اردو کے فروغ کے لیے بیان بازی نہیں عملی اقدام ضروری: پروفیسر انور پاشا

0

نئی دہلی: (ایجنسی) کل ہند انجمن اساتذہ اردو جامعات ہند کے قومی کنوینر اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں ہندوستانی بانوں کے شعبے کے سابق چیئر مین پروفیسر انور پاشا نے بہار میں اردو کی سمٹتی بساط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انجمن کی جانب سے بہار کے وزیر اعلی جناب نتیش کمار کو ایک میمورنڈم بھیج کر یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے اردو کے پر کاٹنے اور اس کی بساط کو سمیٹنے کی سازشوں پر روک لگائیں ۔ پروفیسر پاشا نے کہا کہ گزشتہ دنوں اردو کی حق تلفی کرنے والے سرکاری سرکولرزکو ہنوز واپس نہیں لیا گیا ہے اور نہ ہی نیا سرکولر جاری کیا گیا ہے۔ اس سے اردو والوں میں تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
انھوں نے اس بات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ بہار میں اردو کے نام پر تنظیموں کی بھر مار ہے، مگر یہ سب محض کاغذی تنظیمیں ہیں جن کا عملی اقدام سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ان کی کارکردگی خوشنما بیان بازیوں تک محدود ہے۔ اردو کی بازیافت اور اس کی بقا کے لیے جمہوری عملی اقدامات ہی واحد ضمانت ہیں۔ اردو کے جمہوری حق کی بازیابی کے لیے عملی جدوجہد لازمی ہے۔
پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ ہمارے سامنے غلام سرور صاحب اور پروفیسر عبدالمغنی صاحب کی مثالیں موجود ہیں۔ انھوں نے ریاست کا دورہ کرکے اردو عوام کو سڑکوں پر اترنے کے لیے آمادہ کیا تھا، تب جاکر اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا تھا۔ مگر اس کے برعکس آج اردو کے فروغ کے نام پر قائم تنظیمں محض اخباری بیان بازی سے اردو کا فروغ کرنا چاہتی ہیں جو مضحکہ خیز ہے ۔ ہمیں اپنے اسلاف سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here