مسلم طالبات:انگاروں میں کھلتے پھول

0

محمد فاروق اعظمی

ہندوستان کے مسلمانوں میںتعلیم کی بابت آگہی اور بیداری میں لگاتار بہتری آرہی ہے۔ اسکول سے کالجوں اور یونیورسٹی تک میں طلبا کے ساتھ ساتھ طالبات کی تعداد میں بھی حوصلہ افزااضافہ دیکھنے کو مل رہاہے۔ایک سروے کے مطابق 2006-2007میں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مسلم طالبات کی شرح صرف 6.7 فیصد تھی جو 2017-18میں بڑھ کر13.5فیصد ہوگئی جبکہ اس دوران ہندو خواتین کی تعداد 13.4 فیصد سے بڑھ کر 24.3 فیصد ہوئی ہے۔ آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن 2020-21کے مطابق ایک ہزار مسلم طلبا میں 503مسلم طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ یعنی اعلیٰ تعلیم میں مسلم خواتین کا تناسب مسلم مردوں سے بھی زیادہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں مسلم طالبات کی تعداد میںاس اضافے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اسکول کی سطح یعنی انٹرمیڈیٹ تک کی کلاسوں میں مسلم طالبات کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔شاید اس کا سبب یہ ہو کہ مسلمانوں نے اب یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک عورت کا تعلیم یافتہ ہونا پوری نسل کے تعلیم یافتہ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ مسلم معاشرے میں شعور اور بیداری دونوں آرہی ہے۔ اگر اس کی رفتار یوںہی برقرار رہی تو ممکن ہے کہ آنے والی چند دہائیوں میں مسلمانوں کی مجموعی حالت میں قدرے بہتری آجائے اور وہ پسماندگی کی دلدل سے باہر نکل سکیں۔یہ ایک ایسی مثبت تبدیلی ہے جس کا ہر ذی شعور کو خیر مقدم کرنا چاہیے۔ لیکن کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو مسلمانوں کی اس بیداری سے ناخوش ہیں اوران کی وجہ سے مسلمانوںکی اس تعلیمی پیش رفت کومختلف طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ کبھی تعلیمی جہاد کا ہوا کھڑا کیا جا رہا ہے توکہیں اس مثبت تعلیمی بیداری کو یوپی ایس سی اور پی ایس سی جہاد کانام دے کر مسلم نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔ کہیں حجاب کو تعلیم کی راہ کا سب سے بڑا روڑہ بتاکر مسلم خواتین کو گھر بیٹھانے کی بھی سازش رچی جارہی ہے۔ ابھی گزشتہ سال ہی کرناٹک میں حجاب کے نام پر بے معنی تنازع کھڑا ہوا اور اڈپی کی سرکاری کالج میں حجاب پر باقاعدہ پابندی لگادی گئی۔ لیکن پھر بھی بہت سی لڑکیوں نے حجاب پہننا بند نہیں کیا، اس لیے انہیں کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کچھ جگہوں پر ہندوتو کے پرچارکوں نے بھگوا گمچھا پہن کر احتجاج شروع کیا۔ حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو دھمکانے کیلئے کچھ جگہوں پر جے شری رام کے نعرے بھی لگائے گئے۔حجاب پر پابندی کے حکومتی حکم کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضیاں دائر کی گئیں۔ہائی کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور لڑکیوں کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ حجاب پہننا مسلم عقیدے کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے ایک تنازع کھڑا کر دیا۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جہاں دو رکنی بنچ نے الگ الگ فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھانشو دھولیا نے اس معاملے میں اپنا الگ الگ فیصلہ سنایا۔ جسٹس ہیمنت گپتا نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا جب کہ جج جسٹس سدھانشو دھولیا نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ مکمل طور پر متضاد فیصلہ کی وجہ سے حجاب استعمال کرنے والی طالبات کا مستقبل وسوسوں کا شکار ہوگیا۔حجاب کو متنازع بنانے کی وجہ سے مسلم طالبات کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حجاب پہننے والی طالبات کو فائنل امتحان دینے کی بھی اجازت نہیں ملی۔ جس کے نتیجے میں کئی طالبات کا پورا سال ضائع ہو گیا اور ہزاروں مسلم طالبات کی تعلیم متاثر ہوئی۔ تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی نے ان گنت مسلم طالبات کے مستقبل کو تاریکی میں ڈال دیا۔ ان طالبات کو پڑھائی اور اپنی روایت کے درمیان انتخاب کرنے کی مشکل صورتحال سے گزرنا پڑا۔ کچھ طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی تو کچھ نے روایت سے سمجھوتہ کر لیا اور کچھ نے پڑھائی کی خاطر حجاب چھوڑ دیا۔لیکن حجاب کو اپنی معاشرت کا لازمہ سمجھنے والے گھرانوں نے ہار نہیںمانی۔ کرناٹک کے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میںداخلہ ممنوع ہونے کے بعد نجی تعلیمی اداروں کا رخ کیا اور حجاب کے ساتھ اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔
حکومتی فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک تبسم شیخ بھی تھی جس نے عدالتی فیصلے کے بعد اپنے والد کے مشورے سے حجاب کے بجائے تعلیم کا انتخاب کیا اور بہترین نمبرلاکر ٹاپ رینک حاصل کیا۔ تبسم کی کامیابی کی کہانی اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل کی زینت بنی ہوئی ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اگر کوئی لڑکی تمام تنازعات کے درمیان اچھی طرح پڑھ کر اول مقام حاصل کرتی ہے تو وہ واقعی دوسری طالبات کیلئے ایک مثال ہے۔ کیونکہ بہت سے بچے تمام تر سہولتوں اور وسائل کے باوجود پڑھائی پر توجہ نہیں دیتے، اپنی صلاحیت کا صحیح استعمال نہیں کرتے۔ تبسم نے یہ کام کردکھایا اوراس کیلئے وہ بجاطور پر مبارک باد کی مستحق ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے جس پر دردمندی کے ساتھ نظرڈالنے کی ضرورت ہے کہ تبسم کو حجاب اور تعلیم میں سے کسی ایک کا انتخاب کیوں کرنا پڑا ؟تبسم اگر حجاب میںہوتی تو کیا اسے وہ کامیابی نہیں ملتی جوآج ملی ہے ، کیا حجاب کی وجہ سے اس کی میرٹ متاثر ہوتی ؟ کیا حجاب تعلیم کیلئے واقعی رکاوٹ ہے ؟
ایسا نہیں ہے کہ حجاب نہ پہننے کی وجہ سے تبسم کی ذہنی استعداد اس قدر بڑھ گئی کہ وہ سیدھی پہلی پوزیشن پرپہنچ گئی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کامیابی ایک سال کی ’بے حجاب‘ پڑھائی سے نہیں ملی بلکہ تبسم شروع سے ہی ذہین اور محنتی ہوگی، اس لیے اس نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی۔ یعنی حجاب تعلیم میں کسی طور پر رکاوٹ نہیں ہے۔تبسم کی اس کامیابی کو دیکھ کر یہ خیال بھی آتا ہے کہ تبسم جیسی دوسری مسلم طالبات بھی ذہین اور محنتی ہیں۔جن پر ’حجاب ‘کی آڑ میں تعلیم کا دروازہ بند کیاجارہاہے۔کچھ حوصلہ ہار بیٹھتی ہیں اور کچھ تبسم کی طرح حالات کا جبر سہتی ہوئی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں اور انگاروں میں پھول کھلاتی ہیں۔
ہندوستان کا آئین ہر مذہب کی خواتین کو کسی بھی مرد کی طرح مساوی حقوق دیتا ہے۔انہیں حجاب اور تعلیم میں کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ہندوستان کا آئین کسی بھی شہری کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر کوئی فیصلہ لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ حجاب پہننا یا نہ پہننا کسی کی ذاتی پسند ہونی چاہیے۔ ہر مذہب اور ہر شہری کی آزادی کا آئینی معیار یہی ہے۔ اس معیار کی پابندی سے ملک میںشخصی آزادی کا حق برقرار رہے گا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS