’نیشنل مینس میرٹ کم اسکالر شپ امتحان ـــ‘ مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کی ابتدائی منزل ہے

’ کامیاب ہونے والے طلبہ کوسالانہ بارہ ہزار روپے اسکالرشپ بارہویں جماعت تک ‘

0

مومن فیاض احمد غلام مصطفی

ہمارے طلبا میں ذہانت،صلاحیت،شوق،دلچسپی کی کمی نہیں ہے۔ ضرورت ہے مناسب رہنمائی کی، صحیح طور پر رہنمائی کی جائے تو ہمارے طلبا بھی مقابلہ جاتی امتحان میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔بیشتر مرتبہ انہوں نے کامیابی کی بلندیوں کو بھی چھوا ہے۔ اگر اس قسم کے امتحان کی ترغیب شروع ہی سے دیں تو وہ ہر قسم کے مقابلہ جاتی امتحانات کا ہر قسم کے حالات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ہر سال اسٹاف سلیکشن کمیشن کی جانب سے دسویں اور بارہویں کامیاب طلبا کے لیے اسامیاں نکلتی رہتی ہے۔ اسی طرح ریلوے ریکروٹمنٹ میں بڑی تعداد میںآسامیاں نکلتی رہتی ہے۔ جسے حاصل کرنے کے لیے اسی نہج کے امتحانات کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے۔
ہر سال ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب سے مختلف قسم کے امتحانات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس کے ذریعے ذہین طلبا کو تلاش کر کے ان بچوں کو بہترین تعلیم دلانے کے نقطہ نظر سے ان کی مالی امدادکے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی ترقی ہو اور اس ذہنی ترقی کی بدولت طلبا اپنے قوم اور ملک کی خدمت کے لیے اعلیٰ انتظامی امور رکھنے کی صلاحیت پیدا کریں ۔اس قسم کے امتحانات کی جانچ انتہائی خفیہ طریقے سے کی جاتی ہے۔ اس طرز کا ایک امتحان ہے ’ نیشنل مینس میرٹ کم اسکالر شپ امتحان‘-8 2007-0سے یہ اسکیم شروع ہوئی اور الحمد اللہ قارئین کو یہ بتاتے ہوئے بڑی مسرت ہو رہی ہے کہ ہر سال بھیونڈی کے علاوہ دیگر شہروں کی مختلف اسکولوں سے طلبا منتخب ہو رہے ہیں اور یہ اسکالر شپ انہیں حاصل ہو رہی ہے۔اس کا نصاب بہت زیادہ مشکل نہیں ہے ۔لیکن تھوڑا محنت طلب ہے۔اگر طلبا توجہ دیں تو آسانی سے اس امتحان میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ہیڈ ماسٹرس و اساتذہ ایسے طلبا کو ترغیب دیں جن کا گزشتہ برسوں میں ذہانت کا معیار بہتر رہا ہے اور ان کا تعلیمی ریکارڈ بھی بہترین ہو والدین و سرپرست بھی اس امتحان میں شریک ہونے کے لیے اپنے بچوں کو تحریک دیں تاکہ ان میں بچپن سے ہی مقابلہ جاتی امتحانات میں شریک ہونے کا موقع ملتا رہے۔
مقصد:8 2007-0مرکزی حکومت اور این سی ای آر ٹی کی جانب سے ہشتم جماعت میں تعلیم حاصل کرنے والے ایسے طلبا جو معاشی طور پر پسماندہ ہیں ان کے لیے یہ اسکالر شپ اسکیم شروع کی گئی ہے۔ اس کے لیے طلبا کو ایک تحریری امتحان کے مرحلہ سے گزرنا ہو گا۔ اس اسکیم کے تحت ایسے طلبا جو گزشتہ برس میںساتویں جماعت میں پچپن فی صد سے زائد مارکس سے کامیاب ہوئے ہیںوہ صرف اپنی اپنی اسکولوں کے ذریعے ہی درخواست دے سکتے ہیں۔
درخواست فارم کہاں سے حاصل کریں؟: ادارے کی ویب سائٹwww.mscepune.in سے ہر اسکول کو آن لائن رجسٹریشن کرنا ہے۔اس کے لیے ہر اسکولوں کو اپنا یو ڈائس نمبر،اسکول کا نام، میڈیم، اسکول کی قسم( سرکاری ،نیم سرکاری،خاصگی ،لوکل وغیرہ) اسکول کا علاقہ (شہری ، دیہاتی)، اسکول کا نصاب،موبائل نمبر ہیڈ ماسٹر؍مسٹریس کا ، ہیڈ ماسٹر؍مسٹریس کا فوٹو، اسکول کاٹیلیفون نمبر، ای میل ،مکمل پتہ ،ہوسٹل کی سہولت ہے یا نہیں،پن کوڈ وغیر تفصیلات درج کرناہے۔ اس کے بعد submit بٹن پر کلک کرنا ہوگا۔ اس کے بعد دو سو روپیہ بطور رجسٹریشن فیس کریڈیٹ، ڈیبیٹ کارڈ،نیٹ بینکنگ کے ذریعہ آن لائن ہی بھرنا ہے۔ آن لائن فیس بھرنے کے بعد آپ کو ایک پاس ورڈ ملے گا۔ اس طرح اسکول کا رجسٹریشن ہو جائے گا۔
فارم کس طرح بھریں: رجسٹریشن کرنے کے بعد ایک پاس ورڈ ملے گا ۔اس کے مطابق تمام طلبہ کا فارم آن لائن بھرنا ہے۔جس کے لیے ویب سائٹ ہے۔www.mscepune.in
فارم بھرنے کی آخری تاریخ: آ ن لائن فارم بھرنے کا کام 25؍جولائی 2023سے شروع ہو چکا ہے۔فارم بھرنے کی آخری تاریخ 24؍اگست2023 (ہے۔ مکمل طور پر بھرے ہوئے فارم کی پرنٹ آئوٹ، طلبہ کی نام کی فہرست، ایس فارم وغیرہ اپنے پاس نکال کر محفوظ رکھیں۔
لیٹ فیس : دی ہوئی مدت گزر جانے کے بعد لیٹ فیس ادا کرنی ہو گی ۔جس کی تاریخ 24؍اگست2023 سے2؍ستمبر 2023(ہے۔ جس کے لیے 240 روپے فیس ادا کرنی ہوگی۔
سپر لیٹ فیس: 2؍ستمبر 2023 ‘یہ مدت گزر جانے کے بعد ایک اور موقع سپر لیٹ فیس کی صور ت میںدیا جائے گا جس کے لیے 360روپے بطور فیس ادا کرنی ہوگی ۔سپر لیٹ فیس کی تاریخ3؍ستمبر 2023 سے 7 ستمبر ؍2023 ہے۔ اس کے بعد کوئی لیٹ فیس نہیں ہے اس بات کا خاص دھیان رکھیں۔
امتحان کی تاریخ: امسال یہ امتحان10؍دسمبر2023 کوہے۔
امتحان میں کون شریک ہو سکتا ہے؟ریاست مہاراشٹر کے نان گرانٹ،سی بی ایس سی،فوجی اسکول میں پڑھنے والے ، جواہر نو ودیالیہ میں سیکھنے والے طلبہ وغیرہ اسکولوں کو چھوڑ کر سبھی مہا نگر پالیکا، اور گرانٹیڈ اسکولوں کے ہشتم جماعت طلبا اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس امتحان میں شریک ہونے والے عام طلبا کا فی صد مارکس55% اور بی سی طلبا کے لئے0% مارکس ضروری ہے۔درخواست گزار والدین یا سرپرست کی سالانہ آمدنی ساڑھے تین لاکھ سے کم ہونا چاہیے۔ اس کے لیے والدین کوتحصیل دار یا اس کے ہم رتبہ آفیسر کی جانب سے انکم سرٹیفکیٹ بنانا لازمی ہے۔ جو والدین ملازمت پیشہ ہیں وہ اپنی آمدنی کا داخلہ اپنے ہیڈس سے حاصل کرسکتے ہیں
امتحان فیس:آٹھویںجماعت کے طلبا 120؍ روپے فیس ادا کر کے امتحان میں شریک ہو سکتے ہیں۔
امتحان کا نصاب: تحریری امتحان کے لیے ذہنی آزمائش ٹیسٹ اور اسکولی مضامین کے دو پرچے ہوں گے۔ اسکولی مضامین میں سو شل سائنس،علم ریاضی ، سائنس پر مبنی ہوں گے۔ اگر طلبا اپنے اسکولی مضامین پر بھرپور توجہ دیں تو بآسانی اس امتحان میں کامیاب ہو سکتے ہیں جیسا کہ ہر سال بڑی تعداد میں طلباکامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ اسکولی نصاب میں جنرل سائنس 35مارکس،سوشل سائنس (تاریخ جغرافیہ شہریت)35 مارکس مارکس، علم ریاضی 20 مارکس، اس طرح کل مارکس90 ہے۔اس کی تفصیل اس طرح ہے۔
1) جنرل سائنس35مارکس : مارکس کی ترتیبـ: فزکس11 مارکس، کیمسٹری 11 مارکس، بائلوجی 13مارکس
2)سوشل سائنس (تاریخ جغرافیہ شہریت)35 مارکس: تاریخ 15مارکس ، جغرافیہ 15 مارکس، شہریت 5 مارکس
3)علم ریاضی (حساب) : 20 مارکس
میڈیم: سوالیہ پرچے مراٹھی ، اردو، ہندی ، گجراتی ، انگریزی ، تیلگو اور کنڑ اس طرح سات زبانوں میں ہوں گے۔
ہال ٹکٹ: ہال ٹکٹ امتحان سے دس روز قبل دی گئی ویب سائٹ پر دستیاب ہوگا۔ہال ٹکٹ کا پرنٹ آئوٹ نکال کر طلبا تک پہنچانا اس کی مکمل جواب داری اسکول کے ہیڈ ماسٹر کی ہوگی۔
نتیجہ(رزلٹ): اس امتحان کا رزلٹ فروری کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں ظاہر کردیا جائے گا۔ اس کے لیے دی گئی ویب سائٹ کا استعمال کرنا ہے۔
فارم بھرنے سے پہلے کچھ ہدایت: انچارج ٹیچرس پہلے سے ہی طالب علم کا نام والد ، والدہ کا نام،طالب علم کی تاریخ پیدائش، ذات،میڈیم،موبائیل نمبر،والد کی تعلیمی لیاقت، والدہ کی تعلیمی لیاقت، بھائی کی تعداد، بہن کی تعداد، گھر کے کل افراد کی تعداد، والدین کی سالانہ تنخواہ،اسکول کا مکمل پتہ ، گھر کا مکمل پتہ،فوٹو، دستخط کی اسکین کاپی، اسکول نصاب کا بورڈ،اسکول کی قسم، طلباکی جی آر نمبر ، ساتویں کے رزلٹ کا زیروکس،طلبا؍والدین کا موبائل نمبر،طلبا؍والدین کا فون نمبر وغیرہ معلومات پہلے سے ہی لے لیں تو آن لائن فارم بھرنے میں آسانی ہوگی۔
اسکالرشپ:کامیاب ہونے والے طلبا کو بارہویں جماعت تک ہر ماہ 1000. روپے (ہزار روپے ) یعنی سالانہ بارہ ہزار وپے اسکالر شپ دی جائے گی۔اسکالر شپ حاصل کرنے والے طلبا کو اپنے پڑھائی کے معیار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔نہم ،دہم،گیارہویں اور بارہویں درجہ تک اول درجہ (فرسٹ کلاس )سے کامیاب ہونا ضروری ہے۔ آٹھویں جماعت کے طلبا اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں اور کثیر تعداد میں اس امتحان میں شریک ہوں۔ہیڈ ماسٹر ؍ مسٹریس، والدین سرپرست،سماجی اداروں اور تعلیمی میدان میں کام کرنے والے ذمہ داران طلبا کو اس امتحان میں شرکت کی ترغیب دیں۔تاکہ ہمارے طلبا میں ابتدا ء سے ہی مقابلہ جاتی امتحان کی اسپرٹ پیدا ہوئے اور وہ اس طرز پر ہونے والے ہر مقابلہ جاتی امتحان کے لیے تیار رہیں اور اپنی قوم کا نام روشن کریں۔ll

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS