سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہچانے کے لئے مودی کسانوں کا درد سننے کو تیار نہیں :پرینکا گاندھی

0
Image: New Indian Express

دیوبند (اشرف عثمانی؍ ایس این بی) : کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اترپردیش کی انچارج پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مرکز کی نریندر مودی سرکار 90دنوں سے دھرنے پر بیٹھے کسانوں کا درد سننے کو تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان کی طرح ملک کا بھی دل ہوتا ہے۔ اس دل کے دھڑکنے سے ملک زندہ رہتا ہے ،میرا ماننا ہے کہ ہمارے ملک کا دل اس کا کسان ہے جو زمین سے جڑاہوا ہے ۔ زمین کو سینچتا ہے اسے کاشت کے لائق بناتا ہے ۔ اس ملک کا کسان ملک کو زندہ رکھتا ہے لیکن آج جب چودھری ٹکیت کی آنکھوں میں آنسو آتے ہیں تو وزیراعظم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آتی ہے اور انہیں مذاق لگتا ہے ۔انہوں نے مظفرنگر کے بگھرہ میں واقع سوامی کلیان دیوی ڈگری کالج میں منعقدہ کسان پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسان گزشتہ 85دنوں سے دہلی بارڈر پر بیٹھے ہیں ، لیکن زرعی قوانین کی واپسی کا مطالبہ پورا نہیں کیا جارہاہے۔ اگر تینوں زرعی قوانین واپس نہیں ہوتے ہیں تو کسانوں کی حالت مزید خراب ہوجائے گی ، کسانوں کی فصل میں کمیاں نکالی جائیں گی ، جمع خوروں کی موج آجائے گی اور کسان کو ان کی فصل کی لاگت بھی نہیں مل پائے گی ۔ پرینکا گاندھی نے دہلی کی سرحد پر کسانوں کی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ کالے قوانین کی واپسی سے قبل تحریک کو واپس نہیں لیں گے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ کسان تحریک کے دوران جب کسان لیڈر راکیش ٹکیت کی آنکھوں میں آنسو تھے اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی مسکرارہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر لیڈر کو احساس ہونا چاہئے کہ عوام اس پر احسان کرتے ہیں ، مجھے اس کا پورا حساس ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہاکہ دہلی بارڈر پر مظاہرہ کرنے والے کسانوں کی بے عزتی کی گئی، جو کسان اپنے بیٹوں کو ملک کی حفاظت کے لئے سرحدوں پر بھیجتا ہے انہیں بے عزت کیا گیا، انہیں غدار وطن کہا گیا، انہیں دہشت گرد کہا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پوری پارلیمنٹ میں کسان تحریک کا مذاق اڑایا، کسانوں کو پرجیوی کہا ۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ہم کسان مزدور اور ان غریبوں کے ساتھ ہیں جن کو سرکار نے بے یارو مددگار چھوڑ کر کچھ کارپوریٹ گھرانوں کی غلامی کرلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اگر ہماری حکومت برسراقتدار آئے تو کسانوں کو گنے کی ادائیگی جلد سے جلد کرائی جائے گی، مگر وزیر اعظم اپنے وعدے کو بھول گئے اور کسانوں کے گنے کی ادائیگی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ گھرانوں نے ہزاروں کروڑ روپیہ کمایا ہے اور کسان سڑک پر بیٹھ کر پریشان ہے۔ پرینکا گاندھی نے پیٹرول ڈیژل کی قیمتوں میں لگاتارہورہے اضافے کو لے کر بھی حکومت کو گھیرا اور انہو ںنے الزام لگایا کہ اس حکومت کے راج میں مہنگائی میں ترقی ہورہی ہے ۔ پرینکا گاندھی نے سرکار پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کو ہفتہ کے اس دن کا نام اچھا دن کردینا چاہئے جس دن ڈیژل پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔ کیوں کہ مہنگائی کی مار کے چلتے باقی دن تو عوام کے لئے مہنگے دن ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ یہ زرعی قوانین وزیر اعظم ہند کے دوستوں کے لئے جمع خوری کے دروازے کھولے گا ، یہ پرائیویٹ منڈیاں کھولیں گے اور سرکاری منڈیوں کو بند کردیا جائے گا۔ کسانوں سے فصل خریدنے میں من مانی ہوگی ، صحیح قیمتیں نہیں مل پائیں گی،کائونٹریکٹ فارمنگ میں کسانوں سے فصلیں خریدنے میں دھوکہ کیا جائے گا۔ انہو ںنے کہا کہ وزیر اعظم نے گزشتہ انتخاب میں گنے کی بقایا قیمت کی پریشانی حل کرنے کا وعدہ کیا تھا ، لیکن وعدہ پورا نہیں کیا۔ وزیر اعظم کے لئے دو ہوائی جہاز 16ہزار کروڑ روپے میں خریدے گئے اور پارلیمنٹ کو خوبصورت بنانے کے لئے 20ہزار کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے مگر کسانوں کو ان کا 15ہزار کروڑ روپیہ بقایا گنے کا نہیں دیا گیا۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ کسان تحریک کے دوران 200سے زائد کسانوں نے شہادت دی ، مگر وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں کسانوں اور نوجوانوں کی بے عزتی کی۔ سرکار تحریک چلارہے کسانوں کی آواز کچلنا چاہتی ہے مگر کانگریس ایسا نہیں ہونے دے گی اور کسانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر ساتھ رہے گی۔ اس موقع پر آچاریہ پرمود کرشنن ، سابق اسمبلی رکن عمران مسعود ، بجیندر سنگھ ، کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو سمیت علاقہ کے بڑے لیڈران موجود رہے۔ سیکورٹی کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات رہی۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS