عوامی بہبود کیلئے اب اشتراکِ عمل سے کام لیں

ایک دوسرے کیخلاف الیکشن جیتنے والے نمائندے

0

عبدالسلام عاصم

اترپردیش اتراکھنڈ اور پنجاب کی اسمبلیوں کے نتائج بیش و کم حسبِ اندازہ سامنے آئے ہیں۔ گوا میںمقابلہ ضرور تھا لیکن اُس میں بی جے پی کامیاب اور کانگریس ناکام ہوگئی۔البتہ منی پور میں روایتی فکر کی طرف لوٹنے کی وہ تمام باتیں جو ہوا میں کی جارہی تھیں، اُس کا اندازہ لگانے میں ایک سے زیادہ تجزیہ کاروں کو ناکامی ہوئی ہے۔روایتی ثقافت کی سیاست کی لہر ہر خطے میں دوڑانے کی بی جے پی کی سیلابی کوشش کو عام آدمی پارٹی نے اگر پنجاب میں روک دیا توآپ کے اس کارنامے میں بی جے پی اور کانگریس کا بالواسطہ اشتراک شامل ہے۔ بی جے پی نے وہاں متنازع زرعی قوانین ساقط کرکے کسان تحریک کوبے اثر کردینے کی چال پر زیادہ انحصار کر لیا تھا اور کانگریس عین الیکشن سے پہلے پارٹی میں اتحاد سے زیادہ انتشار پیدا کرنے کے اقدامات کو اتنا درست سمجھ رہی تھی کہ وہ اُن کے نفسیاتی مضمرات کا نوٹس ہی نہیں لے پائی۔
سیاسی، سماجی اور ثقافتی ماہرین کے نام سے موسوم منڈلیاں اسمبلی انتخابات کے مجموعی نتائج کا ابھی کئی ہفتوں تک جائزہ لیتی رہیں گی۔کوئی افسوس کے ساتھ اِس نتیجے پر پہنچے گا کہ ہندی بیلٹ میں فرقہ پرستی جیت گئی، تو کوئی سیکولرزم پر ملک کی مبینہ طور پر فراموش کردہ روایتی ثقافت کے احیا کی جیت کا جشن منائے گا۔ایسے فوری نتائج اخذ کرنے کی سوچ سے ہٹ کر غور کیا جائے توبے جھجھک اِس تفہیم سے گزرا جاسکتا ہے کہ روایتی ثقافتی نظریہ ہویا سیکولر سوچ، اگر دونوں کے علمبرداروں میں سے ایک عوامی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہے تو جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ اُس کا احترام کیا جائے۔رہ گئی بات کسی بھی نظریے کو محدود سیاسی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنانے کی تو یہ غیر صحتمند روایت ہمارے معاشرے میں پہلے سے موجود ہے جس کی وجہ سے سماجی زندگی میں تادیر اطمینان کی لہر کوئی نہیں دوڑا سکتا۔ماضی میں کانگریس میں بھی یہ خرابی در آئی تھی جسے اُس نے دہائیوں بھنایا لیکن عوامی بیزاری جب انتہا کو پہنچی تو اُس کی سود سمیت قیمت چکانا پڑی۔ موجودہ حکمراں بھی اگر زندگی کے بنیادی تقاضوں سے صرفِ نظر کے طریقِ عمل اور اندازِ فکر سے عوام کو سال بہ سال غیر مطمئن ہی کرتے چلے گئے تو کوئی بھی انتخابی سال حکومتی تبدیلی کا سال بن کر اُنہیں بھی قانون ساز مجالس کی حکمراں بینچوں سے ہٹا کر حزب اختلاف کی کرسیوں پر بٹھا سکتا ہے۔فی الحال بہرحال کوشش یہ کی جائے کہ انتخابی نتائج سامنے آجانے اور حکومتوں کی تشکیل ہو جانے کے ساتھ ایک دوسرے کو مات دینے کی سیاست ختم ہو جائے اور قانون ساز اداروں کیلئے منتخب عوامی نمائندے ایک دوسرے سے اشتراک کے نصاب کے مطابق سرگرمِ عمل ہو جائیں۔
یہ کہنا کہ الیکشن میں وسائل والی پارٹی یا گروپ کی فتح ہوتی ہے اور سیاسی نصاب پڑھ کر امتحان دینے والے ہار جاتے ہیں، ہر معاشرے کیلئے درست نہیں۔ ایسا صرف سوچنے اور سمجھنے سے زیادہ ماننے اور منوانے والے معاشرے میں ہوتا ہے۔اور اُس قت تک ہوتا ہے جب تک عوام کی بیزاری انتہا کو نہ چھو جائے۔اس کے بعد حکمرانوں کے سارے وسائل دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ ابھی تین دہائی پہلے تک کانگریس کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ کانگریس کے ٹکٹ پر گدھا بھی کھڑا ہوجائے تو جیت جائے گا۔ یہ ایک جملہ ووٹروں کی شان میں کس قدر توہین آمیز تھا، یہ عام لوگوں کوسمجھانے اور بھیڑ کو سمجھنے میں 30 سال لگ گئے۔ اس کے بعد 1971 کی جنگ کی فاتح اندرا گاندھی کی آمریت کا خاتمہ ہوا جس کی دستاویزاب آن لائن دستیاب ہے۔ اگرسیکولرزم کی پاسداری کے بجائے اُس کے کاروبار کی طرح عصری منظر نامے پر بھی مذہبی جذبات کی تسکین کی سیاست حاوی رہی توزندگی کے بنیادی تقاضوںکی شدت کے ہاتھوں پھر تبدیلی کی راہ اُسی طرح تیار ہو سکتی ہے جس طرح 1977 میںجنتا پارٹی کے حق میں تیار ہوئی تھی۔سابقہ موقع پر ایسی تبدیلی اگر لمبے وقفے کے بعد آئی تھی تو زمانے کی تیز رفتار نئی تبدیلی نسبتاً جلد بھی سامنے لا سکتی ہے۔
مجموعی نتائج کا فکری جائزہ بتاتا ہے کہ جس طرح 2014 کے عام انتخابات کے بعد2017 میں یوپی کے انتخابی نتائج پر سابقہ نوٹ بندی کا اثر نہیں پڑا تھا اُسی طرح 2019 کے عام انتخابات کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ یوپی کے انتخابی نتائج پر لاک ڈاؤن میں شکم کی آگ لیے شہر بہ شہر پھرنے والے مزدوروں کی انتہائی درجے کی درگت اور کسانوں کی تحریک اثرانداز نہیں ہوئیں۔ایسا نہیں تازہ انتخابی نتائج مرکزی حکومت اور یوپی کی انتظامیہ کی بنیادی نصابی کارکردگی کی دوٹوک تائید ہیں۔ پولنگ کے آخری دن تک کی انتخابی مہموں، عوام کے ردعمل اور ان سب سے بڑھ کر قومی/علاقائی اشاعتی اور نشریاتی ذرائع ابلاغ کے علاوہ سوشل میڈیا پر خبر و نظر کی یکطرفہ یلغار سے یہ بات بہت حد تک واضح ہو گئی تھی کہ کم سے کم فرقہ وارانہ طور پر حساس یو پی میں ووٹ مبنی بر امورکم پڑیں گے۔
یوپی میں جس ’’ فکر‘‘ کی براہ راست جیت ہوئی ہے اُس کا بالواسطہ استحصال کرنے کی کانگریس اور دوسری سیکولرزم کی دعویدار پارٹیاں تاریخ رکھتی ہیں۔ایسا نہیں کہ عام آدمی کو اس کا علم نہیں ہوتا لیکن وہ محض ناراض یا ناخوش ہونے تک ہی اس کا ادراک کر پاتا ہے۔ دوسری طرف نظریاتی ذہن سازی کرنے والے ہمیشہ حریف کی چالوں کا بغور معائنہ کرنے کے بعد ہی کوئی غیر نصابی قدم اٹھاتے ہیں۔میچ کے پہلے نصف میں وہ اپنی جن چالوں کو دفاعی لائن تک محدود رکھتے ہیں، انہی کو دوسرے نصف میں وہ فارورڈ اور مڈل آرڈر میں پوری شدت کے ساتھ بروئے کار لانے کا تجربہ کرتے ہیں۔ قوموں کی سیاسی تاریخ کی دستاویزات ایسے تجربات سے بھری ہیں۔
ہارنے والوں کا یہ کہنا خود اُن کے اعمال کی ترجمانی کرتا ہے کہ یوپی کے ووٹر سمجھانے سے نہیں بہکانے سے ووٹ دیتے ہیں۔ زائد از 50 برسوں تک ایک بھی ایسی نسل تیا ر نہیں کی جا سکی جو ماننے پر جاننے کو ترجیح دے۔ بی جے پی جومرکز کے علاوہ کئی ریاستوں میں حکمراںہے وہ اگر ہندوتو کے نظریہ کوملک کیلئے ٹھیک سمجھتی ہے تو ایک نظریاتی پارٹی کی حیثیت سے کیا غلط سمجھتی ہے۔ دوسرے عقائد کے ماننے والے بھی تو اپنے عقیدے کو ساری دنیا کے لیے نظامِ حیات کا درجہ دیتے ہیں۔ سیاست کا تعلق معاشرت اور ثقافت دونوں سے ہے اور اس تعلق کے کئی ابواب ہیں جو مثبت اور منفی تبدیلیوں کی محرکات کا بھرپور احاطہ کرتے ہیں۔ ہندوستان کی سطح پر ان دستاویزات کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گاکہ ایک سے زیادہ ریاستوںپر مشتمل اس رنگا رنگ ملک میں دو ریاستیں ایسی ہیں جوایک سے زیادہ تاریخی وجوہ کی بنا پر فرقہ وارانہ طور سے ہمیشہ مخدوش رہی ہیں۔یوپی اور گجرات کی سیاست کو صرف بابری مسجد اور گودھرا سانحہ نے ہی بُری طرح آلودہ نہیں کیا۔یہ دونوں واقعات تو ایک دیرینہ سلسلے کی تازہ کڑیاں تھیں۔زیادہ پیچھے نہ جاکر اگر درمیان سے بھی بات شروع کی جائے تب بھی امکانات اور اندیشوں کے حوالے سے بہت کچھ سمجھا اور سمجھایاجا سکتا ہے۔
موجودہ ڈیجیٹل عہد میں متعلقہ دستاویزات کا اور بھی بہ سُرعت اور جامع مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ’شیخ بھی خوش رہے ناراض برہمن بھی نہ ہو‘ کے انتہائی موقع پرستانہ فلسفے کو مشورہ سمجھ کر آنجہانی راجیو گاندھی کے زمانے میں شاہ بانو کیس اور بابری مسجد کا تالہ کھلوانے کے حوالے سے جودھما چوکڑی مچائی گئی تھی وہ کوئی بوسیدہ باب نہیں۔دونوں معاملات سے جذباتی دلچسپی رکھنے والوں کی اکثریت توخوش اور ناراض ہونے والوں کی تھی لیکن یہ صرف محدود سیاسی مفادات کا کھیل تھا جس کے ذریعہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو بے وقوف بنا کرسیکولر حکمرانی کا سلسلہ جاری رکھا گیا تھا۔راجیو گاندھی ویسے تو غیر سیاسی آدمی تھے لیکن انہیں سیاسی ذمہ داری اُسی دائرے میں اٹھانی تھی جس کی لکیریں انتہائی غیرصحتمند طریقے سے کھینچ رکھی گئی تھی۔
سیکولرزم کا موجودہ حشرمحض ناخوشگوار واقعات اور سانحات کا نتیجہ نہیں۔اس کا بیڑہ اُسی روز غرق کرنے کا نظم کر دیا گیا تھا جب اس کے معلنہ مفہوم اور تشریح سے ہٹ کر اسے تعلیم کی جگہ صرف سیاست میں اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی دہریہ نہیں تھے لیکن انہوں نے سیکولرزم کی اختیار کردہ نئی تشریح کے مضمرات کو بھانپ لیا تھا۔تبھی انہوں نے آزاد ہندوستان کے جمہوری حکمرانوں کو مذہبی معاملات میں پڑنے سے گریز کا مشور دیا تھا اور کہا تھا کہ ’’ ریاست سیکولر فلاح و بہبود، صحت، مواصلات، خارجہ تعلقات، کرنسی وغیرہ سنبھالے، آپ کے یا میرے مذہب کو نہیں‘‘۔
اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے۔ ہر پارٹی کے پڑھے لکھے، باشعور اور ذمہ دار رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے حلقوں میںدوسرے کے خسارے میں فائدہ دیکھنے کی سیاست کی حوصلہ شکنی اور ملک و قوم کے اصل نفع اور نقصان پر غور کی عادت عام کریں۔وقت آ گیا ہے کہ تمام حقیقی ذمہ دارانِ سیاسیات، سماجیات و دینیات خود بھی اپنی اصلاح کریں اور اقلیتی ووٹ بینک کا جواب اکثریتی ووٹ بینک سے دینے کی ضد ٹھان لینے والوں کو بھی ساتھ لے کر بیٹھیں تاکہ ہندوستان کی سیکولر بہبود، سب کی صحت کی دیکھ بھال، غیر نظریاتی تعلیم کے فروغ، مواصلاتی انقلاب، سود مند خارجی تعلقات، کرنسی پر بہتر اور مؤثر کنٹرول کے نظم کو ٹھوس سے ٹھوس تر بنانے میں اشتراک عمل کی راہ ہموار ہو۔
(مضمون نگار یو این آئی اردو کے سابق ادارتی سربراہ ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS