’’سر سید کا مشن‘‘ مدرستہ العلوم سے منٹو سرکل تک‘‘

0

سید عتیق الرحیم

سرسید احمد خاں کی پیدائش کو200 سال سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ 2022 کے سر سید ڈے میں ہم ان کی 2005ویں سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، پوری دنیا میں الگ الگ انداز میں سر سید کو خراج عقیدت پیش کیے جانے کا طریقہ سیکڑوں سالوں سے جاری ہے۔یہاں یہ بات ذکر کرنا ضروری ہے کہ 2022میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بھی 102 سال مکمل ہوگئے ہیں، یونیورسٹی کے قیام اور تاریخ پر تو متعدد مضامین چھپتے ہیں اورجلسوں میں گفتگو بھی ہوتی ہے لیکن سر سید کی اصل محنت اور جذبہ یہ تھا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں مسلمان کامیاب ہوں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے مدرسہ کی بنیاد ڈالی اور ایسے شاندار مقصد کے تحت چلایا کہ دین بھی بچا رہے، شریعت بھی محفوظ رہے اور ہندوستان کی ترقی میں بھی مسلمانوں کا اہم رول رہے۔ تعلیم کا میدان ہو یا کھیل کا، فلمی دنیا کا اسٹیج ہو یا سیاست کا، مسلمان ہر شعبہ میں سرفہرست رہے ہیں۔سرسید کا یہی خلوص اور جذبہ تھا کہ ان کا مدرسہ ترقی کرتا گیا ،کالج بنا اور یونیورسٹی کا درجہ بھی حاصل کر لیا باوجود اس کے کہ اس دور میں بھی مسلمانوں کے لیے حالات اچھے نہیں تھے بلکہ آج سے زیادہ خراب تھے لیکن سر سید نے حالات کا رونا نہیں رویا، جذبات کے سمندر میں نہیں بہے بلکہ بہت حکمت عملی کے ساتھ، دوراندیشی کے ساتھ اپنے مقصد میں لگے رہے اور یہی وجہ ہے کہ مدرسہ سے شروع ہوا ادارہ اپنے تمام تشخص کے ساتھ ہندوستان اور پوری دنیا میں مسلمانوں کی سربلندی کا گواہ ہے۔ مدرستہ العلوم کا بیج بویا،محمڈن اینگلو اورینٹل کالج اس کا پودہ بنا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک تناور درخت کی شکل میں موجود ہے۔ضروری ہے کہ اس کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالی جائے۔سر سید کا ذہن اپنی کلیت میںامتزاجی بھی تھا اور صورتحال کے انتشار میں بھی اپنی قوت آخذہ کے طفیل نتائج اور اثرات کی نوعیت پر حاوی بھی، چنانچہ 1857 میں انہوں نے سائنٹفک سوسائٹی کے قیام اور اس کے لائحہ عمل کا خاکہ اصولی اور نظریاتی تفصیل پر مبنی رکھنے پر اکتفاکیا تھا، جس کا عملی ثبوت محض 10 سال کے عرصے میں اس طرح پیش کرنا شروع کر دیا تھا کہ پہلے سائنٹفک سوسائٹی کے نام سے انگریزی علوم بالخصوص سائنس کی کتابوں کے تراجم اور لیباریٹری میں زراعت اور روزمرہ کی دوسری تجرباتی کاوشیں روبہ عمل آئیں اور 1875آتے آتے مدرستہ العلوم کا با قاعدہ قیام عمل میں آگیا۔سر سید نے اپنی تعلیمی تحریک کا جو عملی آغازمدرسہ قائم کر کے کیا تھا، اس کے محرکات و عوامل کے ساتھ ایک تعلیمی ادارے کے قیام کے ساتھ وابستہ مسائل مثلاً زمین کی فراہمی، عمارت کی تعمیر، اساتذہ اور طلبا کی تعداد، نوعیت، طریقہ تعلیم اور ذریعہ ترسیل جیسے بیش تر مسائل درپیش تھے، مدرسہ ان مراحل سے گزر کر آج ہمارے سامنے ایس ٹی ایس(سیدنا طاہر سیف الدین اسکول) کی شکل میں موجود ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا یہ اسکول جو منٹو سرکل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس کی تاریخ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس کے پیش رو ایم اے او کالج سے بھی زیادہ پرانی ہے، کیونکہ ایم اے او کالج کے آغاز کا سرچشمہ یہی اسکول تھا جو 1875میں قائم کیا گیا تھا۔یہ اسکول کب اور کہاں قائم ہوا تھا اور گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سو سالوں میں کن کن مراحل سے گزر کر آج ہمارے سامنے ایس ٹی ایس کی صورت میں موجود ہے، یہ ایک خاصی دلچسپ اورطویل داستان ہے جس کے دوران یہ اسکول مختلف نشیب و فراز سے گزرا ہے۔
سرسید کی تعلیمی تحریک کے ابتدائی مرحلوں کا ذکر کرنے سے قبل چند تاریخی پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ 1857 میں ہندوستان کی جنگ آزادی کے شروع ہونے سے چند مہینے قبل ہی تین مختلف پریسیڈینسیوں میں تین یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آچکا تھا یعنی کلکتہ یونیورسٹی، ممبئی یونیورسٹی اور مدراس یونیورسٹی یہ تینوں یونیورسٹیاں حالانکہ تدریسی نہیں تھیں بلکہ غیر تدریسی یونیورسٹیاں تھیں جو صرف امتحان لینے اور ڈگریاں دینے کے فرائض انجام دیتی تھیں، اس وقت کے شمالی ہندوستان میں موجود چند کالج جن میں آگرہ کالج ،دہلی کالج اور بریلی کالج، کلکتہ یونیورسٹی ہی سے وابستہ تھے اور ان کے بعد قائم کیا گیا محمڈن اینگلو اورینٹل کالج بھی ابتداء میں کلکتہ یونیورسٹی ہی سے وابستہ رہا۔ سر سید نے اسی تناظر میں 1864میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کرکے اپنی تعلیمی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ اس ضمن میں سر سید کے تین بنیادی معروضات تھے جیسے ہندوستانی مسلمانوں کی تمام تر ناکامیوں ،محرومیوں اور نا امیدوں کی وجہ جدید علوم سے دوری ہے ، اس کے ساتھ دوسری وجہ وہ سمجھتے تھے کہ جدید علوم کی تعلیم اور تدریس کو رائج و عام کیا جانا بے حد ضروری ہے۔ سر سید کا یہ بھی ماننا تھا کہ یہ تعلیم اس وقت تک عام نہیں کی جا سکتی ہے جب تک کہ اس کی تدریس مقامی زبانوں میں نہ کی جائے۔ جہاں تک سر سید کی پہلی دو معروضات کا تعلق ہے، اس وقت کی نوآبادیاتی سرکار اور انگریزی معاشرت کے پروردہ ابھرتے ہوئے مڈل کلاس کو انہیں باور کرانے میں کوئی عار نہ تھی لیکن یہ بات کہ جدید علوم کی تعلیم اور تدریس اردو میں ہو، اس کو حکومت اور اس کے پروردہ خواص سے باور کرانے کے لیے سر سید کو اپنی انتہائی کوششوں کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آج بھی ہمارے ملک میں ایک بھی مقامی زبان اتنی ترقی یافتہ نہیں ہے کہ اس کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم خاص طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم و تدریس کا انتظام کیا جا سکے، اسی وجہ سے ہمارا ملک ہی ان چند بد قسمت ممالک میں سے ایک ہے جس میں اعلیٰ تعلیم و تدریس کے لیے ایک قطعی نامانوس غیر ملکی زبان کا سہارالیا جاتا ہے ورنہ دنیا کے پیشتر ممالک فرانس ،جرمنی،اٹلی، جاپان،چین،روس یہاں تک کہ کوریا اور تا ئیوان جیسے چھوٹے ممالک تک اپنی زبان میں درس و تدریس و تحقیق کے ساتھ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔
سرسید نے علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم کرنے کے ارادے سے 1872 میں ایک کمیٹی ’’محمڈن اینگلو اورینٹل کالج فنڈ کمیٹی‘‘قائم کی تھی۔ اس کمیٹی نے بنارس میں10 جنوری1874 کے اپنے اجلاس میں یہ تجویز منظور کی تھی کہ علی گڑھ میں جو زمین پرانی پریڈ گرائونڈ کے نام سے فوج کی چھائونی کے علاقے میںبے کا ر پڑی ہے، اسے مدرسے کی تعمیر کے واسطے حکومت سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور کمیٹی کے سکریٹری کو اختیار دیا گیا کہ وہ اس سلسلے میں گورنمنٹ سے خط و کتابت کریں اور اگر زمین حاصل کرنے میں کامیابی ہوجائے تو اس پر مدرسے کی عمارتوں کی تعمیر کا کام شروع کرائیں۔کالج فنڈ کمیٹی کے اجلاس میں جو 19 مارچ1874 کو بنارس میں ہوا تھا، کمیٹی کے سکریٹری سید احمد خاں نے یہ اطلاع دی کہ مسٹر جی ایچ لائورینس سابق کلکٹر علی گڑھ نے کمیٹی کو مطلع کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر نے مذکورہ زمین کو مدرسہ بنانے کے لیے دو شرطوں کے ساتھ دے دیا ہے، پہلی شرط یہ تھی کہ میونسپلٹی کا معمولی ٹیکس کمیٹی کو دینا ہو گا، دوسری شرط یہ کہ سرکاری سڑکوں سے فاصلہ معینہ کے اندر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی جائے گی، کالج فنڈ کمیٹی نے اس خط کے ذریعہ دیے گئے زمین کے عطیہ کو ان کی دو شرائط کے ساتھ منظور کرلیا اور کمیٹی کے سکریٹری سید احمد خاں نے کلکٹر جی ایچ لائورینس کو شکریہ کا خط بھی لکھا۔کالج فنڈ کمیٹی نے 18اپریل 1875کے اجلاس میں یہ منظور کیا کہ یکم جون1875 سے ہی مدرسہ جاری کیا جائے گا اور سکریٹری اخباروں میں تاریخ مذکورہ سے مدرسہ جاری کیے جانے کا اشتہار چھپوا دیں کہ جو لوگ اس مدرسہ میں داخلہ لینے کے خواہشمند ہیں، وہ علی گڑھ کے سب آرڈینیٹ جج مولوی سمیع اللہ خاں سے رابطہ کریں۔ اسی کے ساتھ ہی یہ تجویز بھی منظور ہوئی کہ جب تک مدرسہ کی تعمیر نہیں ہوجاتی، ان بنگلوں میں جو کمیٹی نے پہلے سے خرید لیے تھے، مدرسے کے طلباکی تعلیم اور تدریس کا کام شروع کیا جائے لیکن اس کے بعد ہی کمیٹی نے20مئی 1875کے اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ مدرسہ جو ایک جون سے شروع کیا جانے والا ہے، اس کا افتتاح 24مئی1875بروز دوشنبہ کیا جائے، اس طرح صرف4دن کے قلیل نوٹس پر24 مئی کو کولین کے بنگلہ نمبر3یعنی موجودہ گیسٹ ہاؤس نمبر2میں ایک چھوٹا سا جلسہ کیا گیا جس میں سر سید موجود تھے۔ ابتدائی تعلیم کے افتتاح کی رسم ادائیگی کی گئی۔ اس جلسے کی صدارت مولوی محمد کریم ڈپٹی کلکٹر علی گڑھ نے کی اور اس طرح یکم جون سے ابتدائی درجات کی تعلیم شروع ہو گئی۔ یکم جون1875 میں ہی چند اساتذہ کا تقرر ہوا جس میں مولوی ابوالحسن ، مولوی محمد اکبر مدرس عربی(سنی جماعت)، مولوی محمد سید جعفر علی مدرس عربی(شیعہ جماعت)،مولوی نجف علی مدرس فارسی اور اردو اور مولوع عبد الرزاق مدرس دوئم فارسی و اردو کا تقرر عمل میں آیا اور ان لوگوں نے با قاعدہ مدرسے میں تدریس کا کام انجام دینا شروع کر دیا۔ سر سید کے مشن تعلیم کی بنیاد دینی تعلیم تھی، انکا اہم مقصد بھی یہی تھا کہ اس ادارے سے جو طلبا فارغ ہوں، ان کے ایک ہاتھ میں سائنس و فلسفہ اور دوسرے ہاتھ میں قرآن مجید اور پیشانی پر لا الہ اللہ کا تاج ہو اور ساری زندگی سر سید نے اسی مقصد کے تحت محنت و مشقت کی، ان کے ذریعہ قائم کیا گیا مدرسہ ترقی کرتے ہوئے ان کی زندگی میں ہی ایم اے او کالج بنااور یہی کالج منٹو سرکل اسکول میں تبدیل ہوا۔27 مارچ1898 کو سر سید کا انتقال ہو گیا۔ سر سید کے انتقال کے بعد سید محمود کالج ٹرسٹ کے سکریٹری مقرر ہوئے، انہوں نے تقریباً9 مہینوں تک سکریٹری ٹرسٹیان کے فرائض انجام دیے ،8مئی1903 میں سید محمود کا سیتا پور میں انتقال ہو گیا۔سر سید کے اس خواب کو آگے بڑھانے میں محسن الملک کا اہم رول رہا ہے۔ محسن الملک نے اسکول اور اسکول کے بورڈنگ ہائوسوں کا جو نقشہ مسٹر کیٹس کے ذریعہ تیار کروایا تھا وہ نقشہ مسٹر کیٹس کے ذریعہ کسی طرح کے ردوبدل یا ترمیم کے انکار کی وجہ سے واپس کر دیا گیا تھا منٹو سرکل کے نئے بورڈنگ ہائوسوں کا نقشہ خان بہادر جعفر حسین جو جھانسی میں ڈویزنل انجینئر تھے انہوں نے بنایا تھا، انہی کے زیر نگرانی منٹو سرکل کی عمارتوں کی ابتدائی تعمیر کا آغاز ہوا تھا۔ 21 جنوری 1909 کو سر جان ہیوٹ نے عبید اللہ ہاسٹل کا افتتاح کیا اسی کے ساتھ دو دیگر ہاسٹلوں تصدق رسول ہاسٹل (یعنی منٹوڈی)اور خان زمان ہاسٹل(یعنی منٹو بی)کا سنگ بنیا د بھی رکھا۔ نومبر 1909تک منٹو سرکل کے اندر عبیداللہ ہاسٹل میں کمرے وغیرہ مکمل تیار ہونے کے بعد کالج کے طلباکی رہائش کے لیے استعمال کیے جانے لگے تھے۔ منٹو سرکل میں چار’’یو‘‘کی شکل کے ہاسٹل موجود ہیں جن کے نام اس طرح ہیں عبیداللہ ہاسٹل (منٹو اے)خان زمان ہاسٹل(منٹو بی)جمال ہاسٹل(منٹو سی)اور تصدق رسول ہاسٹل (منٹو ڈی)ان ہاسٹلوں کی تعمیر کے لیے زرعطیہ فراہم کرنے والوں کے نام سے ہی ان ہاسٹلوں کو موسوم کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی ایگزیکٹیو کونسل کی ایک میٹنگ 14 جون 1932 میں ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی اسکول اور انٹر میڈیٹ کالج دونوں میں اس سال 16 جون سے گرمیوں کی چھٹی کر دی جائے تاکہ یونیورسٹی اسکول کو منٹو سرکل میں منتقل کیا جا سکے اور اسکول کی نئی تعمیر شدہ عمارت جس میں اب تک انٹر میڈیٹ کی کلاسیں اور اسکول کی کلاسیں قائم تھیں، اس میں ضروی ترمیمات توسیع و مرمت کے کام کو مکمل کرنے کے بعد اس عمارت میں یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو منتقل کیا جا سکے۔ اس طرح یکم جولائی1932کو یونیورسٹی ہائی اسکول منٹو سرکل میں منتقل کیا گیا اور اسکول کے لیے تعمیر کی گئی تیکونیہ باغ کی نئی عمارت میں فزکس ڈپارٹمنٹ قائم کیا گیا تھا۔اسی طرح یکم جولائی 1932 میں پہلی مرتبہ منٹو سرکل میں موجود کل عمارتیں یونیورسٹی اسکول کی کلاسوں کی تدریس نیز اسکول کے طلباکی رہائش کے واسطے وقف کر دی گئیں۔ اس وقت ان عمارتوں کو کس طرح سے استعمال کیا گیا تھا، اس کی ایک جھلک 1932-1933کی اسکول سالانہ رپورٹ میں درج ہے۔ منٹو اے (یعنی عبیداللہ ہاسٹل)کا استعمال سائنس روم صرفہ کا کام اور نویں دسویں کلاسوں کے مختلف سیکشن قائم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔منٹو بی(یعنی خان زماں ہاسٹل)کی بالائی منزل اسکول کے آفس اور چوتھی سے آٹھویں کلاس تک کے مختلف سیکشن قائم کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی ساتھ ہی منٹو ڈی(یعنی تصدق رسول ہاسٹل)کو پرائمری سیکشن سے لے کر تیسری کلاس تک کی تدریس کے لیے استعمال کا ارادہ کیا گیا تھا، بعد میں اس میں مختلف تبدیلیاں بھی ترقی کے ساتھ ساتھ آتی رہیں۔اسکول نے اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی سرزمین کو متعدد سیاسی ،فکری اور فنکارشخصیات سے نوازا، جن میں سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری ،شاعر احمد علی،ہندوستانی سنیما کے شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر ،افسانہ نگار راجارائو مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب، کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں بھی ہندوستان کی سربراہی کی ہے جن میں ظفر اقبال (ہاکی کیپٹن )لالا امر ناتھ(کرکٹ کپتان)قابل ذکر ہیں،اس کے علادہ بھی متعدد شعبوں میں اسکول و یونیورسٹی کا نام روشن کرنے میں عرفان حبیب(مشہور مؤرخ)،اخلاق الرحمان قدوائی، سید ضیاء الرحمن ،طلعت محمود نے بھی اہم رول ادا کیا ہے۔ موجودہ وقت میں سیدنا طاہر سیف الدین اسکول منٹو سرکل ڈائریکٹوریٹ آف اسکولز ایجوکیشن کے ڈائریکٹر پروفیسر اسفر علی خان کی نگرانی میں ترقی کر رہا ہے۔
[email protected]