افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کے بعد نیا کھیل

0

عباس دھالیوال

افغانستان جو گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل جنگوں کا سامنا کرتا چلا آ رہا ہے۔ نوے کی دہائی میں روس کو یہاں سے اپنا تقریباً تمام جنگی سامان چھوڑ کر نکلنا پڑا تھا تو وہیں آج کم و بیش وہی حالت امریکہ کی ہوئی ہے یعنی دنیا کی دوسری عالمی قوت سمجھے جانے والے امریکہ کو بھی آج ہم لوگ افغانستان میں گھٹنے ٹیکتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ نے ناٹو افواج سمیت اپنی فوج کو جب سے افغانستان سے نکالنے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کیا ہے تب سے افغانستان ایک بار پھر سے دنیا کے میڈیا ہاؤسز میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
مختلف نیوز رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان سے ناٹو افواج کے انخلا کے بعد ترکی اپنے فوجیوں کو وہاں تعینات کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔یہاں قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے ترکی کابل ایئر پورٹ کی حفاظت اور آپریشن میں مسلسل شامل چلا رہا ہے۔ تقریباً پانچ سو ترک فوجی افغانستان میں تعینات ہیں لیکن وہ جنگی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہیں تاہم وہ ناٹو مشن کے تحت افغان سیکورٹی فورسز کو تربیت بھی دیتے ہیں۔ اس سال جون میں برسلز میں ترک صدر اردوغان اور امریکی صدر بائیڈن کے درمیان ملاقات کے بعد افغانستان میں ترک فوجیوں کو تعیناتی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ مذکورہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا تھا ترکی کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ مذکورہ ملاقات کے بعد صدر اردوغان کاکہنا تھا کہ اگر ترکی افغانستان میں اپنے فوجیوں کو تعینات رکھتاہے تو پھر امریکہ سے مالی، سفارتی اور دیگر قسم کی امداد اہمیت کی حامل ہو گی۔
مبصرین کے مطابق افغانستان میں ترکی کا کردار کابل ایئرپورٹ کے انتظام اور سیکورٹی پر مرکوز رہے گا۔ یہ وہ ایئرپورٹ ہے جو افغانستان کو باقی دنیا سے جوڑتا ہے۔ادھر دوسری طرف کچھ لوگ صدر اردوغان کی حکومت پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ انھوں نے افغانستان میں امریکہ کی دعوت قبول کر لی ہے جبکہ طالبان وہاں پیش قدمی کر رہے ہیں اور وہاں سکیورٹی کا ایک بڑا خطرہ ہے۔
ترکی کا منصوبہ کیا ہے؟: جبکہ ادھر نیوز ویب سائٹ ’حبر ترک‘ کی رپورٹ میں خلاصہ ہواا ہے کہ اگر طالبان کابل ایئرپورٹ پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو کوئی بھی ملک یا بین الاقوامی تنظیم افغانستان میں اپنا نمائندہ نہیں رکھ سکے گی۔ افغانستان میں ترکی افواج کی موجودگی کی بڑی وجہ کے حوالے سے مختلف تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ترکی افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھ کر امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔

دوسری طرف وہائٹ ہاؤس کی جانب سے گزشتہ ہفتہ دیے گئے بیانوں کو اگر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ افغانستان کے حالات کولے کر امریکہ میں مایوسی پائی جا رہی ہے جو امریکہ اب تک یہ کہتے ہوئے نظر آتا تھا کہ ہم افغانستان حکومت کے ساتھ ہیں اس کے سْر اب یکسر بدلے ہوئے نظر آتے ہیں اس کا اندازہ امریکی حکام کے حالیہ بیانوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں وہائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے گزشتہ بدھ کو ایک بار پھر کہا کہ ملک کے مستقبل کی ذمہ داری ان (افغان رہنماؤں) کے کاندھوں پر ہے۔

ادھر امریکہ میں موجود ترکی کے سابق سفیر نامک ٹین کے کا کہنا ہے کہ ترکی نے افغان مشن کو جزوی طور پر قبول کیا ہے کیونکہ صدر اردوغان کو لگتا ہے کہ صدر بائیڈن کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کرنے کا یہ واحد راستہ خطرہ مول لینا ہے۔نامک کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ ’صدر اردوغان یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ گرمجوشی والے تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں۔ کم از کم کچھ وقت کے لیے ہی سہی، اس سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ پیچیدہ تعلقات کو دباؤ سے بچایا جا سکتا ہے۔‘ جبکہ ترکی کے اخبار ’ایورینسل‘ کے کالم نگار سنان بردال اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ ’امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ ترکی اپنی فوجیں کوریا اور افغانستان بھیجتا ہے جبکہ پالیسیاں بنانے اور فیصلوں کا حق امریکہ کے پاس رہتا ہے اور یہ سلسلہ آج تک نہیں بدل سکا۔‘ ادھر ایک اور کالم نگار رسول توسن ترکی کو ابھرتی ہوئی قوت بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ترکی کی جیو پولیٹیکل پوزیشن ایسی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے۔ ترکی ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک علاقائی طاقت بھی ہے۔ ترکی یہاں رہ کر اپنی طاقت بڑھائے گا۔‘ ’ترکی جن وجوہات کے سبب لیبیا، صومالیہ، قطر، آذربائیجان، شام اور عراق میں موجود ہے، انہیں وجوہات کے سبب اسے افغانستان میں بھی رہنا چاہیے۔ افغانستان میں اس کی موجودگی اہم ہے اور مشرق وسطیٰ میں اس کے ایجنڈے کو مضبوط کرتی ہے۔‘
ایک اور اخبار ’ملیت‘ کے تبصرہ نگار ابراہیم عقبابا لکھتے ہیں کہ ’افغانستان ترکی کو عالمی سیاست میں ایک نئے مقام پر لے جائے گا۔ اس سے یہ علاقائی طاقتوں میں سے ایک بن جائے گا۔ ترکی وسط ایشیا میں روس، چین اور انڈیا کے تعلقات میں قائد کے طور پر ابھرے گا۔‘ لیکن ماہرین اس بات سے بھی انکار نہیں کر رہے ہیں کہ افغانستان میں طالبان جس تیزی کے ساتھ پیش قدمی کر رہے ہیں اس کی بنیاد پر کچھ تجزیہ کاروں نے ترکی کے کابل میں قیام کے منصوبے سے وابستہ خطرات کے بارے میں خبردار بھی کیا ہے۔جبکہ ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ترکی کو ایک ’برادر اسلامی ملک‘ کہا لیکن واضح کیا کہ ناٹو کی رکنیت کی وجہ سے طالبان انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ طالبان ترکی کی موجودگی کی مخالفت کریں گے اور کابل ایئرپورٹ پر اس کے کنٹرول کو ’غیر ملکی مداخلت‘ کے طور پر دیکھیں گے، لیکن اس کے ساتھ ہی ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی تنظیم ترکی کے ساتھ بعد میں مذاکرات کر سکتی ہے۔ جبکہ ادھر ایک سابق ترک فوجی عہدیدار نجات ایسلن نے ذبیح اللہ کے بیان کے حوالے سے کہا کہ ’اس طرح کے تبصرے طالبان کے ساتھ ممکنہ تصادم کے خدشات میں اضافہ کرتے ہیں۔ طالبان نے واضح کیا ہے کہ وہ ترک فوجیوں کو دشمن کے طور پر دیکھیں گے۔‘ ایسلن کا واضح طور پر یہ بھی کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر ترک فوجیوں کی تعیناتی ایک ’تاریخی غلطی‘ ہو گی اور یہ ’ترکی کے بڑے مفادات‘ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ دوسری جانب ترکی کی حزبِ مخالف پارٹی ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے رکن اتکو جکیروزر کا کہنا ہے کہ طالبان افغانستان میں کوئی غیر ملکی نہیں چاہتے، اس لیے وہاں بہت ہی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اردوغان حکومت افغانستان میں قیام امن میں اتنی جلدبازی کا مظاہر کیوں کر رہی ہے۔ اس سے ہمارے فوجیوں اور شہریوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
دریں اثنا کچھ رپورٹ کے مطابق ترکی افغان حکومت اور پاکستان کے ساتھ اپنے منصوبے پر بھی گفت وشنید کر رہا ہے ۔دوسری طرف افغانستان میں تیزی سے حالات بدل رہے ہیں۔ کیونکہ طالبان نے راجدھانی کابل پر قبضہ کرلیا ہے اور افغان صدر اشرف غنی، نائب صدر امراللہ صالح کے ساتھ اقتدار کی منتقلی کے بعد ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ ابھی طالبان نے بھی پوری طرح اقتدار نہیں سنبھالا ہے۔ اقتدار کی منتقلی عبوری حکومت کو ہوئی ہے۔ ملک کے 34صوبوں میں سے 25صوبے اس وقت طالبان کے قبضے میں ہیں۔ کابل ایئر پورٹ بھی ان کے کنٹرول میں ہے۔
دوسری طرف وہائٹ ہاؤس کی جانب سے گزشتہ ہفتہ دیے گئے بیانات کو اگر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ افغانستان کے حالات کولے کر امریکہ میں مایوسی پائی جا رہی ہے جو امریکہ اب تک یہ کہتے ہوئے نظر آتا تھا کہ ہم افغانستان حکومت کے ساتھ ہیں اس کے سْر اب یکسر بدلے ہوئے نظر آتے ہیں اس کا اندازہ امریکی حکام کے حالیہ بیانوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان جان کربی کا افغان صدر اشرف غنی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’ہم کسی مخصوص طریقے کی وضاحت نہیں کر رہے کہ انہیں کس طرح اپنا دفاع کرنا ہے۔ یہ ان کا ملک ہے۔ وہ کمانڈر ان چیف ہیں۔ یہ ان کی سیاسی قیادت ہے، ان کا سیاسی عزم ہے جو بڑا فرق ڈال سکتا ہے۔‘ جبکہ اس سے پہلے بائیڈن نے کہا تھا ’ہم نے گزشتہ بیس برسوں میں ایک ٹریلین (دس کھرب) ڈالر افغانستان میں خرچ کیے ہیں۔ ہم نے تین لاکھ سے زیادہ افغان فورسز کو تربیت دی اور جدید ہتھیاروں سے لیس کیا۔ افغان فورسز کی تعداد بھی طالبان سے کہیں زیادہ ہے۔‘ بہر حال 20سال کے بعد افغانستان میں پھر سے طالبان کی واپسی ہوئی ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ تعلیم اور کام کے لئے حجاب میں خواتین کو اکیلے گھر سے نکلنے کی آزادی ہوگی۔ یہ وہ پوائنٹ ہے جس کی بنیاد پر طالبان پر سب سے زیادہ نکتہ چینی ہورہی تھی۔دوسری بات یہ ہے کہ کابل میں داخل ہونے کے بعد طالبان نے عام معافی کا اعلان کردیا ہے۔ اس سے ان لوگوں کے اندیشے دور ہوگئے جو طالبان کے قبضے کے بعد محسوس کررہے تھے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS