موہن بھاگوت کی نئی پہل

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت اورآل انڈیا امام آرگنائزیشن کے سربراہ امام عمیر الیاسی دونوں ہی دلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان دونوں حضرات نے جو پہل کی ہے وہ تاریخی ہے۔ الیاسی نے دعوت دی اور بھاگوت نے اسے قبول کر لیا۔ موہن بھاگوت مسجد گئے اور مدرسہ بھی گئے۔ موہن جی نے مدرسے کے بچوں سے کھل کر بات کی۔ اس سے ایک دن پہلے موہن بھاگوت نے 5ممتاز مسلم دانشوروں سے بات چیت بھی کی۔ قومی یکجہتی کے لیے موہن جی کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کی شروعات سابق سنگھ پرمکھ کے سی سدرشن نے کی تھی۔ سدرشن جی کنڑزبان بولتے تھے۔ ان کی پرورش اور تعلیم مدھیہ پردیش میں ہوئی تھی۔ وہ اندور میں سنگھ کی شاخ چلاتے تھے۔ وہ میرے ایک خاص دوست تھے۔ وہ تقریباً 60-65 سال پہلے اندور میں میرے گھرپر آنے والے میرے مسلمان اور عیسائی دوستوں سے کھل کر بحث کیا کرتے تھے۔ میرے والد کی لائبریری میں اسلام پر جتنی بھی کتابیں تھیں انہوں نے سب پڑھ رکھی تھیں۔ ان کا یہ پختہ خیال تھا کہ ہندوستان کے ہندو اور مسلمان سبھی بھارت ماتا کی سنتان ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ وہ مل کر رہیں اور ان کے درمیان مسلسل رابطہ بنا رہنا چاہیے۔ جب سدرشن جی سرسنگھ چالک بنے تو انہوں نے 2002میں مسلم راشٹریہ منچ بنوایا، جس کواندرریش کمار کامیابی سے چلارہے ہیں۔ سدرشن جی نے میری اپیل پر خود لکھنؤ جاکر کچھ علمائے کرام اور سماجوادی رہنمائوں سے ملاقات کی۔ اسی سوچ کو اب موہن بھاگوت نے کافی آگے بڑھایا ہے۔ موہن جی نے اپنی بات چیت میں صاف صاف کہا کہ جہاد کے نام پر تشدد اور نفرت پھیلانا اور ہندوؤں کو کافر کہنا کہاں تک ٹھیک ہے؟ اسی طرح انہوں نے اپنے اس بیان کو دہرایا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا ڈی این اے تو ایک ہی ہے۔ یہ سب بھارت ماتا کی سنتان ہیں۔ موہن جی نے مدرسے کے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ان کی تعلیم میں جدید مضامین پڑھانے کی تجاویز بھی دیں۔ موہن بھاگوت کی آمد پر اور بات چیت سے متاثر ہوئے امام الیاسی نے انہیں ’راشٹرپتا‘ تک کہہ دیا۔خوشی سے پھولے سمائے کے بجائے عاجزی سے موہن بھاگوت نے کہا کہ راشٹرپتا تو ایک ہی ہیں۔ ہم سب راشٹر کی سنتان ہیں۔ الیاسی اکثر مجھ سے کہا کرتے ہیںکہ مسلمان تو میں پکا ہوں لیکن میں راجپوت بھی ہوں، یہ مت بھولئے۔ ہندوئوں اور مسلمانوں میں جو لوگ سخت گیر ہیں، انہیں بھاگوت اور الیاسی دونوں سے کافی ناراضگی ہورہی ہوگی لیکن وہ ذرا سوچیں کہ نریندر مودی کی حکومت میں سخت گیروں نے تشدد اور تنگ نظری کا جیسا ماحول بنا رکھا ہے، اس میں کیا یہ ملاقات امید کی کرن کی طرح نہیں چمک رہی ہے؟ پاکستان اور افغانستان میں ان کے رہنمائوں سے جب بھی میری بات چیت ہوتی ہے، وہ سنگھ پر حملہ کرنے سے کبھی موقع نہیں گنواتے ،لیکن کیا اب وہ یہ محسوس نہیں کریں گے کہ یہ جو نیا نظریہ ہندوستان میں چل پڑا ہے، یہ ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ہی متحد نہیں کرے گی، بلکہ قدیم ہندوستان کے پڑوسی ممالک یعنی آریاورت جنوبی ایشیا کے پڑوسی ممالک کو بھی ایک دھاگے میں باندھنے کا کام کرے گی۔ یہی اصلی ’بھارت جوڑو ہے۔‘
(مضمون نگار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]