مائیں اپنے بچوں کو چھوٹی عمر ہی سے یہ باتیں سکھائیں

0

اپنی اولاد کو چھوٹی عمر ہی سے اپنے کام خود سے کرنے کی عادت کو پروان چڑھانا بے حد ضروری ہے کیونکہ بچپن میں سکھائی ہوئی عادتیں وقت کے ساتھ پختہ ہوتی جاتی ہیں۔ بچپن میں سکھائی ہوئی عادتوں سے ان کی شخصیت میں نکھار بھی آتا ہے۔ 8 سے 12 سال کے بچوں کو کون سے کام ضرور سکھائیں۔
گھر میں سب کی لاڈلی گڑیا اپنا کوئی کام خود نہیں کرتی تھی۔ اس کے اسکول بیگ سے خالی ٹفن اور پانی کی بوتل ماں نکالتی تھیں، تو جوتا ابّا پالش کرتے تھے۔ پھوپھی صبح اسکول کے لئے جگاتیں تو چاچا بس اسٹاپ تک چھوڑ کر آتے تھے۔اس لاڈ و پیار کی وجہ سے اسکول کی پڑھائی تک تو کوئی پریشانی نہیں ہوئی، لیکن جب انجینئرنگ کی پڑھائی کے لئے ہوسٹل میں رہنا پڑا تو ایک دن کچھ عجیب ہوا۔ دراصل ہوسٹل میں بھی روز صبح موبائل پر فون کرکے پھوپھی اسے جگاتی تھیں، لیکن ایک دن طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے وہ فون نہیں کر پائیں اور گڑیا امتحان نہیں دے پائی۔
چائلڈ کاؤنسلر کہتی ہیں کہ گڑیا کی طرح بہت سے بچے والدین کے لاڈ و پیار کی وجہ سے اپنا کام خود نہیں کرتی۔ اسکول لائف تک یہ عادت ٹھیک تھی لیکن آگے کی پڑھائی کے لئے ہوسٹل میں قدم رکھتے ہی وہ پریشانیوں سے گھر جاتے ہیں۔وہاں نہ تو کوئی صبح جگانے والا ہوتا ہے اور نہ ہی زبردستی ناشتہ کرانے والا۔ زندگی میں اچانک آئی یہ تبدیلی انہیں پریشان کر دیتی ہے۔ نتیجتاً پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے اور گھر کی یاد ستانے لگتی ہے۔ اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچے کی توجہ پڑھائی کی جانب اور کریئر پر ہو تو ان میں چھوٹی عمر ہی سے اپنے کام خود سے کرنے کی عادت ڈالیں۔ 8 سے 9 سال کی عمر ہی سے انہیں یہاں بتائے جا رہے گھریلو کام سکھائے جاسکتے ہیں۔
خود سے بیدار ہونے کی عادت
چھوٹی عمر ہی سے بچوں کے معمولات ایسے رکھیں کہ وہ صحیح وقت پر سونے اور جاگنے کے عادی ہوجائیں۔ یہ عادت پوری زندگی کام آئے گی۔ چاہے کالج ہو یا پروفیشنل لائف انہیں کہیں وقت پر پہنچنے میں پریشانی نہیں ہوتی۔
باورچی خانے کے کام
باورچی خانے کے چھوٹے چھوٹے کام جیسے بریڈ پر بٹر یا جیم لگانا، سینڈوِچ بنانا، اپنا ٹفن صاف کرنا، اپنی پانی کی بوتل بھرنا وغیرہ بھی 8 سے 9 سال کی عمر سے بچوں کو سکھائیں ۔ اس سے ضرورت پڑنے پر وہ اپنے لئے کھانے کا انتظام کرسکیں گے۔
کپڑے دھونا
آٹھ سال کی عمر ہی سے بچوں کو اپنے کپڑے خود دھونا سکھائیں۔ شروعات رومال سے کریں۔ اس کے لئے کپڑے دھوتے وقت انہیں اپنے پاس بٹھائیں اور کپڑوں پر صابن لگانا اور کھنگالنا سکھائیں۔ اس کے بعد سب سے پہلے انہیں رومال خود سے دھونے کے لئے کہیں۔ جب رومال صاف کرنا سیکھ جائیں تو دوسرے چھوٹے کپڑے دھونا سکھائیں۔ اس کے بعد انہیں واشنگ مشین کے بارے میں بتائیں۔
اپنی چیزوں کی حفاظت
زیادہ تر مائیں بچوں کی ضروری چیزیں اپنی الماری میں رکھتی ہیں یا پھر ان کی الماری خود ترتیب دیتی ہیں۔ ابتدائی برس میں ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن 8 سے 9 سال کی عمر سے انہیں اپنی چیزوں کی حفاظت کرنا سکھانا چاہئے۔ اس کے لئے انہیں الگ سے الماری دیں اور اس میں اپنے کپڑے، فٹ ویئر اور دیگر ساز و سامان وغیرہ الگ الگ رکھنا سکھائیں۔
اپنا دفاع کرنا سکھائیں
اکثر بچے پڑوس کے دوستوں سے لڑائی جھگڑا ہونے پر والدین کو اپنے دفاع کے لئے بلاتے ہیں۔ والدین کو ان کے مسائل میں دخل دینے کے بجائے ان سے اپنے مسئلے خود سلجھانے کے لئے کہنا چاہئے۔ یہی نہیں ہم جماعت سے لڑائی ہونے پر بھی آپ سے کہنے کے بجائے ٹیچر کے سامنے اپنی بات رکھنے کو کہیں۔ روز روز کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود سلجھانے سے وہ اپنی لڑائی خود لڑنا سیکھیں گے۔
وقت کی اہمیت
بچپن ہی سے بچوں کو وقت کی اہمیت بتانی چاہئے۔ انہیں اپنے کاموں کو وقت پر کرنے کی ترغیب دینا چاہئے۔ بچوں کو نہ صرف وقت کی اہمیت سے واقف کروائیں بلکہ دوسروں کے وقت کی بھی قدر کرنا سکھائیں۔
اپنی چیزوں کی صفائی
اکثر بچے اپنے کپڑے، کھلونے، کتابیں اور دوسرے سامان بکھیر کر رکھتے ہیں، ان عادتوں کو بچپن میں ہی سدھارنے کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو اپنی چیزوں کو ترتیب سے رکھنا سکھائیں۔ یہ عادت آگے چل کر ان کی شخصیت کو نکھارنے کا کام کرتی ہے۔
صبر رکھیں
کئی مرتبہ بچے کھلونے یا پھر کسی دوسرے چیزوں کے لئے ضد کرنے لگتے ہیں اور والدین انہیں چپ کروانے کے لئے ان کی ضد پوری کر دیتے ہیں یہ غلط ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچے کو کچھ چیزوں کے لئے انکار بھی کریں۔ اس سے بچوں میں صبر کا جذبہ پیداہوتا ہے۔
محنت کرنے کی عادت
اکثر بچے محنت سے جی چراتے ہیں۔ بچوں کو کم عمر سے محنت کرنے کی عادت ڈالیں۔