انسانیت کی تباہی کیلئے موبائل ہی کافی ہے

0

زین شمسی

کچھ باتیں ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے اور کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر غور کرنے سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ معاشرہ اخلاقی اور روایتی جڑوں کو بالکل کھو چکا ہے، ظاہر ہے کہ انسان کی مفاد پرستی اور سہل پسندی نے اسے سب سے پہلے گھر کے تانے بانے کو توڑنا سکھایا، گھریلو ذمہ داریوں اور گھریلو روایتوں کو نظر انداز کیا جس کا براہ راست اثر سماج پر پڑا اور اس کے بعد اس بکھرائو کا اثر پورے ملک پرپڑنا لازمی ہو گیا۔ مشینوں نے انسان کو سہولیات سے ہمکنار کیا اور بدلے میں اسے تہذیب اور اخلاق سے دور کر دیا۔ اب دنیا وہ نہیں رہی جیسا آج سے بیس برس پہلے ہوا کرتی تھی۔ زمانہ اس تیزی کے ساتھ تغیرپذیر ہوا کہ اس کے بدلنے کا احساس تک نہیں ہوسکا۔ آج بھی بیشتر لوگ اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ دنیا بدل چکی ہے اور اس قابل ہو چکی ہے کہ وہ آپ کو بدل رہی ہے۔گھر اور گھر کا ماحول بالکل بدل چکا ہے۔ یقین نہیں آتا توآپ اپنے گھر کے کسی بچے سے فون چھین کر دیکھئے، وہ نہ صرف غصہ ہوجائے گا بلکہ بدتمیزی کی حد تک احتجاج کردے گا۔ اسی بچے کو آپ پڑھنے کے لیے کہیے، سونے کے لیے کہیے ، باہر کی چیزیں کھانے سے منع کیجیے وہ اتنا سخت ردعمل نہیں دے گا جتنا کہ وہ فون کے چھن جانے سے دے گا۔کیا بچہ اور کیا جوان اور کیا ضعیف، سب کے سب اینڈرائڈ فون سے ایسے لپٹے ہوتے ہیں، جیسے صندل میں سانپ۔وہ کیا دیکھ رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں، کون سا ایپ استعمال کررہے ہیں، اس کی جانکاری بھی نہیں دیتے۔ موبائل کی گھڑی میں دن اور رات کی کوئی قید نہیں ہے۔آن لائن پڑھائی کے بہانے سے ہر بچے کے ہاتھ میں موبائل تھمانے کا کام موبائل انڈسٹری نے بہ حسن و خوبی کر دیا۔آج بغیر کھانا، بغیر کپڑے، بغیر مکان کے تو لوگ رہ سکتے ہیں، لیکن بغیر موبائل کے نہیں اور طرہ یہ کہ موبائل کے ساتھ ساتھ ایئر فون نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ گھر کی عورتیں کان میں ایئر فون ڈال کر کھانا بناتی نظر آتی ہیں، حتیٰ کہ کوکر کی سیٹی بھی انہیں سنائی نہیں دیتی ہے۔ گھر میں اگر کوئی مہمان آگیا تو کوئی اس سے بات کرنے والا نہیں۔ یہ نظارہ بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے کہ میزبان کے ساتھ ساتھ مہمان بھی اپنے موبائل میں مگن رہتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد مہمان اٹھتے ہیں اور خدا حافظ کہہ کر نکل جاتے ہیں گویا یہ اب ایک فارملٹی رہ گئی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی خیریت کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ یہی نہیں موبائل نے بچوں کوکتابوں سے بالکل الگ کر دیا ہے۔ اگر ان سے کبھی کہا بھی جاتا ہے کہ پڑھو تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ گوگل سے پڑھ رہا ہوں، یعنی ادھ پکی جانکاریوں کے ساتھ بچوں کی تعلیم مکمل ہو رہی ہے۔ کھیل کے میدان سونے پڑے ہیں کیونکہ فٹ بال اور کرکٹ بھی موبائل پر کھیل کر جیت کا جشن منالیا جاتا ہے۔ بچوں پر اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ اسکول کے بعد گھر کا کوئی کونہ پکڑ لیتے ہیں اور جب تک اوب نہیں جاتے یا بیٹری ڈسچارج نہیں ہو جاتی موبائل ان کے ہاتھ سے چھوٹتا نہیں۔ بڑوں کا بھی یہی حال ہے۔ یعنی ڈانٹ کھانے والے اور ڈانٹنے والے دونوں ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔جس موبائل کو انفارمیشن کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے وہ دراصل حسن اخلاق ، تہذیب اور وراثت کو ختم کرنے کا سب سے بڑا آلہ کار بن چکا ہے۔ اسی موبائل کا کرشمہ ہے کہ لوگوں کو ایک طرح کا مائنڈ سیٹ بنانا آسان ہو گیا ہے۔سچی اور صحیح اطلاعات کے بدلے جھوٹی اور افواہوں سے بھرپور اطلاعات نے لوگوں کو اسمارٹ بنانے کی جگہ بے وقوف بنا کر رکھ دیا ہے۔
ابھی ملک نے جشن آزادی کا امرت مہوتسو منایا۔ ملک کے تقریباً تمام حصوں اور خطوں میں متعدد پروگرام منعقد کیے گئے۔ آزادی کا گیت گایا گیا اور آزادی پر فخر یہ سمینار بھی منعقد ہوئے۔جشن آزادی بھی ہماری روایت کا حصہ ہے۔ اس دن ہم اپنے ان اسلاف کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے خاک وطن پر اپنی جان قربان کر دی۔ انہیں یاد کرتے ہوئے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو ہم آج بھی غلام ہوتے۔ ایسا کہا بھی جاتا ہے اور کہلایا بھی جاتا ہے، مگر ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا کہ آزادی کا مقصد کیا تھا۔ کیا اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہمیں انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنی ہے یا پھر یہ کہ ملک میں رہنے والا ہر انسان آزاد فضا میں سانس لے۔ آزادی سے بولے، آزادی سے کھائے ، آزادی سے پہنے ، آزادی سے پڑھے اور ہندوستان کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط سے مضبوط تر کرے۔ کیا یہ تمام مقاصد مکمل ہوچکے ہیں یا ہم پھر سے غلامی کے طوق میں جکڑ ے جارہے ہیں۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ آزادی کا فائدہ کسے ملا اور کس کو مل رہا ہے۔کتابوں میں درج آزادی کے حصول و مقاصد کو بھلایا جا رہا ہے اور موبائل کے ذریعہ غلط تاریخ کی تشہیر کی جارہی ہے اور اس تشہیر میں اصل مجاہدین آزادی کی کہیں تصویر بھی نظر نہیں آتی۔ ہم بھٹک رہے ہیں کیونکہ بھٹکانے کا آلہ ہر وقت ہمارے ہاتھوں میں جھولتا رہتا ہے، جسے ہم اپنی آسانی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہ ہمیں ہر وقت پریشانیوں میں مبتلا کر رہا ہے۔
موبائل نے تعلیم اور کلچر کو بالکل تباہ کر دیا ہے، مگر اس سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ یہ سماج اور ملک سمیت نئی نسل کو ایک ایسی دنیا میں لے جارہا ہے جہاں رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی، احساسات کا گزر نہیں ہوگا، جذبات کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی، ضمیر کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ہم اپنے سامنے خود کو برباد ہوتے دیکھتے رہیں گے اور کچھ نہیں کر پائیں گے۔ایک بار دنیا نے ایٹم بم کی تباہی دیکھی تھی، اب انسانیت کی تباہی کے لیے موبائل ہی کافی ہے۔ اسی لیے میں نے لکھا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر غور کرنے سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ہم غلام ہو چکے ہیں۔
(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں)
[email protected]