نواب ملک کی گرفتاری

0

جس کا اندازہ تھا وہی ہوا،بالآخر نواب ملک گرفتار کرلیے گئے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) نے بغیر کسی اطلاع اور پیشگی نوٹس مہاراشٹر کے کابینہ وزیر اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی(این سی پی) لیڈر نواب ملک کو گینگسٹر دائود ابراہیم اور اس کے رفقا سے جڑے منی لانڈرنگ کے معاملہ میں گرفتار کیا ہے۔ اپنی گرفتاری کے بعد نواب ملک نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی حال میں نہیں جھکیں گے، لڑیں گے، جیتیں گے اور سب کو بے نقاب کریں گے۔
نواب ملک کی گرفتاری کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ابال آگیا ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی نواب ملک کا استعفیٰ مانگ رہی ہے تو این سی پی کے کارکنان ای ڈی کے دفتر کے باہر احتجاج کررہے ہیں اور لیڈران معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کے بعد مرکزی حکومت اور بی جے پی کے خلاف بڑے پیمانہ پر احتجاج اور مظاہرہ کیاجائے گا۔
دیکھاجائے تو نواب ملک کی گرفتاری کوئی خلاف توقع نہیں ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر کے مہینہ میں جب ’ ڈرگ آن کروز کیس‘ میں میگا اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کی گرفتاری کے بعدسے جس طرح نواب ملک نے مرکزی تفتیشی ایجنسی نارکوٹکس کنٹرول بیورو اور اس کے افسر سمیر وانکھیڑے کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مرکزی حکومت کے خلاف محاذ کھولا تھا،اسی وقت سے نواب ملک کی گرفتاری کا امکان تھا۔ یہ امکان اس وقت مزید قوی ہوگیا جب اسی سال جنوری کے مہینہ میں ان کے داماد سمیرخان کو منشیات کے ایک معاملہ میں گرفتار کیاگیا۔
لیکن اب نواب ملک کی گرفتاری کیلئے ای ڈی نے جو طریقہ اختیار کیا ہے، وہ کسی بھی حال میں مناسب نہیں کہاجاسکتا ہے۔ مسلسل 25 برسوں سے عوام کے ایک منتخب نمائندہ اور ریاست میں کابینہ درجہ کے وزیر کو بغیر کسی اطلاع کے صبح 4بجے گھر سے اٹھانا اور گھنٹوں پوچھ گچھ کے بعد تفتیش میں عدم تعاون کا الزام لگاکر گرفتار کرلینا قانون اور طاقت کا غلط استعمال ہی کہاجائے گا۔ہوسکتا ہے کہ ای ڈی نے اپنی کارروائی کی بنیاد ثبوت و شواہد پر رکھی ہو اور اسے عدالت میں پیش کرے لیکن ملک میں اب تک کئی ایسے معاملات سامنے آچکے ہیں جن میں مرکزی ایجنسیوں نے تمام اصول اور ضابطوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف اپنے سیاسی آقائوں کی مرضی پہچانی ہے اورا سی کے مطابق کام کیا ہے۔ نواب ملک کے معاملہ میں حزب اختلاف ان ہی خدشات کا اظہار کررہاہے۔این سی پی اور مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں شامل جماعتوں کے قائدین ای ڈی کے نواب ملک کے گھرپہنچنے اور انہیں اپنے دفتر لے جانے پر سراپااحتجاج ہیں۔شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2024 کے بعد بی جے پی حکومت کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ ریاستی وزیر جتیندر اوہاد نے ای ڈی کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نواب ملک کی گرفتاری آئین اور جمہوریت کے خلاف اور احتجاج کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔
نواب ملک مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے ان رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو مرکزی حکومت کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ مہاراشٹر اور ملک کے کئی دوسرے لیڈران کے ساتھ وہ بھی مرکزی ایجنسیوں پر غلط استعمال کا الزام لگا تے آرہے ہیں۔اب ان کی گرفتاری کے بعد جس طرح سے مہا وکاس اگھاڑی حکومت (مہاراشٹرڈیولپمنٹ فرنٹ) کے لیڈر متحد ہوئے ہیں، اس سے صاف لگتا ہے کہ یہ معاملہ مزید زور پکڑے گا۔ویسے بھی جب سے مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت بنی ہے، اس وقت سے ہی بی جے پی اور اگھاڑی حکومت کے لیڈر آمنے سامنے ہیں۔ خاص طور پر گزشتہ دوبرسوں کے دوران بی جے پی اور شیوسینا-این سی پی کے درمیان کھلی جنگ جیسے حالات ہیں۔یہ جنگ مرکزی اور ریاستی سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ بھی لڑی جاتی رہی ہے۔نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی جائیداد ضبط کرنے کا معاملہ ہو، شیوسینا کے رکن اسمبلی سنجے راوت کی اہلیہ ورشا راوت سے ای ڈی کی پوچھ گچھ ہو یا اس طرح کے کئی اور معاملے ہیں جن سے لگتاہے کہ مہاراشٹر حکومت کے وزرا، قائدین اور ان کے اہل خانہ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے نشانے پر ہیںلیکن مرکزی ایجنسیاں اپنے کام کو قانون کے مطابق قرار دیتی رہی ہیں۔
ای ڈی کے مطابق نواب ملک کی گرفتاری مبینہ غیر قانونی جائیداد کے سودوں اور حوالہ رقم کے لین دین کے سلسلے میںایک ہفتہ قبل 15فروری کو درج کیے گئے معاملہ کی تفتیش میں عدم تعاون کے حوالے سے کی گئی ہے لیکن ملک کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی گرفتاری ہے اور نواب ملک کی زبان بند رکھنے کیلئے کی گئی ہے کیوں کہ مہاراشٹر میں آنے والے چند دنوں میں بلدیاتی انتخابات بھی ہونے ہیں،اس سے پہلے نواب ملک کو گرفتار کیاجانا اس شبہ کو تقویت پہنچاتا ہے۔
[email protected]