امریکی پابندی سے ماسکو-تہران تعلقات متاثر نہیں ہوںگے: روس

    0

    ماسکو(ایجنسیاں)
     روس نے امریکی دبائو کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر امریکی پابندی سے روس-ایران تعلقات میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ ماسکو ہمیشہ تہران کے ساتھ تال میل برقرار رکھے گا۔ یہ باتیں روس کے معاون وزیر خارجہ سرگئی  ریابکوفنے کہی۔ ریابکوف نے یہ بھی کہا کہ روس نے ’نیو اسٹارٹ معاہدے‘ کے تعلق سے مذاکرات میں امریکہ کو کوئی نئی ڈیڈ لائن نہیں دی تھی ، جو ان کے آخری جوہری ہتھیاروں سے متعلق آخری معاہدہ ہے ، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وقت ختم ہو رہا ہے۔
    اس سے قبل روس نے اعلان کیا تھا کہ اگلے ماہ ایران پر اقوام متحدہ کے اسلحہ کی پابندی ختم ہونے کے بعد وہ تہران کے ساتھ فوجی تعاون کو فروغ دے گا۔روس کے نائب وزیر خارجہ سیرگئی ریاکوف نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے ذریعے ایران پر عائد پابندیاں 18 اکتوبر کو ختم ہوں گی۔ اس کے بعد ایران کے ساتھ ہمارے تعاون میں نئے مواقع پیدا ہوں گے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ فوجی تعلقات قائم کریں گے۔
    دوسری جانب امریکہ نے ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے عائد پابندی کا اطلاق کر رہا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کو 27 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں جن میں ایرانی وزارت دفاع کے اہلکار، ایٹمی سائنس دان، ایران کے جوہری توانائی تنظیم اور کاورباری افراد بھی شامل ہیں۔پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو نہ صرف ان پابندیوں کی حمایت کرنا ہوگی بلکہ ان پر عمل درآمد بھی کرانا ہوگا۔لیکن اقوام متحدہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ فیصلہ واشنگٹن کا اختیار نہیں ہے جبکہ یورپی ممالکت نے متنبہ کیا ہے کا امریکا کو ایسا کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ ایران پر اقوام متحدہ کے اسلحے کی پابندی اب غیر معینہ مدت کے لئے دوبارہ نافذ کردی گئی ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران اپنا طرز عمل تبدیل نہ کرے۔

    سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS