غیر جانبدار اور شفاف ای ویلیوایشن

0

کورونا کی دوسری لہر کے درمیان بیشتر معاملات میںتلخ و ترش تنقید اور عدالتوںکی سرزنش کا سامنا کررہی مرکزی حکومت کے ایک فیصلہ پر عدالت عظمیٰ نے مسرت کا اظہار کیا ہے اور وہ ہے سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای کے 10ویں اور 12ویں جماعت کے امتحانات کی منسوخی کا فیصلہ۔عدالت نے موجودہ خطرناک حالات کے مدنظر اس فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے حکومت کی ستائش بھی کی ہے۔عدالت کی جانب سے مسرت کا اظہار عہد کورونا میں حکومت کی حصولیابی کے طور پر دیکھاجانا چاہیے۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت کی ہر کامیابی اور حصولیابی بہت جلد گہناجاتی ہے۔اس معاملے میں بھی بعینہٖ یہی ہواہے۔عدالت نے اظہار مسرت کے بعد اگلے ہی پل نتائج کیلئے معیار طے کرنے اور مارکس کے ای ویلیو ایشن کے طریق کار پرحکومت کو نوٹس تھما دیا۔ جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس دنیش مہیشوری کی بنچ نے کہا کہ مارکس کے ای ویلیو ایشن کیلئے مقرر کیے جانے والے معیار عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔عدالت کاکہنا ہے کہ وہ مارکس ای ویلیو ایشن کیلئے طے کیے جانے والے معیار اور پیمانہ پر غور کرے گی تاکہ کسی کو کوئی اعتراض ہوتو اسے دور کیاجاسکے۔ اس کام کیلئے عدالت نے حکومت کو دو ہفتوں کا وقت دیا ہے۔تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ مارکس ای ویلیوایشن کیلئے معیارکا تعین وقت طلب معاملہ ہے اور اسے اتنی جلدی پیش نہیں کیاجاسکتا ہے۔ لیکن عدالت نے حکومتی عذر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ طلبا کو آگے کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے کالجوں میں داخلہ بھی لینا ہوگا، ایسے میں زیادہ وقت نہیںدیا جاسکتا ہے اور دو ہفتوں کے اندر ہی حکومت ای ویلیوایشن کیلئے جو معیار مقرر کررہی ہے، اسے عدالت کے سامنے پیش کیاجائے۔
در اصل کورونا کی دوسری لہر سے پیدا ہونے والے حالات کے مدنظر حکومت نے یکم جون کو سی بی ایس ای کے 12 ویں امتحان کی منسوخی کا اعلان کیا تھا، اس سے قبل 10ویں جماعت کے امتحانات بھی منسوخ کردیے گئے تھے۔اس کے ساتھ ہی کئی ریاستوں کے ایجوکیشن بورڈ نے بھی اپنے اپنے یہاں 12ویں یعنی ہائر سیکنڈری کے امتحانات رد کردیے ہیں۔ دیکھاجائے تو ایک طرح سے مرکزی حکومت نے سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای امتحانات کی کارروائی کو ایک طرح سے غیر مؤثر بنادیا ہے۔ لیکن اگلا سوال ای ویلیوایشن سسٹم کا ہے۔ امتحان کے بغیر نتیجہ جاری کرنے کیلئے ای ویلیوایشن کا معیار مقررکرنا کافی پیچیدہ عمل ہے کیوں کہ ان ہی نتائج پر طلبا کے مستقبل کا انحصار ہوگا۔ہمارا نظام تعلیم پوری طرح سے امتحانات پر مرکوز ہے اور اس میں بھی بورڈ اور کائونسل کے امتحانات کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔اب جب کہ امتحانات نہیں ہونے ہیں تو لامحالہ یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ اس کا متبادل کیا ہوگا؟متبادل بھی ایسا ہی ہونا چاہیے جو سبھی کیلئے قابل قبول ہو۔
ہندوستان کے تعلیمی نظام میں آج جس طرح کی مسابقت ہے اس میں بہرحال نتائج اور مارکس نمایاں اہمیت رکھتے ہیں اور ان ہی کی بنیادوں پر طلبا کیلئے آگے کا راستہ کھلتا ہے۔حالانکہ کچھ ماہرین طلبا کی لیاقت اور اہلیت جانچنے کیلئے مارکس اور نمبر کو بہت معیاری کسوٹی نہیں سمجھتے ہیں لیکن بوجوہ اب تک اس پرسنجیدگی سے غورنہیں کیاگیا ہے۔ اب جب کہ وبا نے ہمارے سامنے اچانک یہ بحران لا کھڑا کیا ہے تو اس کے متبادل کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ لیکن اس میں ہزار دقتیں آرہی ہیں۔
10ویں جماعت کے نتائج کیلئے سی بی ایس ای نے انٹرنل امتحانات اور گزشتہ تین برسوں کی اسکول کی اوسط کارکردگی کو معیار بنایا ہے۔سی بی ایس ای کے اس فیصلہ کوایک تعلیمی ادارہ نے دہلی ہائی کورٹ میں پہلے ہی چیلنج کر رکھا ہے۔عرضی گزار کا کہنا ہے کہ یہ بچوں کے ساتھ ناانصافی ہے کہ ان کی کارکردگی کو اسکول اوراساتذہ کی کارکردگی کی بنیادپر ناپا جائے۔ بظاہر یہ سوال منطقی بھی ہے کیوںکہ کسی امتحان میں امتحان دہندگان کی کارکردگی ہی اہمیت رکھتی ہے۔یہ نہیں پرکھاجاتا ہے کہ ان کے اسکول کا معیار کیاتھا یا اساتذہ کیسے تھے ‘بلکہ صرف ایک معیار یہ ہوتا ہے کہ امتحان دہندگان نے اپنی جوابی کاپیوں میں کیا لکھا ہے۔ سیماب صفت دنیا میںہر لمحہ تبدیل ہوتے مستقبل کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر طلبا امتحان میں اعلیٰ کارکردگی کیلئے زندگی کی لطافتوں کو قربان کرکے تیاریاں کرتے ہیں، اب اگرا سکول کی اوسط کارکردگی کی بنیادپر ان کے مارکس کم ہوتے ہیں تو یہ ناانصافی ہی کہی جائے گی۔اس طرح کے اور بھی کئی سوالات ہیں جن کا مبنی برا نصاف حل نکالنا ضروری ہے۔اس لیے قومی اتفاق رائے سے ایک جیسا امتحان ای ویلیو ایشن سسٹم عمل میں لایاجاناچاہیے تاکہ ہر بورڈ اور ریاست کے طلبا قومی سطح پر یکساں حیثیت حاصل کرسکیں۔ای ویلیوایشن سسٹم طے کرتے وقت یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اہل اور باصلاحیت طلبا کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہ ہو اور انٹرنل ای ویلیوایشن سسٹم بھی ہر طرح کے امتیاز اور تفریق سے پاک ہوناچاہیے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS