بہار کے  فنکاروں نے بالی ووڈ سے لے کر تمام دنیا میں لکھی کامیابی کی نئی عبارت

0

پٹنہ: شہنائی کو ایک نئی شناخت دلانےاور اسے خاص وعام میں مقبول بنانے والے معروف شہنائی نوازاستاد بسم اللہ خان،اپنی آواز سے لوک گیتوں کو زندگی بخشنے
والی وندھیاوا سینی  دیوی اور شاردا سنہا ،اپنے غصہ اورتیورسے سب کو خاموش کرنے والے شتروگن سنہا کے ساتھ ہی پرکاش جھا،منوج واجپئی سے لے کر اپنی
مسکراہٹ اوراداؤں سے دنیا کو اپنا بنانے والے سشانت سنگھ راجپوت(جن کی حال ہی میں موت واقع ہوئی) جیسے مایہ ناز فنکارجن کی پیدائش ہندستان کی ریاست بہار
میں ہوئی،نہ صرف اپنا نام بالی ووڈ تک روشن کیا بلکہ اپنی کامیابی کے پرچم عالمی سطح پر بھی لہرایا۔
استاد بسم اللہ خان ،جن کی پیدائش 21 مارچ 1916 میں  بکسرکے ڈمراؤ میں ہوئی،گنگا ندی سے محبت اور اس کا احساس ان کی شہنائی میں ایسا رچا بسا کہ اپنی تمام
زندگی میں وہ اسے اپنے ساتھ  پوری دنیا میں ساتھ لئے گھومتے رہے۔ ان کی شہنائی کی گونج لال قلعہ میں  ملک کی آزادی کے موقع تہوارمیں،بالی ووڈ فلم گونج اٹھی
شہنائی  اور آخر میں پوری دنیا میں سنائی دی۔ جس وقت  استاد بسم اللہ خان  اپنی شہنائی سے سروں کو لوگوں کے کانوں میں ڈال رہے ہوتے تھے تو اس وقت وہ خود
گنگا کے تصور میں  ڈوبے ہوئے ہوتے تھے۔ 
 ایک مرتبہ  امریکہ میں ایک پروگرام کے بعد کسی نے انہیں  وہیں  بس جانے کی صلاح دی تو استاد بسم اللہ خان نے  انہیں اودھی زبان میں  جواب دیا ’ہماری گنگا کو
یہیں لے آو تو ہم یہی رہ جائیں گے۔
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS