مفتی انعام الحق قاسمی : آزادیٔ ہند کا عظیم قائد مولانا ابوالکلام آزاد

0

مفتی انعام الحق قاسمی
مولانا ابوالکلام آزاد کی ولادت 11 نومبر1888 کو مکہ معظمہ میں ایک علمی گھرانے میں ہوئی آپ کے والد محترم مولانا خیر الدین صاحب ایک معتبر مشہور و معروف شخصیت تھے آپ کی والدہ محترمہ عالیہ بنت محمد کا تعلق ایک علمی خانوادے سے تھا مولانا آزاد کے نانا مدینہ منورہ کے معتبر عالم دین تھے جن کی دور دور تک شہرت تھی۔
مولانا آزاد بغرض علاج مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے ہندوستان آگئے اور کلکتہ میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعہ ازہر کا رخ کیا وہاں مشرقی علوم کی تکمیل کی ۔مولانا ابوالکلام آزاد کی مادری زبان عربی ہونے کے باوجود مولانا کو اردو زبان پر دسترس حاصل تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نہایت ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے جن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 15 سال کی عمر میں اپنے علمی اور سیاسی سفر کا آغاز کیا اور ماہانہ جریدہ( لسان الصدق) جاری کیا جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی ستائش کی مولانا آزاد بیک وقت سنجیدہ شاعرانہ مزاج، مفکراسلام، بلند پایہ مقرر، مثالی صحافی اور ایک بہترین مفسر قرآن تھے گویا مولانا اپنے آپ ایک انجمن تھے کیونکہ آپ کی شخصیت ہمہ گیر ہے لہٰذا آپ کی خدمات اور حیات کو چھوٹے سے مضمون میں قلمبند نہیں کیا جاسکتا ہے۔مولانا آزاد کی شخصیت میں تمام تر قائدانہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ ہو کر کیا جب انگریز ہندوستان پر قابض تھے تب انہوں نے الہلال البلاغ جیسے جریدوں کے ذریعے عوام کے اندر آزادی کے لئے قربانیوں کو پیش کرنے کا شعور پیدا کیا ۔ مولانا نے اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں کو اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے تئیں بہت بیدار کیا جب انگریز کو اس بات کی خبر پہنچی کہ مولانا کی تحریریں ہماری جڑیں کھوکھلی کر رہی ہیں تو انگریز نے آپ کے جاری کردہ دونوں جریدوں (الہلال اور البلاغ) پر پابندی عائد کر دی شہر بدر کردیا اور نظر بند کیا گیا طرح طرح کی تکلیفیں مولانا کو دی گئیں لیکن مولانا نے عزم واستقلال کی ایک آہنی دیوار بن کر انگریز کی طرف سے آنے والی تمام تر تکلیفوں اور رکاوٹوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا مولانا ایک نئی صبح کا انتظار کر رہے تھے کہ ہندوستان ایک آزاد مملکت میں تبدیل ہو جائے بالآخروہ سورج طلوع ہو ہی گیا اور انگریز ہندوستان چھوڑ کر چلے گئے مولانا آزاد نے ملک ہندوستان کے لیے بے شمار قربانیاں دیں جن کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ چنانچہ مولانا ابوالکلام آزاد 1947 سے 1958 تک گیارہ سال تک وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز رہے اس دوران مولانا نے تعلیمی اداروں میں اپنی گوناگوں صلاحیتوں سے تعلیم کو پروان چڑھایا اور لوگوں کو تعلیم کے تئیں بیدار کیا مولانا کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ صرف قولی شہادت پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ جو بولتے تھے وہ کر کے دکھاتے تھے مولانا آزاد کے ملک کے پہلے وزیر تعلیم ہونے کے ناطے ان کی پیدائش پر ملک بھر میں یوم تعلیم کا انتہائی تزک و احتشام سے جشن منایا جاتا ہے الغرض مولانا آزاد جو تعلیمات اور نقوش چھوڑ گئے ہیں ان پر ہندوستان آج بھی عمل پیرا ہو کر قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دے سکتا ہے آج مولانا ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی تصانیف و تالیف تقاریر خواہ سیاسی میدان کی ہوں یا عملی یہ تمام مسلمانوں کو پورے شعور کے ساتھ جاگتے رہنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔ مولانا اپنی رحلت سے چند روز قبل فالج کے مرض میں مبتلا ہوئے اور مختصر سی علالت کے بعد 22 فروری کی نصف شب ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی مولانا کا مزار دہلی کی جامع مسجد کے قریب موجود ہے اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو قبر میں کروٹ کروٹ چین وسکون نصیب فرمائے۔ ان کی تمام تر دینی ،ملی، سماجی، خدمات کا پورا پورا بدلہ عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS