محمد عمر گوتم: ’سازش کے تحت‘ ہندو نوجوانوں کا مذہب تبدیل کروانے کے الزام میں گرفتار دو انڈین مبلغ کون ہیں؟

0
image:bbc.com

انڈیا کی شمالی ریاست اُتر پردیش میں انسداد دہشت گردی کی پولیس (اے ٹی ایس) نے دو مسلم مذہبی رہنماؤں کو ’سازش کے تحت‘ ہندوؤں کو مذہب تبدیل کروا کر مسلمان کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

ان مسلم مذہبی رہنماؤں میں سے ایک، محمد عمر گوتم، خود ہندو خاندان میں پیدا ہوئے تھے اور سنہ 1984 میں انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔

یوپی پولیس کے مطابق محمد عمر گوتم اور مفتی قاضی جہانگیر عالم قاسمی کو دہلی کے جامعہ نگر کے علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔

یوپی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دو مذہبی رہنما گونگے بہرے طلبا اور غریب افراد کو پیسے، نوکریوں اور شادیوں کا لالچ دے کر مسلمان بنا رہے تھے۔

یوپی پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مذہبی رہنما مختلف ممالک سے فنڈز لیتے تھے اور یہ سب ایک بڑی سازش کے تحت کیا جا رہا تھا۔

اتر پردیش کے اے ٹی ایس کے سربراہ جی کے گوسوامی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گرفتار کیے جانے والے مذہبی رہنماؤں نے بہت ساری ہندو لڑکیوں کی تبدیلی مذہب کروا کے اُن کی شادی بھی کرائی ہے۔ ہم ان کے ٹھکانے سے ملنے والے دستاویزات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ اب تک ہمارے پاس ایسی 100 سے زیادہ لڑکیوں کے بارے میں معلومات موجود ہیں جن کا مذہب تبدیل کیا گیا ہے۔‘

دوسری جانب گرفتار ہونے والے عمر گوتم اور جہانگیر قاسمی کے اہلخانہ سے بی بی سی کا رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

عمر گوتم کو تقریبا 20 برسوں سے جاننے والے ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں انھیں 20 سالوں سے جانتا ہوں۔ مذہب تبدیل کرنے کے لیے لوگ ان کے پاس آتے تھے۔ وہ قانونی اور دینی مدد فراہم کرتے تھے۔ وہ یہ کام برسوں سے کر رہے ہیں۔ پولیس اور میڈیا والے اسے غلط طریقے سے پیش کر رہے ہیں۔ انڈیا کا آئین لوگوں کو اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کی آزادی دیتا ہے۔‘

عمر گوتم ایک معروف مبلغ ہیں اور انٹرنیٹ پر ایسی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جس میں وہ اسلام کی تبلیغ کا کام کرتے نظر آتے ہیں، وہ اسلام قبول کرنے والے لوگوں کو قانونی مدد فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔

سنہ 2010 میں انھوں نے دارالحکومت نئی دہلی کے جامعہ نگر علاقے میں اسلامی دعوۃ سینٹر کے نام سے ایک مرکز کی بنا ڈالی تھی جس کے ذریعہ وہ اسلام قبول کرنے والوں کی مدد کرتے تھے۔

الزامات کیا ہیں؟

قاضی جہانگیر عالم قاسمی

یوپی پولیس نے عمر گوتم اور جہانگیر قاسمی کو 20 جون کو گرفتار کیا۔ قبل ازیں ان سے تحویل میں پوچھ گچھ کی جا رہی تھی۔

اے ٹی ایس نے تعزیرات ہند کی دفعات 420، 120 بی، 153 اے، 153 بی، 295، 511 اور اتر پردیش کے مذہبی ممنوعہ آرڈیننس 2020 کے تحت لکھنؤ کے اے ٹی ایس تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے۔ اس میں عمر گوتم اور جہانگیر قاسمی کے علاوہ نامعلوم افراد کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

اے ٹی ایس کا الزام ہے کہ عمر گوتم غیر مسلم گونگے بہرے افراد، خواتین اور بچوں کا اجتماعی طور پر مذہب تبدیل کروا رہے تھے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ عمر گوتم نے بڑی تعداد میں غیر مسلم خواتین کا مذہب تبدیل کرایا ہے اور ان کی شادی مسلمانوں سے کروائی ہے۔

جب بی بی سی نے اے ٹی ایس کے آئی جی جی کے گوسوامی سے پوچھا کہ کیا کوئی متاثرہ خاتون سامنے آئی ہیں یا ان کے خلاف شکایت کی ہے تو انھوں نے کہا: ’ابھی تک کوئی متاثرہ خاتون شکایت لے کر سامنے نہیں آئی ہیں۔ ہم نے ان کے مرکز سے رجسٹر حاصل کیے ہیں جس میں ایسی خواتین کی معلومات درج ہیں۔ جب ہم نے ان کے اہلخانہ سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ انھیں اپنی بیٹیوں کے تبدیلی مذہب کے بارے میں علم نہیں ہے۔‘

جی کے گوسوامی نے کہا ’پولیس تفتیش جاری ہے اور ممکنہ طور پر مستقبل میں شکایت کرنے والے سامنے آ سکتے ہیں۔‘

پولیس نے دعوی کیا ہے کہ عمر گوتم بیرون ممالک سے سینٹر کے لیے رقم حاصل کرتے تھے لالچ دے کر مذہب تبدیل کراتے تھے۔

گونگے بہرے بچوں کی مبینہ تبدیلی مذہب

محمد عمر گوتم
محمد عمر گوتم نے سنہ 1984 میں دین اسلام قبول کیا

یوپی پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گرفتار ملزمان نے نوئیڈا میں نوئیڈا ڈیف سوسائٹی میں تعلیم حاصل کرنے اور تربیت حاصل کرنے والے بہرے اور گونگے طلبا کے مذاہب کو تبدیل کرایا ہے۔

جب بی بی سی نے جی کے گوسوامی سے پوچھا کہ اب تک کتنے بہرے اور گونگے بچوں کا مذہب تبدیل کرایا گیا ہے تو انھوں نے کہا: ‘اب تک ہمیں دو بہرے گونگے بچوں کی تبدیلی مذہب کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ہم جانچ کر رہے ہیں اب کتنے بچوں کے مذہب تبدیل کرائے گئے ہیں۔’

دوسری طرف نوئیڈا ڈیف سوسائٹی کے پروگرامنگ افسر منیش شکلا نے بی بی سی کو بتایا: ‘ہمیں میڈیا کے توسط سے دو افراد کی گرفتاری کے بارے میں پتا چلا ہے۔ ان کا ہماری این جی او سے کسی طرح کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ کچھ دن پہلے پولیس پوچھ گچھ کرنے آئی تھی اور ہم نے تمام ضروری معلومات دے دی تھیں۔’

دوسری جانب منیش شکلا کا کہنا ہے کہ اگر گرفتار ملزمان بہرے اور گونگے بچوں کے رابطے میں آئے ہیں تو وہ انسٹیٹیوٹ سے باہر آئے ہوں گے۔ انھوں نے کہا: ‘ہمارے یہاں سیکڑوں بچے آتے ہیں جنھیں تربیت دی جاتی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ یہاں سے چلے جانے کے بعد کس سے ملتے ہیں۔’

مذہب تبدیل کرنے والا نوجوان کانپور کا ہے

کانپور کے مقامی نمائندے ابھیشیک شرما کے مطابق جس نوجوان کے تبدیلی مذہب کے بعد اے ٹی ایس نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا وہ کانپور کے کاکادیو علاقے میں رہتا ہے اور اس کے اہلخانہ نے 11 مارچ کو اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی۔

ابھیشیک ورما کا کہنا ہے کہ ‘وہ نوجوان جس نے مذہب تبدیل کیا وہ بہرا اور گونگا تھا اور نوئیڈا کی ڈیف سوسائٹی میں رہتا تھا۔ اہلخانہ کا الزام ہے کہ اس نے خفیہ طور پر مذہب تبدیل کر لیا تھا اور سمجھانے پر نہیں مانا۔’

مذہب تبدیل کرنے والے اس نوجوان کی والدہ نے کہا: ‘وہ ایک رات کو گھر میں نماز پڑھ رہا تھا۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میرے ہوش اڑ گئے، ہم نے اس سے مذہب کو تبدیل نہ کرنے کے لیے بہت منایا، لیکن وہ ہمیشہ کہتا کہ اس کا مذہب ہی سچا مذہب ہے۔’

خاندان والے نے اس نوجوان کو ابھی ایک رشتہ دار کے پاس رکھا ہوا ہے۔ اس شخص کے اہلخانہ نے بی بی سی کو بتایا: ’اب اس کی سند پر اس کا نام عبداللہ ہے اور وہ اس نام سے پکارے جانے کو کہتا ہے۔‘

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ مذہب تبدیل کروانے والے لوگ اب بھی نوجوانوں سے رابطے میں ہیں اور انھیں خوف ہے کہ شاید وہ دوبارہ گھر سے نہ بھاگ جائے۔ اسلام مذہب قبول کرنے والا نوجوان کنبے سے ناراض ہو کر گھر سے چلا گیا تھا جس کے بعد اس کی گمشدگی کی رپورٹ 11 مارچ کو درج کی گئی تھی۔

اترپردیش پولیس
اسی دوران کانپور کے علاقے کلیان پور کے اے سی پی دنیش شکلا نے کہا: ‘نوجوان کی گمشدگی کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ وہ بار بار نمبر تبدیل کر رہا تھا اور اس کا سراغ نہیں لگایا جا رہا تھا۔ اب اس معاملے کی تفتیش اے ٹی ایس کررہی ہے۔’

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ نوجوان ویڈیو کال کے ذریعے بات کرتا تھا اور والدہ کی بیماری کے بارے میں پتا چلنے کے بعد وہ خود ہی گھر واپس آ گیا تھا۔

ابھیشیک ورما کے مطابق: ‘اس نوجوان کی والدہ نے فیس بک پر لکھا تھا کہ وہ بہت بیمار ہیں اور بچنے کی کوئی امید نہیں۔ اسے پڑھنے کے بعد اس کا ایک میسیج آیا اور وہ لوٹ آیا۔ نوجوان اب بھی مسلمان رہنا چاہتا ہے۔ جبکہ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اسے کسی بڑی سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔’

مذہب تبدیل کرنا آئینی حق ہے

آئین ہند کسی کو بھی اپنی پسند کے مذہب کو اپنانے اور اس مذہب کی تبلیغ کرنے کی قانونی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، زبردستی یا لالچ کے ذریعہ مذہب تبدیل کرانا جرم ہے۔

رواں سال فروری میں اتر پردیش کی بی جے پی حکومت نے تبدیلی مذہب کا آرڈیننس پاس کیا جس کے تحت زبردستی مذہب تبدیل کرانا، یا تبدیلی مذہب کا لالچ دینا ایک قانونی جرم ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت تبدیلی مذہب میں مدد فراہم کرنا بھی ایک جرم ہے۔

اسلامی سکالر پروفیسر اختر الواسع کہتے ہیں: ‘آئین ہند کسی بھی مذہب کو اپنانے اور اس کی تشہیر وتبلیغ کی آزادی دیتا ہے۔ ہر فرد کو اپنی مرضی سے کسی بھی مذہب کو اپنانے کی آزادی اور پورا حق حاصل ہے۔ لیکن اس میں کوئی جبر، لالچ یا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ دین کے اندر کوئی جبر نہیں ہے۔ قرآن مجید بھی کہتا ہے کہ دین لالچ یا خوف پر مبنی نہیں ہوسکتا۔’

مسلم مذہبی رہنماؤں کی گرفتاری کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے پروفیسر واسع کا کہنا ہے ‘محمد عمر گوتم کئی سالوں سے اسلامی دعوۃ سینٹر چلا رہے تھے۔ اس وقت حکومت نے انھیں کیوں گرفتار کیا ہے۔ کیا اس سے قبل ان کی سرگرمیاں حکومت کی نظر میں نہیں تھیں؟ جوں جوں اترپردیش کے انتخابات قریب آرہے ہیں اس طرح کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔’

پروفیسر واسع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو پہلے سے ہی یہ اطلاع تھی تو پھر اسے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا گیا؟

وہ کہتے ہیں: ‘جو چیزیں رک گئیں تھیں، جیسے ماب لنچنگ، سمگلنگ کے الزام میں لوگوں کو نشانہ بنانا، جے شری رام کے نعرے لگوانا، ان کا آغاز پھر سے ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نفرت کو جان بوجھ کر ایک ڈیزائن کے تحت پیدا کیا جا رہا ہے۔’
قاضی جہانگیر عالم قاسمی

دوسری طرف جمعیت علمائے ہند کے سیکریٹری نیاز احمد فاروقی نے بی بی سی کو بتایا: ‘ہم انھیں طویل عرصے سے جانتے ہیں۔ ہمارے سامنے کبھی ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ اگر پولیس کے پاس شواہد موجود ہیں تو عدالت اپنا کا کام کرے گی۔ نوکری۔ لیکن ہمیں پولیس اور حکومت کے ارادوں پر شکوک و شبہات ہیں۔’

فاروقی کہتے ہیں: ‘عمر گوتم کو جس طرح پیش کیا گیا ہے اس سے ان کی بہت بدنامی ہوئی ہے۔ اگر کل عدالت انھیں باعزت بری کر دے تو کون اس بدنامی کی تلافی کرے گا؟ اگر انھوں نے کچھ کیا ہے تو انھیں سزا ضرور ملنی چاہیے۔ اور اس کے لیے عدالت موجود ہے۔ لیکن ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ پولیس یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے۔ ہم نے ڈاسنا کے نرسمہانند سرسوتی کے خلاف بہت سی شکایات کی ہیں، ایف آئی آر درج کرائی ہے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔’

فاروقی کا کہنا ہے کہ ‘ان کارروائیوں سے حکومت ہند کی ساکھ بھی خراب ہو گی۔ حکومت کو سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔’
محمد عمر گوتم

محمد عمر گوتم کون ہیں؟

محمد عمر گوتم ایک مشہور اسلامی مبلغ ہیں جو بہت سے ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔ وہ دہلی کے جوگا بائی ایکسٹینشن علاقے میں اسلامک دعوۃ سینٹر کے نام سے ایک ادارہ چلاتے ہیں۔
سپریم کورٹ

اپنا تعارف کراتے ہوئے گوتم انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو میں کہتے ہیں: ‘میں اترپردیش کے فتح پور ضلع میں ٹھاکر گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور بیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا۔ میرے خاندان نے اس کی مخالفت کی تھی۔’

اس ویڈیو میں عمر گوتم نے کہا: ‘مجھے اپنے ایک مسلمان پڑوسی سے معلوم ہوا کہ اسلام میں ہمسایہ ہونے کے ناطے میرے کیا حقوق ہیں۔ اسی سے میں اسلام کی طرف راغب ہوا۔ اس وقت مجھے اللہ یا رسول کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔’

عمر گوتم کہتے ہیں: ‘میں نے ایک سال تک اسلام کے بارے میں پڑھا اور پھر سنہ 1984 میں اسلام قبول کرلیا۔ میں نے اپنا نام شیام پرساد گوتم سے تبدیل کرکے محمد عمر گوتم رکھ لیا۔ میں نے پہلے اپنے ہندو دوستوں سے کہا کہ میں اب مسلمان ہوں۔’

گوتم کا کہنا ہے کہ ‘مذہب تبدیل کرنے کے بعد مجھے دھمکایا گیا، حملے بھی ہوئے لیکن میں اپنے ایمان پر ثابت قدم رہا۔ میں نے اسلام کو کسی دباؤ یا کسی بہانے یا شادی کے لالچ میں نہیں بلکہ اسلام سے متاثر ہوکر قبول کیا۔’

محمد عمر کے مطابق انھوں نے اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کو تبدیلی مذہب میں مدد فراہم کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘میں نے اسلام کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے اور اس پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔’
اترپردیش پولیس

ان کا کہنا ہے کہ ‘اسلام قبول کرنے والوں کو اخلاقی اور قانونی مدد فراہم کرنے کے مقصد سے انھوں اسلامی دعوۃ مرکز قائم کیا ہے جہاں ہر مہینے 10-15 لوگ تبدیلی مذہب کے لیے قانونی مدد حاصل کرنے آتے ہیں۔’

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS