جموں وکشمیر کو ملک کا سب سے پرامن مقام بنائے گی مودی سرکار

0

صریر خالد
بارہمولہ (ایس این بی) :وزیر داخلہ امت شاہ نے پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے خود کو کسی بھی معاملے پر کشمیریوں کے ساتھ بات چیت پر ہمیشہ تیار بتایا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت جموں وکشمیر سے دہشت گردی کا صفایا کرے گی اور اسے ملک کا سب سے پرامن مقام بنائے گی۔شاہ نے کہا کہ دہشت گردی سے کبھی بھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا ہے اور 1990 کے بعد سے جموں وکشمیر میں دہشت گردوں نے 42ہزار لوگوں کی جان لی ہے۔ ا±نہوں نے کہا کہ جموںو کشمیر میں حتمی ووٹر لسٹ زیر تکمیل اور دوسری تیاریاں جاری ہیں جن کے مکمل ہوتے ہی یہاں اسمبلی انتخابات کرائے جائیں گے۔
جموں وکشمیر کے سہ روزہ دورے کے آخری دن آج شمالی کشمیر کے اس قصبے میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ میں جموں کشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ کسی بھی بات پر بات کرنے کو تیار ہوں لیکن پاکستان کے ساتھ نہیں۔انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ جموںو کشمیر میں انتخابی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں اور ان کے مکمل ہوتے ہی انتخابی عمل کا اعلان کیا جائے گا۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پر حملہ جاری رکھتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ”عبداللہ اینڈ سنز“ اور ”مفتی اینڈ کمپنی“42000 لوگوں کے مارے جانے کیلئے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا ”ان خاندانوں نے اپنے مفاد کیلئے جموں وکشمیر کے وسائل کو لوٹا لیکن عام آدمی کیلئے کچھ نہیں کیا“۔واضح رہے کہ گذشتہ روز جموں کے راجوری قصبہ میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران بھی امِت شاہ نے نام لئے بغیر ان خاندانوں کی نکتہ چینی کرتے ہوئے لوگوں سے اگلے انتخابات میں جموں وکشمیر کو ان پارٹیوں سے آزاد کرانے کی اپیل کی تھی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بارہمولہ کبھی ملی ٹینسی کا گڑھ تھا لیکن آج یہاں امن ہے اور بڑی تعداد میں سیاح یہاں کے مناظر دیکھنے آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے بغیر جموں وکشمیر کی ترقی نا ممکن تھی۔انہوں نے کہا ”آج (جموں وکشمیر میں) ہمارے پاس بہترین سڑکیں،ریل لنکس،پل اور اسپتال ہیں۔جموں کشمیر میں ایمز (آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ) اور نرسنگ کالجوں کے علاوہ ہمارے پاس 9 میڈیکل کالجز ہیں“۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گوجر،بکروال اور پہاڑی طبقہ کیلئے ریزرویشن کے وعدے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ طبقہ جات گزشتہ 75 سال سے جمہوریت کے فوائد سے محروم رہے ہیں۔امت شاہ کی تقریر کے دوران ایک مقامی مسجد سے اذان بلند ہوتے سن کر انہوں نے وقفہ لیا اور اذان مکمل ہونے پر تقریر بحال کی۔قبل ازیں سرینگر میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں وزیرِ داخلہ نے جموں وکشمیر کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، فوج، خفیہ ایجنسیوں، پولیس ،سی آر پی ایف اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسروں نے شرکت کی۔ان ذرائع کے مطابق مسٹر شاہ کو ایک پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعہ سیکورٹی صورتحال کے بارے میں وضاحت دی گئی اور اعداد و شمار کی شکل میں حالات میں بہتری آنے کے متعلق بتایا گیا جس پر ا±نہوں نے شرکائے اجلاس کی تعریفیں کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیرِ داخلہ نے بے گناہوں کو مت چھیڑو اور مجرموں کو مت چھوڑو کے اصول کے تحت کارروائیاں تیز کر دئے جانے کی ہدایات دیں۔ ذرائع نے کہا کہ ا±نہوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں تیزی لائے جانے کے ساتھ ساتھ جنگجوو¿ں کے اعانت کاروں کا قافیہ حیات تنگ کئے جانے پر زور دیا۔دریں اثنا وزیرِ داخلہ کے وادی میں موجود رہنے کے دوران جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں دو الگ الگ جھڑپوں کے دوران سرکاری فورسز نے کم از کم چار مقامی جنگجوو¿ں کو مار گرایا۔پولیس نے ان جنگجوو¿ں کو کئی معاملات میں مطلوب بتاتے ہوئے انکے مارے جانے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔