ماؤنواز متاثرہ اضلاع کی تعداد گھٹ کر 70 ہوئی: کووند

0

نئی دہلی: (یو این آئی) صدر رام ناتھ کووند نے آج کہا کہ حکومت ماؤنواز متاثرہ علاقوں اور شمال مشرق کی ترقی کے لیے پرعزم ہو کر کام کر رہی ہےجس کے سبب ملک میں ماؤنواز متاثرہ اضلاع کی تعداد کم ہو کر 70 ہو گئی ہے۔ مسٹر کووند نےپیر کو پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن سینٹرل ہال میں دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ماؤنواز متاثرہ علاقوں کو قومی دھارے سے جوڑنے کے لیے کئی ٹھوس اقدامات کیے ہیں اور ان کا اثرنظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا،’حکومت کی جانب سے کی گئی کوششوں سے ملک میں ماؤنواز سے متاثرہ اضلاع کی تعداد آج 126 سے کم ہو کر 70 ہو گئی ہے‘۔ شمال مشرق کی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں اور منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’میری حکومت شمال مشرق کی تمام ریاستوں ؛ اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، سکم اور تریپورہ کی پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ ان ریاستوں میں ہر سطح پر بنیادی اور اقتصادی مواقع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ شمال مشرق کے عوام کے لیے ریل اور ہوائی کنیکٹیوِٹی جیسی سہولیات کا خواب اب پورا ہو رہا ہے۔ یہ ملک کے لیے فخر کی بات ہے کہ میری حکومت کی کوششوں سے شمال مشرقی ریاستوں کے تمام دارالحکومت اب ریلوے کے نقشے پر آ رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ایٹا نگر کے ہولونگی میں ایک نیا ایئرپورٹ کا قیام کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ریاست تریپورہ کے’مہاراجہ بیر بکرم ایئرپورٹ‘ پر ایک نیا اور جدید ٹرمینل کھولا گیا ہے۔ شمال مشرق کی یہ ترقی ہندوستان کی ترقی کے سفر میں ایک سنہری باب ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ دن پہلے 21 جنوری کو میگھالیہ، منی پور اور تریپورہ کے قیام کے 50 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر ان ریاستوں کا دورہ بھی ہمیں ترقی کے نئے عزم کے لیے تحریک دے رہا ہے۔
صدر نے کہا کہ شمال مشرق میں امن قائم کرنے کی حکومت کی کوششوں کو تاریخی کامیابی ملی ہے۔ ابھی چند ماہ قبل مرکزی حکومت، آسام کی ریاستی حکومت اور کاربی گروپوں کے درمیان کاربی-آنگلونگ کے دہائیوں پرانے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ اس سے خطے میں امن اور خوشحالی کے نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔