پالیتھن پر پابندی کیلئے متبادل انتظامات کی ضرورت

0

پنکج چترویدی

اس جولائی سے ملک میں ایک بار استعمال ہونے والی پالیتھن سمیت مجموعی طور پر 19 ایسی اشیا پر پابندی لگا دی گئی جن کا کچرا اس زمین کے وجود کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ حالانکہ یہ کڑوا سچ ہے کہ کئی جگہوں پر اس حوالے سے چالان اور نقد جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے لیکن نہ ان کا استعمال کم ہوا اور نہ ہی پیداوار۔ بس، بازار میں اسے چوری چھپے لانے کے نام پر قیمت میں ضرور اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے ستمبر 2019 وزیراعظم نے اپنے ’من کی بات‘ میں پالیتھن اور پلاسٹک سے ملک کو آزاد کرنے کی اپیل کی تھی۔ مدھیہ پردیش حکومت اس سے قبل ہی پنّی سے پاک ریاست کا اعلان کرچکی تھی۔ ملک کے کئی شہری علاقوں میں اس طرح کی مہم چلتی رہی، لوگ بھی پالیتھن بیگز کو نقصاندہ مانتے ہیں لیکن اگلے ہی لمحے کسی مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہاتھوں میں لے کر چل دیتے ہیں۔ ان دنوں ملک کا ہر شہراور محلہ سڑک پر بارش کا پانی جمع ہونے سے پریشان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈرینج خراب ہے جبکہ ملک بھر کی میونسپل کارپوریشنس کے بجٹ کا بڑا حصہ سیور اور نالوں کی صفائی پر خرچ ہوتا ہے اور نتائج صفر ہی رہتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ پورے سیوریج سسٹم میں پالیتھن کا انبار جمع ہونا ہے۔
خام تیل کی ریفائننگ سے حاصل ہونے والے ڈیزل، پٹرول وغیرہ کے ساتھ ہی پالیتھن بنانے کا مسالہ بھی پیٹرو پروڈکٹ ہے۔ یہ انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے مہلک ہے۔ گھٹیا پالیتھن کا استعمال سانس، جلد کی بیماریوں اور کینسر کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ پالیتھن کی تھیلیاں ختم نہیں ہوتی ہیں اور زمین کی زرخیزی کو تباہ کر کے اسے زہریلا بنا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مٹی میں ان کے دبے رہنے کی وجہ سے مٹی کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوتی جا رہی ہے جس سے زیر زمین پانی کی سطح متاثر ہوتی ہے۔ پالیتھن کھانے سے گایوں اور دیگر جانوروں کے مرنے کے واقعات تو اب عام ہوگئے ہیں۔ پھر بھی بازار سے سبزی لانا ہو یا پیک شدہ دودھ یا کرانہ یا کپڑے، پالیتھن کی لالچ نہ تو دکاندار چھوڑ پا رہے ہیں اور نہ ہی خریدار۔ مندروں، تاریخی ورثوں، پارکوں، مقدس مقامات، جلسوں، جلوسوں، شوبھا یاتراؤں وغیرہ میں دھڑلے سے اس کا استعمال ہو رہا ہے۔ شہروں کی خوبصورتی پر اس سے گہن لگ رہا ہے۔ پالیتھن نہ صرف حال بلکہ مستقبل کو بھی تباہ کرنے پر آمادہ ہے۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان جب کسی سہولت کا عادی ہو جاتا ہے تو اسے تبھی چھوڑ پاتا ہے جب اس کا متبادل ہو۔ یہ بھی سچ ہے کہ پالیتھن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بیس لاکھ سے زائد لوگوں کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ بن چکی ہے جو کہ اس کی پیداوار، کاروبار، پرانی پنّی جمع کرنے اور اسے اسکریپ میں فروخت کرنے جیسے کاموں میں مصروف ہیں۔ وہیں پالیتھن کے متبادل کے طور پر جو سنتھیٹک تھیلے مارکیٹ میں لائے گئے ہیں، وہ ایک تو مہنگے ہیں، دوسرے کمزور اور تیسرے وہ بھی قدرتی یا حل پذیر مواد سے نہیں بنے ہیں اور ان کے بہت سے منفی اثرات بھی ہیں۔ بعض مقامات پر کاغذ کے بیگ اور لفافے بنا کر مفت میں تقسیم بھی کیے گئے لیکن ڈیمانڈ کے مقابلے میں ان کی سپلائی کم تھی۔
اگر حقیقت میں مارکیٹ سے پالیتھن کا متبادل تلاش کرنا ہے تو پرانے کپڑے کے تھیلے بنوانا ہی واحد متبادل ہے۔ اس سے کئی لوگوں کو متبادل ملتا ہے-پالیتھن بنانے کی چھوٹی چھوٹی یونٹیں لگائے لوگوں کو کپڑے کے تھیلے بنانے کا، اس کے کاروبار میں مصروف لوگوں کو اسے دکاندار تک پہنچانے کا اور عام لوگوں کو سامان لانے لے جانے کا بھی۔ یہ حقیقت ہے کہ جس طرح پالیتھن کی مانگ ہے اتنی کپڑے کے تھیلے کی نہیں ہوگی، کیونکہ تھیلا کئی کئی بار استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن کپڑے کے تھیلے کی قیمت، پروڈکشن کی رفتار بھی اسی طرح پالیتھن کی مانند تیز نہیں ہوگی۔ سب سے بڑی دقت دودھ، جوس،پکی ہوئی کری والی سبزیوںوغیرہ کے کاروبار کی۔ اس کے لیے ایلیومنیم یا دیگر مرکبات سے بنے کھانے کے بہتر کنٹینر بنائے جا سکتے ہیں۔ سب سے بڑی بات گھر سے برتن لے جانے کی عادت پھر سے واپس آ جائے تو کھانے کا ذائقہ اور معیار دونوں ہی برقرار رہیں گے۔ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پالیتھن میں پیک دودھ یا گرم سالن بھی اس کے زہر کو آپ کے پیٹ تک پہنچاتا ہے۔ آج کل بازار مائیکرو ویو میں گرم کرنے لائق ایئر ٹائٹ برتنوں سے بھرا پڑا ہے۔ ایسے کئی کئی سال تک استعمال ہونے والے برتنوں کو بھی متبادل کے طور پر غور کیا جا سکتا ہے۔ پلاسٹک سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے بایو پلاسٹک کو فروغ دینا چاہیے۔ بایو پلاسٹک چینی، چقندر، مکئی جیسے حیاتیاتی طور پر انحطاط پذیر مواد کے استعمال سے بنائی جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابتدائی کچھ سال پنّی یا پلاسٹک کے بجائے کپڑے کے تھیلوں اور دیگر متبادل کے لیے کچھ سبسڈی دی جائے تو لوگ اپنی عادت بدلنے کے لیے تیار ہو جائیں گے لیکن یہ خرچ پالیتھن سے ہورہے وسیع نقصان کے مقابلے میں بے حد کم ہی ہوگا۔
خیال رہے کہ40 مائیکرون سے کم پتلی پنّی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ سرکاری ملازمین کو ایسی پالیتھن بنانے والے کارخانوں کو ہی بند کروانا پڑے گا۔ وہیں پلاسٹک کچرا بین کر پیٹ پالنے والوں کے لیے متبادل کے طور پر بنگلورو کے تجربے پر غور کر سکتے ہیں جہاں لاوارث پھینکے گئے پلاسٹک بیگز کو دیگر کچرے کے ساتھ ٹریٹمنٹ کرکے کھاد بنائی جا رہی ہے۔ ہماچل پردیش میں ایسے پلاسٹک بیگز کو ڈامر کے ساتھ گلا کر سڑک بنانے کا کام چل رہا ہے۔
کیرالہ کے کنّور کی مثال تو سبھی کے سامنے ہے جہاں انتظامیہ سے زیادہ سماج کے دیگر طبقات کو ساتھ لیا گیا۔ بازار، ریستوراں، اسکول، این جی اوز، سیاسی جماعتیں وغیرہ اکٹھے ہوئے۔ پورے ضلع کو چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کیا گیا، پھر معاشرے کے ہر طبقے، خاص طور پر بچوں نے ایک ایک انچ زمین سے پلاسٹک کا ایک ایک ٹکڑا اکٹھا کیا، اسے مناسب طریقے سے پیک کیا گیا اور اسے ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں نے نبھائی۔ اس کے ساتھ ہی ضلع میں ہر قسم کے پالیتھن بیگز، ڈسپوزیبل برتنوں اور دیگر پلاسٹک کی پیکنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ کنّور کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی کے طلبا نے اِوینابو بنکر سہکاری سمیتی اور کلّے تیرے انڈسٹریل ویورس کوآپریٹوسوسائٹی کے ساتھ مل کر بہت کم قیمت پر انتہائی پرکشش اور پائیدار بیگ مارکیٹ میں لائے گئے۔ تمام کاروباری تنظیموں، مالس وغیرہ نے ان تھیلوں کو رکھنا شروع کیا اور آج پورے ضلع میں کوئی بھی پلاسٹک بیگز نہیں مانگتا ہے۔ کھانے پینے کے ہوٹلوں نے کھانا پیک کروا کر لے جانے والوں کو گھر سے ٹفن لانے پر چھوٹ دینا شروع کردیا اور گھر پر سپلائی بھی اب اسٹیل کے برتنو ں میں کی جا رہی ہے جو کہ صارف کے گھر پر خالی کر لیے جاتے ہیں۔ وہاں یہ پلاسٹک بیگز سے پاک ضلع کا چوتھا سال ہے۔ سکم میں پہلے لاچین گاؤں نے سیل بند پانی کی بوتلوں سے لے کر ڈسپوزیبل برتنوں پر پابندی عائد کی، پھر پوری ریاست میں اس طرح کی پابندی جنوری-2022 سے نافذ ہے۔ وہاں پانی کی پلاسٹک کی بوتل کے متبادل کے طور پر بانس اور مٹی کی بوتلیں بہت مقبول ہوئی ہیں۔ جرمنی میں پلاسٹک کے کچرے سے بجلی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ متبادل تو اور بھی بہت سے ہیں، بس ضرورت ہے ایک اچھی طرح سے تیار کردہ طویل مدتی منصوبے اور اس پر عمل درآمد کے لیے زبردست قوت ارادی کی۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS