کھانے کے لیے بہت سبزاتھا اور پینے کے لیے ایک صاف ستھرا بہتا ہوا چشمہ تھا۔ وہ تینوں آپس میں بہت محبت کے ساتھ رہتی تھیں ،جب بھی کوئی جانور ان پر حملہ کرتا تو وہ تینوں مل کر اس کا مقابلہ کرتیں اور اسے بھاگنے پر مجبور کر دیتیں۔
ایک دن ایک شیر اس جنگل میں آنکلا۔ سر سبز وشاداب جنگل شیر کو بہت اچھا لگا۔شیر ابھی اس جنگل میں رہنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی نظر ان تینوں پر پڑی۔آہا، تین،موٹے تازے شکار ،انہیں کیسے شکار کیا جائے؟شیر نے دل میں سوچا۔
شیر نے فوراً آگے بڑھ کر ان سے سلام دعا کی پھر عاجزی کے ساتھ ان سے بولا: ’’اے خوبصورت گایوں،کیا تم اجازت دوگی کہ میں بھی اس جنگل میں کچھ دن تمہارا مہمان بن کر رہوں؟‘‘
ان تینوں نے کچھ دیر سوچا پھر ایک دوسرے سے کہنے لگیں: ’’ہم تین ہیں اور یہ اکیلا ،یہ اگر رہے بھی تو ہمارا کیا بگاڑ سکے گا۔‘‘اس لیے انہوں نے اسے خوشی خوشی وہاں رہنے کی اجازت دے دی۔ شیر ان کے ساتھ جنگل میں رہنے لگا۔ گائیں تو وہی سبز پتے اور گھاس کھاتیں لیکن شیر چھوٹے موٹے جانوروں پر گزارا کرتا تھا مگر ہر وقت ان گایوں کو کھانے کی فکر میں رہتا۔
چھوٹے چھوٹے جانور شیر کے ڈر سے دوسرے جنگل میں جانے لگے۔اب شیر کو اور بھی مشکل ہوگئی۔ اس کو کئی کئی دن بھوکا رہنا پڑتا۔ شیر سوچتا کہ اگر یہ تین کے بجائے ایک گائے ہوتی تو میں مزے لے کر اسے کھا جاتا۔ اس نے سوچا کہ ان تینوں گایوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے تو ان کو کھانے میں آسانی ہوجائے گی چنانچہ ایک دن شیر کالی اور بھوری گائے کے پاس آیا۔ان سے میٹھی میٹھی باتیں کرنے کے بعد بولا: ’’یہ سفید رنگ کی گائے ہم سب کے لیے بہت بڑی مصیبت ہے کیونکہ اس کا سفید رنگ دور ہی سے نظر آجاتا ہے۔جبکہ میرا اور تمہارا رنگ دور سے نظر نہیں آتا۔‘‘
شیر اتنا کہہ کر لمحہ بھر کو رکا اور پھر کہنے لگا:’’اب اگر کسی انسان نے دور سے بھی اس سفید گائے کو دیکھ لیا تو وہ اسے پکڑنے آئے گا پھر اس کو ہم بھی نظر آجائیں گے اور وہ ہم سب کو قید کرکے لے جائے گا۔‘‘ بھوری اور کالی گائے شیر کی بات سن کر خوف زدہ ہوگئیں اور سوچنے لگیں۔ واقعی! اگر کسی انسان نے سفید گائے کو دیکھ لیا تو ہم سب پھنس جائیں گے۔
شیر نے جب دیکھا کہ یہ دونوں اس کی باتوں میں آگئی ہیں تو پھر اس نے اپنے دل کی بات کہہ دی: ’’اگر تم دونوں مان جاؤ تو میں اسے ختم کرسکتا ہوں تاکہ پھر کوئی خطرہ نہ رہے۔‘‘ دونوں گائیں راضی ہو گئیں، شیر نے سفید گائے پر حملہ کیا اور اسے ہڑپ کر گیا۔کچھ عرصے بعد شیر کی نظر اب کالی گائے پر پڑ گئی۔پھر وہ بھوری گائے کے پاس گیا اور کہنے لگا: ’’ارے بھوری گائے میرا اور تیرا رنگ بالکل ایک جیسا ہے۔دور سے دونوں شیر نظر آتے ہیں لیکن یہ جو کالی گائے ہے ہمارے لیے مسئلہ ہے، اس گائے کو انسان دور ہی سے دیکھ سکتا ہے۔‘‘
بھوری گائے اب بھی نہ سمجھی کہ شیر اصل میں ان کا دشمن ہے وہ اسے دوست سمجھ کر مسئلے کا حل پوچھنے لگی: ’’بھائی شیر اب کیا کریں!‘‘
’’کرنا کیا ہے۔میں اسے بھی ختم کر دیتا ہوں۔پھر میں اور تم اس جنگل میں سارے جانوروں پر حکومت کریں گے اور کوئی بھی ہمارے قریب آنے کی ہمت نہیں کر سکے گا۔‘‘بھوری گائے نے شیر کو اجازت دے دی تو شیر نے کالی گائے کو بھی کھا لیا۔ اب شیر اور بھوری گائے جنگل میں اکیلے رہنے لگے۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک دن شیر نے بھوری گائے سے کہا: ’’مجھے بھوک لگ رہی ہے اور جنگل میں کھانے کے لیے تیرے سوا کچھ بچا نہیں ،اس لیے میں اب تجھے ہی کھاؤں گا۔‘‘
گائے نے گھبرا کر کہا: ’’مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے تم تو کہہ رہے تھے کہ ہم دونوں دوست رہیں گے۔‘‘شیر نے گائے کے بھولے پن پر مسکراتے ہوئے کہا: ’’اے بھولی گائے، تم کس چکر میں پڑی ہو،بھلا کبھی شیر اور گائے کی بھی دوستی ممکن ہے۔شیر تو گائے کو شکار کرکے کھاتا ہے۔‘‘
اب بھوری گائے سوچنے لگی کہ !کاش میری وہ دونوں سہیلیاں زندہ ہوتیں تو شیر کبھی مجھے شکار نہیں کر سکتا تھا۔ وہ سمجھ گئی کہ شیر کا مقصد حقیقت میں تینوں کو کھانا تھا۔اس لیے اس نے پہلے ان تینوں کو جدا کیا پھر ایک ایک کرکے کھا گیا۔جب تک ان تینوں میں اتفاق اور اتحاد تھا، اس وقت تک شیر بھی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکا تھا مگر اتفاق اور اتحاد کی جگہ خود غرضی نے لے لی تو ایک ایک کرکے تینوں ہی اپنی زندگی گنوا بیٹھیں۔
پیارے بچو! ہم سب کو آپس میں محبت و اتفاق سے رہنا چاہیے اور دوسروں کی باتوں پر سوچے سمجھے بغیر عمل نہیں کرنا چاہیے۔rvr