دھرم سنسد پر مودی کی خاموشی ہندوستانی جمہوریت کاکھلا مذاق

0

وزیراعظم مودی ہندوستان اور دنیا کے مسلمانوں کو کیاپیغام دینا چاہتے ہیں؟: سرکردہ دانشوروں کا سوال
نئی دہلی (پی ٹی آئی) : ’انڈین مسلمس فار سیکولر اینڈ ڈیموکریسی‘(آئی ایم ایس ڈی) نے ہری دوار میں ہونے والی ’دھرم سنسد‘میں ہندوستانی مسلمانوں کی نسل کشی کی مبینہ طورپر اپیل کرنے کے معاملے میں وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی کو منگل کو ’گھناؤنا ناٹک‘اور ہندوستانی جمہوریت کا ’کھلا مذاق‘قرار دیتے ہوئے ان سے پوچھا کہ وہ ہندوستان اور دنیا کے مسلمان کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟۔ آئی ایم ایس ڈی نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم اجتماعی قتل کی مبینہ اپیل پر بھی خاموشی اختیارکرنے والے جمہوری دنیا کے واحد لیڈر ہیں۔ اس نے الزام لگایاکہ کھلے عام نفرت پھیلانے والی دھرم سنسد اسی ’ہندوتو فیکٹری‘کا جزو لاینفک ہے، جس کو وقت بے وقت مودی خود ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ ڈان میں ’گلوبل جینوسائڈواچ‘کے سربراہ ڈاکٹر گریگری اسٹینٹن اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے تبصروں اور2020میں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کے مبینہ’گولی مارو‘نعرے کو لے کر کارروائی نہ کرنے کا بھی ذکر ہے۔ اس بیان میں اداکار نصیرالدین شاہ، ڈاکومینٹری فلم ساز آنند پٹوردھن و شمع زیدی، نغمہ نگار جاوید اختر،فلمی مصنف انجم راجا بلی، صحافی عسکری زیدی، قربان علی، جاوید نقوی اور مصنف رام پنیا سمیت 278دانشوروں کے دستخط ہیں۔ آئی ایم ایس ڈی نے کہاکہ دھرم سنسد پر بولنے اور اس کے ارکان پر ٹھوس کارروائی کرنے کیلئے ملک وغیرملک کے کئی لوگوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیاہے، اس کے باوجود وہ خاموش ہیں اور ان کی ’خاموشی بہت کچھ کہتی ہے‘اور یہ’ہندوستانی جمہوریت کا کھلا مذاق ہے‘۔بیان میں گلوبل جینوسائڈ واچ کے سربراہ ڈاکٹر گریگری اسٹینٹن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے لیڈر ہونے کے ناطے وزیراعظم کا فرض تھا کہ وہ اس کی مذمت کرتے، لیکن انہوں نے ایک لفظ نہیں کہا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2020 میں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے دہلی میں انتخابی جلسے کے دوران مبینہ طور پر ’گولی مارو‘کا نعرہ لگوایا تھا، تب بھی وزیراعظم نے کچھ نہیں کہا تھا اور اب نسل کشی کی اپیل پر بھی وہ خاموش ہیں۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ’وزیراعظم کا خاموشی توڑنے سے انکار اسی گھناؤنے ناٹک کا حصہ ہے‘۔ بیان میں کچھ مہینے قبل آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس تبصرے کا ذکر کیا گیا ہے کہ ’سبھی ہندوستانیوں کا ڈی این اے یکساں ہے‘ اور ’مسلمانوں کے بغیر ہندوتو کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے، اگر کوئی ہندو کہتا ہے کہ مسلمانوںکو بھارت میں نہیں رہنا چاہئے تو وہ ہندو نہیں ہے‘۔ بیان میں مسلمانوں کی نسل کشی کی مبینہ اپیل کو لے کر بھاگوت کی خاموشی پر سوال بھی اٹھایا گیاہے۔ اس میں پوچھا گیا ہے کہ مودی اور بھاگوت اپنی خاموشی سے ملک اور دنیا کے مسلمانوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS