نئے سال کا جشن اور اسلام

0

ہناء عبد الحکیم مدنیؔ
اسلام ایک ایسا پاکیزہ اور مکمل دین ہے جو انسانیت کی اصلاح و فلاح کے لئے اتارا گیا ہے اس کے اندر تمام تر انسانی وسائل کا حل موجود ہے ،خواہ ان کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے ،خواہ ان کا تعلق خوشی کے افعال سے ہو یا غم کے احوال سے، اسلام ہر مسئلے کو بہت ہی نرالے اور واضح انداز میں بیان کرتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ دین اسلام ساری دنیا میں مقبول اور ممیز مانا جاتا ہے۔(ترجمہ)(سورہ مائدہ :48 ) تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راہ مقرر کر دی ہے۔(ایک ہی دین ایک ہی شریعت ہے )(اعراف :3 ) اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو ، اور اللہ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی پیروی مت کرو ،تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتےہو ۔[نبی کریمؐ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سےنا پسندیدہ شخص وہ ہے جو اسلام میں جاہلیّت کے طریقے کو ڈھونڈتا ہو] (صحیح بخاری )۔اسی طرح ایک طویل حدیث میں نبی کریم ؐ کا فرمان ہے: ’(ترجمہ) تمہیں چاہئے کہ میری سنت کو مضبوطی سے تھام لو ،اور میرے بعد کے خلفاءراشدین کی سنت کو،انہیں دانتوں سے مضبوطی سے پکڑو ،اور نئی باتوں سے بچتے رہو ،کیونکہ ہر نئی بات یعنی بدعت گمراہی ہے ۔(ابو داؤد:4607،ترمذی :2676)
دنیا میں دو قسم کا کیلنڈر موجود ہے ۔ایک ہجری کیلنڈر اور دوسرا عیسوی کیلنڈر ، مسلمانوں کا اصلی کیلنڈر عیسوی نہیں ہجری ہے ، ہجری کیلنڈر کا آغاز محرم سے ذی الحجہ مہینہ پر ہوتا ہے اور اس اسلامی نئے سال کے آغاز میں عرب ایک دوسرے کو دعا دیتے ہیں ۔ اور اس اسلامی نئے سال کے آغاز میں ہم کو دو کام کرنا چاہئے ؛(1) ماضی کا محاسبہ، (2)مستقبل کا لائحہ عمل ۔جبکہ عیسوی کیلنڈر کا آغاز جنوری سے اور اختتام دسمبر کے مہینے پر ہوتا ہے ،اور آج کل کافروں کے نئےسال کی آمد ہے ،دنیا کے ہر کونے میں اسکا چرچا ہے ، لوگ بڑی شدت سے نئےسال کا انتظار کر رہے ہیں ،کافروں کے ساتھ بہت سے مسلمان حتیٰ کہ بعض حکومتیں بھی اس نئے سال کا جشن منانے کی تیاری کر رہی ہیں ۔
پہلے ہم اس ’نیو ایئر ‘ کی تاریخ دیکھتے ہیں : دراصل اس نیو ایئر نائٹ کا آغاز انیسویں صدی کے آغاز میں نیوی کے نوجوان کی طرف سے کیا گیا ،برطانیہ کی رائل نیوی کے نوجوانوں کا زیادہ حصہ بحری جہازوں میں گزرتا تھا ،یہ لوگ سمندر کے تھکادینے والے سفر سے بیزار ہو جاتے تھے تو جہازوں کے اندر ہی اپنی دلچسپی کا سامان تیار کر لیتے تھے ،یہ لوگ تقریبات کے مواقع تلاش کرتے رہتے تھے ، سالگرہ، ویک اینڈ اور کرسمس کا اہتمام کرتے ، انہیں تقریبات کے دوران کسی نے یہ کہا :کیوں نہ ہم سب مل کر نئے سال کو خوش آمدید کہیں ،انہیں یہ تجویز اچھی لگی لہٰذا دسمبر کی ۳۱ تاریخ سارا عملہ اکٹھا ہوا اور جہاز کا ہال روم سجا کر میوزک کا انتظام کر کے ایک دوسرے کونئے سال کی مبارک باددی ۔برٹش رائل نیوی کے جہاز سے شروع ہونے والا یہ تہوار دوسرے دوسرے جہازوں پر پہنچا ، اور اس طرح یہ دنیا میں منایا جانے والاتہوار بن گیا ،اگر چہ کہ یہ عیسائیوں کی ایک رسم ہے جو اب مسلمانوں میں بھی کافی مقبول ہو چکی ہے ۔
[نبی کریم ؐ نے فرمایا : تم لوگ اپنے سے پہلے قوموں کی ضرور پیروی کروگے ،بالشت بالشت برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ،حتیٰ کہ اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہونگے تو تم لوگ بھی انکی پیروی کرو گے ،راوی حدیث حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ یہ سننے کے بعد ہم لوگوں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسولؐ :یہود و نصاری ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا : پھر اور کون ؟] (صحیح بخاری :3456،صحیح مسلم :2669)۔ اوراب تو دنیا بھر میں یہ غلط روایت اس طرح فروغ پا چکی ہے کہ31 دسمبر کی رات ’نیو ایئر نائٹ ‘ منانے کے نام پر طوفانِ بد تمیزی برپا کیا جاتا ہے ، خاص طور پر نوجوان کچھ زیادہ ہی آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ،ناچ گانے کی محفلیں بڑے اہتمام سے سجائی جاتی ہیں ، جہاں شراب اور مختلف طرح کے نشے اور جوئے کا انتظام ہوتا ہے ۔’ ہیپی نیو ایئر ‘ بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہے ۔
موت کو بھول گیا دیکھ کے جینے کی بہار
دل نے پیشِ نظر انجام کو رہنے نہ دیا
افسوس ! اس امت کے کروڑوں روپے صرف ایک رات میںضائع ہو جاتے ہیں ۔خوشیاں منانے کے نام پراللہ تعالی کی نا فرمانیاں کرکے اپنے کندھوں پہ گناہوں کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں ، اور کئی لوگوں کو اس موقعہ پر اپنی جان تک گوانی پڑتی ہیں ۔آج مسلم قوم بھی اس رات کے لئے ہزاروں لاکھوں خرچ کر رہی ہے ،اگر ان کا یہی مال غریبوں اور مجبوروں کے کاموں میں ان کی مدد میں خرچ ہو تو اس سے اللہ بھی راضی اور زندگی کا کچھ مقصد بھی حاصل ہو ۔یاد رکھیے ! کتاب و سنت کے مطابق کیا گیا لمحہ کا عمل کتاب و سنت کے خلاف کیے ہوئے صدیوں کے عمل سے بہتر ہے ۔
مسلمانوں کے لئے عیسوی سال کی ابتدا پر ایک دوسرے کو مبارکباددینا جائز نہیں ہے ،اور اسےتہوار کی شکل میں جشن منانا بھی جائز نہیں ہے،اسی طرح شادی سالگرہ ہو ، برتھ ڈے پارٹی ،ویلنٹائن ڈے یہ سب غیر مسلموں کی رسمیں ہیں جنہیں منا نا ،اس میں شرکت کرنا ،دعوت قبول کرنا یہ سب اسلام میں جائز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ترجمہ ) پھر ہم نے آپ کو دین کی راہ پر قا ئم کر دیا سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کریں ۔(جاثیہ :18)۔اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے : نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور دشمنی میں تعاون نہ کرو۔ حدیث میں ہے : [جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے ] ابو داؤد :4030)
اگر کسی دن کو بطور یادگار منانے کا کوئی جواز ہوتا یا اس میں کوئی عمدگی ہوتی تو ہم اس دن کو بطور یادگار مناتے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر سب سے بڑا انعام عطا کیا تھا ،وہ تھا دین کا مکمل کرنا ،جسےخود اللہ نے اپنی نعمتوں کو مکمل ہونے سے تعبیر کیا اورقرآن میں اس انعام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کا اس طرح کی رسم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
یاد رکھئے! یہ سب غیروں کا طریقہ ہے ۔نئے سال کے ذریعہ ہمیں مزید اعمال صالحہ کرنے کا موقع ملا اس پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اپنے سابقہ اعمال کا جائزہ لے کر برے اعمال سے توبہ اور اچھے اعمال میں اضافہ کی کوشش کی جائے ۔
نئے سال کا آغاز ہم مسلمانوں کے لئے شرعی اعتبار سے کچھ بھی نہیں ہے ،اگر ہے تو بس اتنا کہ اللہ نے جو عمر ہمارے لئے مقرر کی تھی اس عمر میں سے زندگی کا ایک اور سال گزر گیا ،گویا کہ جس نئے سال کا جشن منایا جا رہا ہے حقیقت میں بےوقوف انسان اپنی زندگی کے ایک سال کم ہونے کا ماتم کرتا ہے جسے وہ اپنی خوش فہمی میں جشن کا نام دے رہاہے ۔
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے :’ اپنا محاسبہ کر لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب کر کیا جائے ۔
غور کریں یہ موقع خوشی سے زیادہ غم کا ہے ، یہ ساعت یہ موقعہ جشن و مسرت کانہیں بلکہ نصیحت پکڑنے کا ہے کیونکہ سال گزرنے سے عمر گھٹتی ہے ،اس لئے ہم مسلمانوں کو اپنا محاسبہ کرنا ضروری ہے ، ہمارے دین و اخلاق ،اعمال و کردار میں کمی تو نہیں ہے ؟ عبادات میں کوتاہی تو نہیں ہے ؟اللہ اور اس کے رسولؐ کی شریعت میں غفلت تو نہیں ہے؟ جس کی وجہ سے حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھے ہیں ؟والدین ، رشتہ دار ،پڑوسیوں کے حقوق میں کمی تو نہیں رہ گئی ہے ؟اولاد اور بیوی کے معاملےمیں اپنے فرائض تو نہیں کھو بیٹھا ؟
سورہ عصر میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے وقت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :’کہ وہی لوگ فائدے میں ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں نیک کام کر لیا ،کچھ ایسا کام جو ان کے لئے آخرت میں ذخیرہ بن کر رہے ،اس کے علاوہ سب کے سب خسارے میں ہیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کار خیر اور اپنے فرائض اگلے وقت کے لئے ٹالتے رہیں اور اچانک ہم سے قوتِ عمل ختم ہو جائے ،پھر اس وقت چاہنے کے باوجود ہم نیکی سے محروم رہیں گے ۔آخرت ویران نظر آئے گی ، جہاں آپ کے تعاؤن کے لئے کوئی تیار نہ ہوگا ، نہ وہ بیوی جس کے لئے شادی کی سالگرہ منایا ،نہ وہ اولاد جن کے لئے برتھ ڈے پارٹی کا اہتمام کیا ۔
اللہ تعالیٰ نے سارے انسانوں کے لئے ایک عمر متعین کر دی ہے اور انہیں اختیار دیا ہے کہ اچھے اور نیک عمل کے ذریعےاپنی زندگی کے لمحات کو قیمتی بنائیں ؟یا ان سماجی بدعات و رسوم میں شامل ہو کر یونہی ضائع کر دیں ؟ یاد رکھئے! جس کو اس بات کا احساس ہو کہ موت کے بعد نہ ختم ہونے والی زندگی کے بننے اور بگڑنے کا دار و مدار اسی زندگی پر ہے تو ان کے لئے زندگی کےیہ لمحے بہت قابل قدر ہیں ورنہ ہمیشہ ہمیش کے لئے دردناک عذاب اور نا قابلِ تصور مشکلات سے دو چار ہونا پڑے گا۔(زمر: 56)
اس لئے نئے سال کے موقعہ پر جب پرانے کیلنڈر کی جگہ نیا کلینڈر لگانے کے لئے ہاتھ آگے بڑھائیں تو سوچیں کہ زندگی کا ایک سال گزر گیا اور قبر کی منزل سے ہم مزید قریب ہو گئے ، اس لئے عمل کے اعتبار سے ہم کو اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور نئے سال کے لئے ایک نیا نظام تیار کرنا ہوگا ۔
حقیقت میں جگہ دنیا نہیں ہے دل لگانے کی
وفا کرتی نہیں یہ بے وفا سارے زمانے کی
نہیں ٹلتی مقرر ہے جو ساعت موت آنے کی
جگہ اس میں نہیں دم مارنے کی ، لب ہلانے کی